فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2401
علم غیب کی تعریف
شروع از بتاریخ : 13 February 2013 11:23 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 علم غیب کی تعریف کیا ہے؟ اور اس تعریف کو قرآن و سنت کے دلائل سے ثابت فرمائیں اور اس کا کیا مطلب ہے:

﴿عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ‌ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا ﴿٢٦ إِلَّا مَنِ ارْ‌تَضَىٰ مِن رَّ‌سُولٍ... الخ﴾ (سوره جن)

کیا اس سے رسول کے لیے علم غیب ثابت ہوتا ہے ؟ ورنہ اس کا جواب دیں؟

___________________________________________________________

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

علم غیب ہر چیز کو جاننے کا نام ہے۔ سورۂ لقمان کے آخر میں بیان شدہ پانچ چیزیں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«فِیْ خَمْس لَا یَعْلَمُھُنَّ اِلاَّ اللّٰہُ»

پانچ باتیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔]اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿ وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ ۚ(٥٩)﴾ (الأنعام) (مسند أحمد: 5/ 353، صحيح البخاري، كتاب الاستسقاء، باب لا يدري متى يجئ المطر إلا الله تعالى)

غیب کی کنجیاں اللہ ہی کے پاس ہیں جنہیں بجز اس کے اور کوئی نہیں جانتا۔]خضر gنے فرمایا: ’’کل مخلوقات کا علم اللہ تعالیٰ کے علم کی بنسبت اتنا ہے جتنا چڑیا کی چونچ میں قطرہ سمندر کی بنسبت۔‘‘ (تفسیر ابن کثیر، سورۃ کہف) سورۂ جن والی آیت سے مراد انبیاء و رسول علیہم السلام پر نازل شدہ وحی ہے جیسا کہ اس کے سیاق ، سباق اور لحاق سے واضح ہے۔

فتاوی احکام ومسائل

کتاب العقائد ج 2 ص 137

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)