فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2405
(3) کوئی زمین اس وقت مسجد نہیں ہو سکتی جب تک کہ اس کے مالک کا تعلق تمام وجوہ سے نہ اٹھ جائے
شروع از بتاریخ : 14 February 2013 06:56 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے مکان کے چند پرنالے جنگی عرصہ دراز سے بجانب ایک قطعہ اراضی افتادہ آتے تھے، عرصہ تقریباً چالیس سال کا ہوا کہ زمین افتادہ مذکورہ پر زر چندہ سے مسلمانان اہل محلہ نے مسجد تعمیر کی، بروقت تعمیر مسجد بانیان نے پر نالہائے جنگی مذکورہ مالک مکان مذکورہ کو قلفی دار کرا کر اندرون مسجد قائم رکھے، چنانچہ دو پرنالے حرف (ا)و (ب) جو دلان مسجد کی حد میں آئے، ان کو مسجد کی چھت پر لے کر پانی ان کا پشت مسجد کے کوچہ میں اتار دیا، اور دو پرنالے (ج) و (دال)، صحن مسجد میں واقع ہوئے، ان کا پانی لینے کے واسطے ایک نالی زیر دیوار مکان زید برنگ سرخ از حرف (ز) تا (ح) سرا سرحق پشتہ برنگ زرد چھوڑ کر تعمیر کی گئی، اس نالی میں ایک پرنالہ حضرت (واؤ) خاص مسجد کی چھت کا، اور دو پرنالے مذکورہ مکان زید کے صحن مسجد میں واقع ہوئے تھے لے لیے گئے، اور نالی مذکورہ ہمراہ فرش صحن مسجد پتھر کے چوکون سے ڈھانک دی گئی، پانی پرنال ہائے مذکورہ کا بذریعہ نالی مذکورہ وضو کی نالی کشادہ میں ملا دیا گیا۔ چنانچہ اسی شکل میں اب تک جاری ہے، علاوہ ان کے ایک پرنالہ حرف (ہ) جو مکتب خانہ کی چھت پر سے ہو کر آ رہا ہے، اس کا پانی مکتب خانہ کی چھت کے پرنالہ قلفی دار میں سائل ہو کر وضو کی نالی میں آتا ہے۔
اب زید کی وارث ہندہ نے اپنے مکان پر پختہ دو منزلہ تعمیر کرایا، اور بر وقت تعمیر بلحاظ مسجد گندہ پانی مثل پاخانہ و غسل خانہ کا مسجد کی طرف سے ہٹا کر دوسری جانب پھیر دیا، جو اس وقت ممکنات سے تھا، باقی پانی یعنی صحن کا بالاخانہ کا و نیز سقفہائے بالاخانہ مذکورہ کا بدستور جانب مسجد جاری رکھا مکامن ہندہ کے جو پانچ پرنالے حرف (الف) و (ب) و (ج) و (دال) و (ہ) قدیم سے بجانب مسجد آتے تھے اسی شکل سے اب تک قائم ہیں۔ جیسا کہ نقشہ منسلکہ فتویٰ ہذا سے ظاہر ہے۔
اب اہل محلہ چاہتے ہیں ، کہ جو پانی صحن بالاخانہ ہندہ کا بذریعہ پرنالے حروف (ج) و (دال) صحن مسجد کی طی نالی قدیمہ میں آتا ہے۔ وہ موقوف کو دیا جاوے، کیوں کہ وہ مستعمل یا گندہ پانی ہونے کی وجہ سے وضو کے پانی میں آکر بدبو دیتا ہے، جس سے وضو کرنے والوں کو تکلیف ہوتی ہے ، ہندہ یا اس کے رفقاء شکایت بدبو کی مدافعت بلحاظ ادب و پاس مسجد بزر لاگت خود بذریعہ نل آہنی وغیرہ کو دینے کو تیار ہیں۔ لیکن ادھر سے بالکل پرنالے پھیر لینے میں نہایت دقت و ہرج و نقصان اس کو اپنی جائداد کا معلوم ہوتا ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب کہ کام تعمیر کا بالکل ختم ہو چکا ہے۔ اس لیے وہ اپنی حقیقت چھوڑ دینے سے معذور ہیں۔
