فتاویٰ جات: اجتماعی نظام
فتویٰ نمبر : 24130
(237) کھوجی کتے کی نشاندہی پر چور کا ہاتھ کاٹنا؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 16 November 2017 11:34 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

چور کو تلاش کرنے اور چوری کا سامان برآمد کرنے کے لیے کھوجی کتوں سے راہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔ کیا ایسا کرنا درست ہے؟ کیا کتوں کی نشاندہی پر اعتبار کیا جائے گا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ کھوجی کتوں کی نشاندہی کو سامنے رکھ کر تحقیق و تفتیش کی جائے گی۔ کھوجی کتوں کا کھرا نکالنے سے قرائن و شواہد تو حاصل کیے جا سکتے ہیں لیکن کتے کی نشاندہی پر حد جاری نہیں کی جائے گی یعنی چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔

  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ افکارِ اسلامی

حدود و تعزیرات،صفحہ:516

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)