فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 23984
(91) بغیر حساب کے جنت میں جانے والے کیسے لوگ ہوں گے؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 31 October 2017 02:39 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

وہ کون سے تین قسم کے لوگ ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

 جنت میں جانے والوں کی بنیادی طور پر چار اقسام بنتی ہیں:

پہلی قسم میں وہ لوگ شامل ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ احادیث میں ان کی تعداد ستر ہزار بتائی گئی ہے۔

دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو حساب دینے کے بعد جنت میں داخل ہوں گے۔

تیسری قسم ان لوگوں کی ہے جنہیں جہنم میں داخل تو نہیں کیا جائے گا البتہ ایک وقت تک کے لیے جنت میں جانے سے روک دیا جائے گا۔ یہ اصحاب الاعراف ہیں۔ جن کا تذکرہ سورۃ الاعراف میں بالتفصیل موجود ہے۔

چوتھی قسم ان اہل ایمان کی ہے جو گناہوں کی کثرت کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوں گے اور بالآخر اپنے اعمال کی سزا بھگت کر اپنے ایمان کی وجہ سے جنت میں داخل کیے جائیں گے۔

وہ ستر ہزار لوگ جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے وہ کن اوصاف کے حامل اہل ایمان ہوں گے۔ آئیے احادیث کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، بیان کرتے ہیں:

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ہمارے پاس باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ (خواب میں) مجھ پر امتیں پیش کی گئیں۔ بعض نبی گزرتے اور ان کے ساتھ (ان کی اتباع کرنے والا) صرف ایک آدمی ہوتا۔ بعض گزرتے اور ان کے ساتھ دو ہوتے بعض کے ساتھ پوری جماعت ہوتی اور بعض کے ساتھ کوئی بھی نہ ہوتا۔ پھر میں نے ایک بڑی جماعت دیکھی جس سے آسمان کا کنارہ ڈھک گیا تھا میں سمجھا کہ یہ میری ہی امت ہو گی لیکن مجھ سے کہا گیا کہ یہ موسیٰ علیہ السلام اور ان کی امت کے لوگ ہیں۔ پھر مجھ سے کہا گیا کہ ادھر دیکھو، ادھر دیکھو، میں نے دیکھا کہ بہت سی جماعتیں ہیں جو تمام افق پر محیط تھیں۔ کہا گیا کہ یہ تمہاری امت ہے اور اس میں سے ستر ہزار لوگ وہ ہوں گے جو بغیر حساب کے جنت میں داخل کیے جائیں گے۔

پھر صحابہ رضی اللہ عنھم مختلف جگہوں میں اٹھ کر چلے گئے اور نبی صلی اللہ نے اس کی وضاحت نہیں کی کہ یہ ستر ہزار کون لوگ ہوں گے۔ صحابہ رضی اللہ عنھم نے آپس میں اس کے متعلق مذاکرہ کیا اور کہا کہ ہماری پیدائش شرک میں ہوئی تھی البتہ بعد میں ہم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئے لیکن یہ ستر ہزار ہمارے بیٹے ہوں گے جو پیدائشی مسلمان ہیں۔ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا:

(هم الذين لا يسترقون ولا يكتوون ولا يتطيرون وعلى ربهم يتوكلون)

"یہ ستر ہزار وہ لوگ ہوں گے جو بدفالی نہیں کرتے، نہ منتر سے جھاڑ پھونک کراتے ہیں اور نہ داغ لگاتے ہیں بلکہ اپنے رب پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔"

یہ سن کر عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! کیا میں بھی ان میں سے ہوں؟ فرمایا: ہاں۔ ایک دوسرے صاحب (سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ) نے کھڑے ہو کر عرض کیا: میں بھی ان میں سے ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(سبقك بها عكاشة)

(بخاری، الطب، من لم یرق، ح: 5762، ح: 3410)

"عکاشہ تم سے بازی لے گئے۔ (تم سے پہلے عکاشہ کے لیے جو ہونا تھا وہ ہو چکا۔)"

