فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2404
(2) ایک مسجد کی تعمیر کے لیے جمع شدہ رقم دوسری مسجد کی تعمیر میں صرف ہو سکتی ہے جب کہ مسجد اول کی تعمیر کا ارادہ بدل جاءئے
شروع از بتاریخ : 14 February 2013 06:47 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کسی شخص نے ارادہ کیا، اپنے گاؤں میں مسجد بنانے کا، اور اس کی تعمیر کے لیے اس نے ایک ٹکڑا زمین کی آمدنی وقف کی، اس عرصہ تک کے لیے جب تک مسجد تیار نہ ہو جائے، آمدنی تو جمع ہوتی ہے، مگر مسجد کی تعمیر ابھی شروع نہیں کی گئی، اب وہ شخص اپنے ارادے کو اس خیال سے بدلنا چاہتا ہے۔ کہ جس گاؤں میں اس نے مسجد بنوانے کا ارادہ کیا تھا۔ اس میں آبادی اہل اسلام کی نہیں ہے، صرف ایک یا دو آدمی نماز پڑھنے والے ہیں، باقی گو چند مسلمان بھی آباد ہیں، مگر نام کے مسلمان ہیں، کوئی صورت ان میں دین داری کی نظر نہیں آتی، کیا اگر وہ شخص اس رقم کو کسی دوسری جگہ کی مسجد کی تعمیر میں صرف کر دے، تو کوئی شرعی مواخذہ تو اس پر عاید نہیں ہو جاتا، نیز کیا اس ارادے کو بدلنے کی حالت میں کوئی دین تو اس پر لازم و عاید نہیں آتا، اگر آتا ہے، تو کس قدر؟

____________________________________________________

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

 صورت مرقومہ میں اگر وہ شخص اس رقم کو کسی دوسری جگہ کی مسجد کی تعمیر میں صرف کر دے تو کوئی شرع مواخذہ اس پر نہیں ہے۔ اور نہ کوئی فدیہ و کفارہ اس پر لازم آتا ہے۔
(واللہ أعلم وعلمه أتم۔ کتبہٗ محمد بشیر عفی عنہ۔ سید محمد نذیر حسین (فتاویٰ نذیریہ جلد اول ص۲۰۶)

 

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1 ص 20

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)