اب سوال یہ ہے۔
نمبر۱:         کہ ازروئے شرع شریف بصورت مندرجہ بالا ہندہ کا عذر قابل تسلیم ہوگا یا نہیں، اور وہ اپنی حقیقت کی بابت ایسے عذر سے عند اللہ گناہ گار ہے یا نہیں، اور جو لوگ ایسے فعل پر ہندہ کو جس کو وہ محال و مضرب بخش خیال کرتی ہیں مجبور کریں، تو عند اللہ وہ مستحق اجر و ثواب کے ہیں یا نہیں؟
نمبر۲:        دوسرے ہندہ اپنے حقوق کی حفاظت کرنے کی بلا معصیت استحقاق رکھتی ہے، یا نہیں؟
نمبر۳:        تیسرے صحن مسجد میں زیر دیوار مکان ہندہ جو نالی پرنالہائے مذکورہ کی چوکون سے ڈھکی ہوئی ہے۔ جس کی گہرائی تقریباً پائو درعہ ہے، کہ تری نالی کی غالباً چوکون نہیں پہنچ سکتی، آیا اس پر نماز جائز ہے یا نہیں؟
نمبر۴:        چوتھے جو اہل اسلام اپنے بھائی مسلمان کو کسی ایسے فعل پر مجبور یا مطعون کریں، یا اس کی توہین کے درپے ہوں یا نقصان پہنچاویں، اور حق الامر کو چھپانے کی کوشش کریں، تو عند اللہ ان کے واسطے کیا حکم ہے؟ بینواتوجروا

_______________________________________________________________

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جواب:… صورت مذکورہ فی السوال میں چونکہ پرنالے ہندہ کے بجانب زمین افتادہ جس میں مسجد تیار ہوئی تھی، قدیم سے جاری تھے ، اور وقت تیاری مسجد کے حق پشتہ اور حق نالی مکان کو مورث ہندہ اور بانیان مسجد نے قائم رکھا تھا۔ پس جو زمین پشتہ اورزمین نالی ہے وہ خالصاً لوجہ اللہ نہیں ہے۔ بلکہ اس میں حق العبد باقی ہے۔ عالمگیری میں ہے:
"حکی الفقیه أبو اللیث إنھم استحسنوا ان المیزاب إذا کان قدیما وکان تصویب السطح إلی دارہ وعلم ان التصویب قدیم ولیس بمحدث أن یجعل له حق التسییل"
’’اگر پر نالہ قدیمی ہو، اور مکان کی چھت کی ڈھلوان اس کے گھر کی طرف ہو، اور یہ معلوم ہو، کہ یہ ڈھلوان قدیمی ہے نئی نہیں ہے، تو وہاں پرنالہ رکھنے کا حق ہے۔‘‘
جو پشتہ کہ نقشہ میں رنگ زرد دکھایا گیا ہے، اور جو زمین نالی کی ہے، اگرچہ اس کو پتھر سے ڈھانک دیا گیا ہے وہ شرعاً مسجد کے حکم میں نہیں ہے، اور اس قدر زمین کو مسجد نہیں کہہ سکتے ہیں، اور ہندہ اپنے پرنالہ قائم رکھنے کی شرعاً مستحق ہے۔ ہدایہ میں ہے۔
"ومن جعل مسجدا تحتہ سرداب او فوقہ بیت وجعل باب المسجد الی الطریق وعزله عن فَله ان یبیعه وان مات یورث عنہ لانہ لم یخلص للہ تعالیٰ لبقاء حق العبد متعلقا بہ"
’’اگر کوئی شخص مسجد بنائے، اور اس مسجد کے نیچے اس کا کوئی تہہ خانہ ہو، یا اوپر مکان ہو، اور وہ مسجد کا دروازہ شارع عام کی طرف رکھ دے اور اس کو اپنے ملک سے خارج کر دے، تو وہ اس کو فروخت کر سکتا ہے۔ اور اگر وہ خود فوت ہو جائے، تو وہ ورثہ میں تقسیم ہوسکتے ہیں، کیوں کہ وہ اللہ کے لیے خاص نہیں ہوا۔ا س میں بندے کا حق ہے۔‘‘