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

(يدخل الجنة من أمتي زمرة، هم سبعون ألفًا، تضيء وجوههم إضاءة القمر ليلة البدر)

(مسلم، الایمان، الدلیل علی دخول طوائف من المسلمین الجنۃ بغیر حساب۔ ح: 216)

"میری امت میں سے ستر ہزار کا ایک گروہ جنت میں داخل ہو گا جن کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے۔"

عمران بن حصین بیان کرتے ہیں، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(يدخل الجنة من أمتي سبعون ألفا بغير حساب)

"میری امت کے ستر ہزار لوگ بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔"

لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! وہ کیسے لوگ ہوں گے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(هم الذين لا يسترقون ولا يكتوون ولا يتطيرون وعلى ربهم يتوكلون) (ایضا، ح: 218)

"یہ وہ لوگ ہوں گے جو دم نہیں کرواتے ہوں گے، بدشگونی نہیں لیتے ہوں گے اور نہ داغ لگواتے ہوں گے (یعنی دااغ لگوا کر علاج نہیں کرواتے ہوں گے) اور اپنے رب پر ہی بھروسہ کرتے ہوں گے۔"

اورایک حدیث میں ہے:

ستر ہزار لوگ (بغير حساب ولا عذاب) یعنی بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ (ایضا: ح: 220)

مسند احمد (1/403) میں ہے:

(هم الذين لا يسترقون ولا يكتوون ولا يتطيرون وعلى ربهم يتوكلون)

ایک حدیث میں الفاط ہوں ہیں:

(هم الذين لا يسترقون ولا يكتوون ولا يتطيرون وعلى ربهم يتوكلون) (مسند احمد، 1/454)

مذکورہ بالا احادیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ تین قسم کے اہل ایمان ہوں گے جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے جو کہ درج ذیل ہیں:

1۔ بدشگونی نہ لینے والے

2۔ داغ لگوا کر علاج نہ کروانے والے

3۔ دم جھاڑ نہ کروانے والے

البتہ یہ اشکال ذہن میں پیدا ہو سکتا ہے کہ علاج کروانا اور دم کروانا تو جائز ہے اور یہ امور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ثابت ہیں! اس کے جواب میں کچھ وضاحت کی ضرورت ہے۔ جہاں تک بدشگونی کا تعلق ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

(لا طيرة و خيرها الفال)

"بدشگونی کی کوئی اصل نہیں البتہ نیک فال لینا بہتر ہے۔ (کچھ برا نہیں ہے۔)"

صحابہ نے عرض کیا نیک فال کیا چیز ہے؟ فرمایا:

(الكلمة الصالحة يسمعها أحدكم) (بخاری، الطب، الطیرۃ، ح: 5754)

"کوئی اچھی بات جو تم میں سے کوئی سنتا ہے۔"

مولانا محمد داؤد راز رحمۃ اللہ علیہ اس کی وضاحت میں فرماتے ہیں:

مثلا بیمار آدمی سلامتی تندرستی کا سن پائے یا لڑائی پر جانے والا شخص راستے میں کسی ایسے شخص سے ملے جس کا نام فتح خاں ہو اُس سے فال نیک لی جا سکتی ہے کہ لڑائی میں فتح ہماری ہو گی۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔

(ولا يكتوون) کے بارے میں شارحین کے مختلف اقوال ہیں۔ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے شرح مسلم میں ان اقوال کو ذکر کیا ہے۔ بعض علماء نے كى (داغ لگا کر علاج کرنے) کو خاص کیا ہے۔ جن احادیث میں ستر ہزار اہل ایمان کا بغیر حساب کے جنت میں داخل ہونے کا بیان ہے ان میں ہر علاج مراد نہیں بلکہ داغ لگا کر علاج کروانے کا تذکرہ ہے۔ داغ لگا کر علاج کروانا یہ آخری علاج تھا۔ عرب میں یہ علاج اکثر مروج رہاہے بالخصوص طاعون کی بیماری میں۔ جب کسی دوا وغیرہ سے افاقہ نہ ہوتا تو یہ علاج کرواتے تھے۔ ایک حدیث میں ہے:

