فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 23951
(58) خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں!
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 30 October 2017 02:28 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا قرآن پاک کی آیت ﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّـهِ﴾ کا وہی مطلب ہے جو درج ذیل منظوم کلام میں مراد لیا گیا ہے:

پیر کامل علی حسینی وسیلہ جس نے بنا لیا ہے

﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّـهِ﴾ کے حکم کو بےشک بجا لیا ہے


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّـهِ﴾سے علی حسینی کا وسیلہ مراد لینا قطعی غلط ہے بلکہ یہ قرآن پاک کی معنوی تحریف کے زمرے میں آتا ہے۔ سب سے پہلے ﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّـهِ﴾ کا حکم ان لوگوں کے لیے ہے جو قرآن مجید کے اولین مخاطب ہیں۔ انہوں نے بھی قرآن کی اس آیت پر عمل کیا جبکہ اس وقت علی حسینی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ آج بھی لوگ (چند لوگوں کو چھوڑ کر) ان کے نام تک سے واقف نہیں ہیں۔ کیا یہ سب لوگ قرآن کریم کی حکم عدولی کرتے ہیں۔ مزید برآں ﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّـهِ﴾ کا حکم تو خود علی حسینی کے لیے بھی ہے۔ لہذا حبل اللہ (اللہ کی رسی) اور ہے اور علی حسینی شے دگر۔ فافهم و تدبر!

اللہ کی رسی سے مراد اس کا دین ہے اور اسے رسی سے اس لیے تعبیر کیا گیا ہے کہ یہی وہ رشتہ ہے جو ایک طرف اہل ایمان کا تعلق اللہ تعالیٰ سے قائم کرتا ہے اور دوسری طرف تمام ایمان لانے والوں کو باہم ملا کر ایک جماعت بناتا ہے۔ اس رسی کو مضبوط پکڑنے کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کی نگاہ میں اصل اہمیت دین کی ہو، اسی سے انہیں دلچسپی ہو، اسی کی اقامت میں وہ کوشاں رہیں اور اسی کی خدمت کے لیے آپس میں تعاون کرتے رہیں۔ جہاں دین کی اساسی تعلیمات اور اس کی اقامت کے نصب العین سے مسلمان ہٹے اور ان کی توجہات اور دلچسپیاں جزئیات و فروع کی طرف منعطف ہوئیں۔ پھر ان میں لازما وہی تفرقہ و اختلاف رونما ہوا جو اس سے پہلے انبیاء علیہم السلام کی امتوں کو اُن کے اصل مقصدِ حیات سے منحرف کر کے دنیا اور آخرت کی رسوائیوں میں مبتلا کر چکا ہے۔ (تفہیم۔ آل عمران:3/102)

  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ افکارِ اسلامی

قرآن اور تفسیر القرآن،صفحہ:168

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)