پس صورت مذکورہ میں ہندہ کا عذر قابل تسلیم ہے۔ اور ہندہ شرعاً گناہ گار نہیں ہے۔ بلکہ جو لوگ ہندہ پر جبر کرنا چاہتے ہیں، وہ شرعاً بے راہی پر ہیں، بالخصوص ایسی حالت میں جب کہ ہندہ یا رفقائے ہندہ رفع شکایت بدبو کے واسطے اپنی لاگت سے نل آہنی وغیرہ بنا دینے کو تیار ہیں۔
دوسرے ہندہ شرعاً اپنے حقوق کی حفاظت کا استحقاق بلا معصیت رکھتی ہے۔
تیسرے جب کہ چوکون تک اثر نالی کے پانی کا نہیں پہنچتا ہے، تو شرعاً اس پر نماز درست ہے۔
چوتھے جو لوگ مسلمان کی توہین کے درپے ہوں، اور حق کو چھپا دیں، اور ناحق پر اڑیں، تو وہ لوگ شرعاً خطا پر ہیں۔ فقط واللہ اعلم بالصواب کتبہٗ محمد مظہر اللہ
 الجواب اقول وباللّٰہ التوفیق: اصل یہ ہے کہ کوئی زمین اس وقت تک مسجد نہیں ہو سکتی، کہ اس سے تعلق، مالک کا نہ اٹھ جاوے، اور بندہ کا کوئی حق اس میں باقی نہ رہے،
’قال الشامی وفی القھستانی ولا بد من افرازہ ای تمییزہ عن ملکہ من جمیع الوجوہ فلو کان العلو مسجد او السفل حوانیّت او بالعکس لا یزول ملکہ لتعلق حق العبد کما فی الکافی’ صفحہ۴۰۳ جلد۳)
’’اور ضروری ہے کہ (مسجد) آدمی کی ملکیت سے پوری طرح الگ ہو، اگر مسجد کے اوپر یا نیچے دکانیں یا مکان ہو تو اس سے بندے کا حق چونکہ متعلق ہے لہٰذا اس کی ملکیت سے پوری طرح وہ مسجد علیحدہ نہیں ہو گی۔ ‘‘
پس جب کہ ہندہ و مورث ہندہ کے پرنالے اسی زمین میں قدیم سے پڑتے تھے اور بوقت تعمیر مسجد وہ پرنالے جاری رہے، تو ہندہ اپنے مکان کے پرنالے باقی رکھنے، اور اپنا حق نہ چھوڑنے سے گناہ گار نہ ہو گی، بلکہ مجبور کرنا اس کو جائز نہیں ہے اور مجبور کرنے والے گناہ گار ہیں، البتہ یہ مناسب ہے، کہ رفع بدبو کی مناسب تدابیر کرا دی جاوے۔
نقشہ منسلکہ میں جو پشتہ برنگ زرد اور جو نالی پانی کے نکلنے کی دکھلائی گئی ہے، وہ حکم مسجد میں نہیں ہے، ہندہ کے مکان کا تعلق اور حق اس میں ہے۔
ہندہ کو اپنے حقوق کی حفاظت میں جس کا اس کو شرعاً اختیار ہے کچھ گناہ نہیں، نماز ان پتھروں پر درست ہے اگرچہ وہ داخل مسجد نہیں، کما مر عن الشامی
چوتھے جو لوگ بلا وجہ کسی مسلمان کی توہین اور اس کے حقوق زائل کرنے کے درپے ہوں، وہ گناہ گار ہیں۔
عن ابی ھریرة قال قال رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم: «المسلم اخوا المسلم لا یظلمہ ولا یخذ لہ ولا یحقرہ التقوی ھھنا ویشیر الی صدرہ ثلث مرار بحسب امرء من الشران یحقر اخاہ المسلم کل المسلم علی المسلم حرام دمہ ومالہ وعرضہ» رواہ مسلممشکوۃ شریف واللہ اعلم
(کتبہ عزیز الرحمن عفی عنہ دیو بندی مفتی المدرسہ)