(الشفاء فى ثلاثة فى شرطة محجم او شربة عسل اوكية بنار وانهى امتى عن الكى) (بخاری، الطب، الشفاء فی ثلاث، ح: 5681)

"شفا تین چیزوں میں ہے: پچھنا لگوانے میں، شہد پینے میں اور آگ سے داغنے میں۔ مگر میں اپنی امت کو آگ کے ساتھ داغنے سے روکتا ہوں۔"

ایک اور حدیث میں ہے:

(ان كان فى شىء من ادويتكم او يكون فى شىء من أدويتكم خير ففي شرطة محجم ، أو شربة من عسل أو لذعة بنار توافق الداء و ما أحب أن أكتوي) (ایضا، الدواء بالعسل، ح: 5683)

"اگر تمہاری دواوں میں کسی میں بھلائی ہے یا یہ فرمایا کہ تمہاری (ان) دواؤں میں بھلائی ہے تو پچھنا لگوانے یا شہد پینے اور آگ سے داغنے میں ہے اگر وہ مرض کے مطابق ہو اور میں آگ سے داغنے کو پسند نہیں کرتا۔"

علاج کروانا اگرچہ توکل کے منافی نہیں۔ البتہ علاج نہ کروانا اور اپنے آپ کو مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دینا اور مرض پر صبر کرنا بہتر ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو علاج کروایا تو جواز بتانے کے لیے۔ (دیکھیے شرح نووی)

ایک حدیث میں ہے کہ عطا بن ابو رباح کہتے ہیں: مجھ سے ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں تجھے جنتی عورت نہ دکھلاؤں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں۔ انہوں نے فرمایا: یہ سیاہ فام عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے کہا: مجھے مرگی کا دورہ پڑتا ہے جس سے میرا جسم برہنہ ہو جاتا ہے، آپ میرے لیے اللہ سے دعا کریں (کہ اس بیماری سے نجات عطا کرے۔) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(إن شئت صبرت ولك الجنة ، وإن شئت دعوت الله تعالى أن يعافيك)

"اگر آپ چاہیں تو اس تکلیف پر صبر کریں، اس کے بدلے آپ کے لیے جنت ہے اور اگر آپ چاہیں تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کر دیتا ہوں کہ وہ آپ کو عافیت دے دے۔"

اس نے کہا: میں صبر ہی اختیار کرتی ہوں، تاہم (بیماری کے وقت) میرا جسم کھل جاتا ہے آپ اللہ سے دعا کر دیں کہ میرے بدن کا کپڑا نہ کھلے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کے لیے یہ دعا کر دی۔

(بخاری، المرضی، فضل من یصرع من الریح، ح: 5652، مسلم: البر و الصلۃ، ثواب المؤمن فیما یصیبہ من مرض او ۔۔۔ ح: 2576)

اسی طرح علاج نہ کروانے کا مسئلہ ہے۔مولانا محمد داؤد راز رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: خالص اللہ پر توکل رکھنا اور اسی عقیدہ کے تحت جائز علاج کروانا توکل کے منافی نہیں ہے۔ پھر جو لوگ خالص توکل پر قائم رہ کر کوئی جائز علاج بھی نہ کروائیں وہ یقینا اس فضیلت کے مستحق ہیں یعنی بغیر حساب کےجنت میں داخل ہوں گے۔

اسی طرح جائز دم کرنا اور کروانا یقینا شریعت کی نظر میں درست ہے۔ جواز کی بہت سی احادیث ہیں۔ البتہ دم نہ کروانا باعث فضیلت ہے۔

  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ افکارِ اسلامی

قرآن اور تفسیر القرآن،صفحہ:242

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)