فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2403
(162) مشترکہ زمین میں تعمیر مسجد جائز نہیں
شروع از بتاریخ : 14 February 2013 06:44 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بارہ (۱۲) اشخاص نے ایک قطعہ زمین خریدی، اور ان میں ایک ہندو بھی ہے، بعد خریدنے کے پانچ سو آدمیوں کو نفع اور نقصان کا شریک کر لیا، اور سو سو روپیہ ہر ایک شخص سے لے لیے، اور ان پانچ سو میں غریب اور یتیم اور بیوہ عورتیں شریک ہیں، بروقت نیلام کرنے کے اکثر شرکاء موجود تھے۔ بعد نیلام کرنے کے ایک قطعہ زمین کل میں سے ان بارہ (۱۲) آدمیوں نے علیحدہ کر دی، اور یہ کہا کہ نیچے بیٹھک اور اوپر مسجد بنائیں گے،مسجد بنانا اس طرق سے درست ہے یا نہیں، اور اکثر شرکاء مسجد بنانے میں راضی نہیں ہیں، اور اپنے حصہ کی قیمت چاہتے ہیں۔ اگر ان حصہ داروں میں سے ایک شخص بھی تعمیر مسجد سے ناراض رہا، تو تعمیر مسجد درست ہوئی یا نہیں۔ بینوا توجروا

_________________________________________________________

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صورت ہذا میں مسجد بنانا جائز نہیں، اس واسطے کہ جب زمین مشترکہ ہے، اور اس کے ہر ہر جزو میں ہر شخص کا حصہ ہے۔ اور بعض اشخاص بدون رضا مندی دیگر شرکاء مسجد بنانا چاہتے ہیں۔ تو یہ ہر گز جائز نہیں، اور اگر بنا دیں گے، تو ظالم قرار دیئے جاویں گے، کیوں کہ حق یتیمان و بیوگان تلف کرتے ہیں، اور اگر وقف بھی کر دیں گے تو وہ وقف باطل ہو گا، بحرا لرائق میں ہے:
"فلوا استحق الوقف بطل"
’’اگر کوئی حق ہو، تو وقف باطل ہو جائے گا۔‘‘
اور ظاہر ہے کہ وقف کے واسطے ملک شرط ہے، بحر الرائق میں ہے:
"من شرائطہ الملك وقت الوقف حتی لو غصب ارضا فوقفہا ثم اشتراھا من مالکھا ودفع الثمن الیه او صالح علی مال دفعه الیه لا تکون وقفا"
یعنی شرائط وقف سے مالک ہونا ہے شے موقوفہ کا وقت وقف کے، یہاں تک کہ اگر وقف کیا زمین، مغصوبہ کو اور پھر خرید لیا مالک سے اور قیمت بھی دے دی یا صلح کی مال پر، تو بھی وقف صحیح نہیں ہو گا، کیوں کہ وقت وقف کے مالک نہ تھا، اور یہاں تو اس قدر شرکاء ہیں، جب تک ایک بھی ناراض رہے گا، یا ان میں سے کوئی کافر ہو گا، تو وقف جائز نہ ہو گا واسطے مسجد کے، کیوں کہ کافر کا مال مسجد میں لگانا جائز نہیں، ہاں بعض شرکاء اگر قطعہ زمین خرید لیں اور کل شرکاء راضی ہو جاویں، یا بعض شرکاء اپنیا حصہ علیحدہ کر لیں، اور قیمت ادا کر دیں تو درست ہو گا، یا قیمت کل شرکاء کو تقسیم ہو جاوے گی، ان کی رضا سے۔ فقط  (حررہ محمد کرامت اللہ،     الجواب صحیح    فتح مدرست فتح پوری مدرس مدرسہ حسین بخش، فقیر )
(محمد حسین، یقال لہء ابراہیم حبیب احمد، محمد وصیت علی مدرس فتح پوری)
واضح دلائل ہو، کہ اصل شرکت ہی مسئلہ میں صحیح و جائز نہیں، یہ تقریر جواب شے اور ہے، یہ تقریر بعد شرکت صحیح ہونے کے ہو گی۔
"والضرب الثانی شرکة العقود ووکھا الایجاب والقبول وھو ان یقول اھدھما شارکتك فی کذا او کذا  ویقول االخر قبلت ثم ھی اربعة اوجہ مفاوصة وعنان و شرکة الصنائع وشرکة الوجوہ فامان شرکة مفاوضة فھی ان یشترك الرجلان فیساویان فی ما لھما وتصرفیھما ودینھما الخ کذا فی الھدایة ولا بین مسلم والکافر کذا فی متن الھدایة واللہ أعلم" محمد یعقوب (سید محمد نذیر حسین۔ فتاویٰ نذیریہ ص ۲۰۵ جلد اول)
’’دوسری قسم شرکت عقود ہے، اور اس کا رکن ایجاب و قبول ہیں اور وہ اس طرح ہے کہ ایک کہے، میں نے تجھے فلاں چیز میں شریک کیا، اور دوسرا کہے میں نے قبول کیا، پھر اس کی چار قسمیں ہیں شرکت مفاوضہ، وعنان و شرکت صنائع اور شرکت وجوہ، اور شرکت مفاوضہ یہ ہے کہ دو آدمی ہوں، اور مالیت، تصرف اور قرض میں برابر ہوں۔ اور یہ شرکت کافر اور مسلمان میں نہیں ہو سکتی۔‘‘
تشریح:… سوال کے دو پہلو ہیں، ایک تو زمین مشترکہ میں مسجد کا بنانا، دوسرے نیچے بیٹھک اور اوپر کی سطح پر مسجد کی تعمیر۔ زمین مشترکہ کے جس حصہ پر کوئی مالک قابض ہے تو وہ اپنے اس حصہ کو وقف بھی کر سکتا ہے۔ اور اس میں مسجد میں بنا سکتا ہے، کیوں کہ حصہ کے مطابق وہ مالک ہے۔ عرف عام کے مطابق قابض ہونے کی وجہ سے اپنے تمام شرکاء سے مقدم ہے۔ دوسرے شریک باقی ماندہ جگہ سے اپنا اپنا حصہ پورا کریں گے۔
سوال کا دوسرا پہلو… مسجد کے نیچے بیٹھک بنانے کی دو صورتیں ہیں، اول مصارف مسجد کے لیے بیٹھک بنانا، تو جائز ہے، کیوں کہ مفاد مسجد کے لیے ہے، دوم مسجد کے لیے زمین وقف کنندہ اگر اپنے ذاتی مفاد کے لیے بیٹھک بنائے تو جائز نہیں۔  ھذا ماعندي واللّٰہ أعلم بالصواب


فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 09 ص 


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)