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔ نہ وہ اس پر ظلم کر سکتا ہے نہ ذلیل کر سکتا ہے نہ حقیر سمجھ سکتا ہے۔ پرہیز گاری یہاں ہے آپ نے اپنے سینہ کی طرف اشارہ کیا اور تین دفعہ فرمایا، آدمی کو یہی گناہ کافی ہے، کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو ذلیل سمجھے، ہر مسلمان پر ہر مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے‘‘
بلاشک ہندہ کو شرعاً مجبور نہیں کیا جا سکتا، کہ وہ اپنے پرنالے اکھیڑ کر دوسری طرف بنا لے، کیوں کہ بنائے مسجد سے پیشتر وہ پرنالے جاری تھے، جس کا حق اس کو حاصل تھا، مگر ادب اور تعظیم مسجد اسی کی متقاضی ہے، کہ ہندہ بہ نیت ثواب آخرت دنیا کا خرچ قبول کر کے پرنالے دوسری طرف پھری دے۔ عبد الحق مفسر تفسیر حقانی
سوال سائل صرف اس قدر ہے کہ اجرائے میزاب کا حق ہندہ کا ہے یا نہیں، اس کو جبراً اٹھانے کا کوئی مجاز رکھتا ہے یا نہیں، ہندہ عاصی اور نافرمان ہو سکتی ہے پرنالہ کے قائم رکھنے میں یا نہیں؟ سو جملہ علماء جن کی مواہیر ثبت ہیں اس فتویٰ پر تحریر فرما رہے ہیں کہ حق ہندہ کا ثابت ہے اس کو مجبور کرنا جائز نہیجں، اور پرنالہ قائم رکھنے میں نہ عاصی ہے نہ گناہ گاہ، پھر اس کو مطعون کرنا اور اس کی توہین کرنا کیسے درست ہو گا، ہاں مسجد کی تعظیم ہر مسلمان پر لازم ہے، اگر بد بو آتی ہو تو اس کا رفع کرنا کسی تدبیر سے ضروری ہے ۔ جس میں حق ہندہ بھی تلف نہ ہو اور تطہیر و تنظیف مسجد بھی باقی رہے، وہ دو صورت سے متصور ہے، یا بطور نل آہنی کے، یا دو میزاب کا ایک کر دیا جائے، کس واسطے کہ احقر… اس موقع کو خود جا کر دیکھ آیا ہے، اس میں تلویث مسجد کا تو احتمال ہی نہیں، اگر ہے، تو بدبو کا ہے، اس کو رفع کرنا بحق مسجد جملہ مسلمین کو لازم ہے، اور چونکہ بحکم شرع شریف ہر ذی حق کو اس کا حق دلوانا چاہیے، تو ہندہ کی حق تلفی کیوں کر جائز ہو گی، کافر کا بھی حق دلوانا شارع علیہ السلام کا کام ہے، پس بفتویٰ علمائے کرام ہندہ پر جبر نہیں پہنچتا، ہاں ہندہ اگر برضا مندی خود اپنا حق چھوڑ دے اور مسجد کی عظمت کا خیال کر کے پرنالہ کیا، بلکہ سارا مکان ہی اپنا قربان کر دے مسجد پر تو عند اللہ ماجور و مثاب ہو گی، جنت میں درجات عالیہ کی مستحق ہو گی، مگر یہ بات دوسری ہے ، اور حکم اور ہے۔ اس میں ہندہ کی کیا خصوصیت ہے، ہر مسلمان کو چاہیے کہ مسجد کی تنظیف و تطہیر میں کوشش کرے اور اس کی ترقی چاہے۔ مگر اس پر کسی کو مجبور تو نہیں کیا جا سکتا، ایسا ہی ہندہ متساوی الاقدام ہے۔ یہ تشریح ہے عبارات مسطورہ بالا کی جو علماء نے تحریر فرمائی ہیں۔ واللہ اعلم حررہ کرامت اللہ عفا اللہ عنہ۔
(الجواب صحیح    محمد بشیر عفی عنہ ، سید محمد عبد السلام غفرلہٗ، سید محمد ابو الحسن (فتاویٰ نذیریہ ص۲۰۷ ج۱)

 

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1 ص 22۔25

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)