فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2406
(4) جس زمین میں مسجد بنائی جائے اس کا وقف ہونا ضروری ہے
شروع از بتاریخ : 14 February 2013 07:57 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جس مسجد کی زمین وقف نہیں ہے، بلکہ اس کی زمین خراجی ہے اور یہ زمین فی الحال ایک ہندو کے پاس گرو ہے، اور مرتہن نیلام کے لیے مستعد ہے، فقط مسلمانوں کے ڈر سے نیلام نہیں کرتا ہے۔ ایسی زمین میں مسجد درست ہے یا نہیں، اور مسجد کیسی زمین میں ہونی چاہیے اور وقف کی کیا تعریف ہے، بینوا توجروا

______________________________________________________________

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

 زمین مذکورہ میں مسجد بنانا درست نہیں ہے، اس واسطے کہ جس زمین میں مسجد بنائی جاوے اس زمین کا وقف ہونا ضروری ہے اور صورت مسئولہ میں زمین مذکورہ وقف نہیں ہے۔ اور وقف کی تعریف یہ ہے۔
"ھو حبس العین علی حکم ملک الواقف والتصدیق بالمنفعة ولو فی الجملة"
’’یعنی حبس کرنا عین کو ملک واقف کے حکم پر اور صدقہ کرنا منفعت کا، اگرچہ فی الجملہ ہو‘‘
اور صاحبین کے نزدیک وقف کی تعریف یہ ہے۔
"ھو حبسھا علی حکم ملك اللّٰہ وصرف منفعتھا علی من احب ولو غنیا فیلزم فلا یجوز له ابطالہ ولا یورث عنہ علیه الفتوى کذا فی الدر المختار"
’’یعنی حبس کرنا عین اللہ کے ملک کے حکم پر، اور صرف کرنا اس منفعت کا جس پر چاہے، اگرچہ وہ غنی ہو، پھر جب واقف کی ملک سے خارج ہوا، تو وقف لازم ہو گیا، تو واقف کو اس کا باطل کر دینا جائز نہیں اور اس کا وارث اس کو واراثت میں نہیں پاوے گا۔ اور صاحبین ہی کے قول پر فتویٰ ہے،‘‘
کذا فی غایۃ الاوطار واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ حررہ عبد الرحیم عفی عنہ۔
(سید محمد نذیر حسین (فتاویٰ نذیریہ ص ۲۱۴ جلد اول)

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1 ص 25۔26

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)