فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2408
(167) صورت مسؤلہ میں جو مسجد گوشہ زنانہ میں بنائی گئی ہے
شروع از بتاریخ : 14 February 2013 08:01 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مئلہ میں کہ ایک آدمی نے اپنے مکان زنانہ کے گوشہ میں ایک مسجد تعمیر کروائی، اس غرض ونیت سے، کہ صرف اس مکان کی عورتیں اس مسجد میں نماز پڑھیں، اور بوجہ پردہ کے اذان و اقامت ہو نہیں سکتی ہے پس ایسی صورت میں اس پر مسجد کا حکم ہو گا یا نہیں، اور بلا اذن مالک مکان کے غیر عورتوں کو اس مسجد میں جا کر نماز پڑھنے کا حق ہے یا نہیں، اور اگر اس مسجد میں اذان و اقامت نہ ہو تو بانی مسجد گناہ گار ہو گا یا نہیں، اور اس بستی میں ایک مسجد عام ہے، کہ جس کی اذان کی آوا ز بخوبی اس مسجد میں بھی آتی ہے، تو وہی اذان اس مسجد کے واسطے کافی ہو گی یا نہیں، اور زمین اس مسجد زنانہ کی موقوفہ ہو جاوے گی یا نہیں۔ بینوا توجروا

____________________________________________________________

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صورت مسئولہ میں جو مسجد گوشہ مکان زنانہ میں تعمیر کی گئی ہے اس پر حکم و اطلاق مسجد کا ہو سکتا ہے، گو اس میں اذان نہ ہو، اور نہ بانی مسجد آثم ہو گا اور نہ زمین اس کی موقوفہ ہو گی، چنانچہ بخاری شریف میں ہے:
ان عتبان بن مالك وھو من أصحاب رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم ممن شھدا بدوا من الأنصار انه لقومی فإذا کانت الا مطار سال الوادی الذی بینی و بینھم لم استطع ان آتو مسجد ھم فاصلی بھم ودودت یا رسول اللّٰہ انك تاتیتی فتصلی فی بیتی فاتخذہ مصلی فقال لہ رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم: «سا فعل إن شاء اللّٰہ تعالیٰ» قال عتبان فغدا علیّ رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم و ابو بکر رضی اللہ عنہ حین ارتفع النھار فاستأذن رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم فاذنت لہ فلم یجلس حین دخل البیت ثم قال این تحب أن أصلی فی بیتك قال فاشرت لہ الی ناحیة من البیت فقام رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم فکبر فقمنا فصففنا فصلی رکعتین ثم سلم
’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی عتبان بن مالک بدری نے آپ سے عرض کیا، یا رسول اللہ میری نظرکمزور ہے اور میں قوم کا امام ہوں۔ جب بارشیں ہوتی ہیں اور نالے بہنے لگتے ہیں تو میں مسجد میں آ کر ان کو نماز پڑھا نہیں سکتا میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے گھر تشریف لائیں اور میرے گھر میں نماز پڑھیں، میں اس جگہ کو مسجد بنا لوں گا تو آپ نے فرمایا انشاء اللہ میں آؤں گا، پھر آپ اور ابو بکر رضی اللہ عنہ دن چڑھے تشریف لائے آپ اجازت لے کر گھر میں داخل ہوئے تو آپ بیٹھے نہیں اور فرمایا کہ تو کہاں چاہتا ہے کہ میں تیرے گھر میں نماز پڑھوں، میں نے مکان کے ایک گوشہ کی طرف اشارہ کیا، آپ نے کھڑے ہر کر وہاں تکبیر کہی اور ہم نے آپ کے پیچھے صف بنائی، آپ نے دو رکعت پڑھی اور پھر سلام پھیرا۔‘‘
"وفی العالگیرتہ من بنی مسجد الم یزل ملکہ عنہ حتی یفرز عن ملککہ بطریقہ باذن بالصلوة فیہ وأیضا فیھا۔ سئل ابو بکر الاسکاف عمن بنی مسجد ا علی باب دارہ ووقف ارضا علی عمارتہ فمات ھو وخرب المسجد واستفتٰی ورثتہ فی بیعھا فافتوا بالبیع۔ وایضا فیھا ولیس علی النساء اذان ولا اقامة فان صلین بجماعة یصلین بغیر أذان وإقامة وان صلین جازت بھا صلوتھن بھا مع الاساءة  ھکذا فی الخلاصہ"
’’اگر کوئی مسجد بنائے تو جب تک اس کو اپنی ملکیت سے خارج نہ کرے اور نماز کی عام اجازت نہ دے وہ اس کی ملکیت میں رہے گی، اگر کوئی شخص اپنے مکان کے دروازے پر مسجد بنائے اور اس زمین کو اپنی عمارت پر وقف کر دے اور مر جائے اور مسجد ویران ہو جائے تو اس کے وارث اس زمین کو بیچ سکتے ہیں، عورتوں کے لیے اذان اور اقامت نہیں ہے اگر وہ جماعت سے نماز پڑھیں تو بغیر اذان اور اقامت کے پڑھیں گی۔ اور اگر وہ نماز پڑھ لیں، تو ان کی نماز کراہت سے ہو جائے گی۔‘‘
نیز یہ کہ غیر عورتیں بلا اذن اس میں جا کر نماز نہیں پڑھ سکتی ہیں۔ واللہ اعلم
(سید محمد نذیر حسین (فتاویٰ نذیریہ ص ۲۱۸ جلد اول)


فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 09 ص 


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)