فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2395
(278) کیا جنوں کو قابو کیا جا سکتا ہے؟
شروع از بتاریخ : 13 February 2013 09:50 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا جن قابو ہوجاتے ہیں؟ اگر ہو جاتے ہیں تو کیا ہم کرسکتے ہیں یا نہیں؟ ہر دو صورت دلیل لکھ دیں۔ بعض اوقات لوگ آتے ہیں کہ ہمارے بچے کو جن چمٹ گئے ہیں تو اس کا علاج کس طرح کریں ، کیونکہ جن کے پاس جن ہیں وہ اس کے ذریعے کچھ کرتے ہیں اور جن نکالتے ہیں۔ لہٰذا ہمیں ایسے مریضوں کا علاج کس طرح کرنا چاہیے ہم اس جن کو کس طرح حاضر کریں اور اس سے پوچھیں یا علاج نہ کریں اور اس کو جنوں والے کے پاس بھیج دیں۔ اس کے بارے میں مکمل تفصیل تحریر فرمادیں؟

____________________________________________________________________

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جن اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿وَالْجَانَّ خَلَقْنَاهُ مِن قَبْلُ مِن نَّارِ‌ السَّمُومِ (٢٧)﴾ (الحجر)

’’ اور جنوں کو اس سے پہلے ہم آگ کی لپٹ سے پیدا کرچکے تھے۔‘‘

﴿وَخَلَقَ الْجَانَّ مِن مَّارِ‌جٍ مِّن نَّارٍ‌ (١٥)﴾ (الرحمٰن)

’’ اورجنوں کو آگ کے شعلہ سے پیدا کیا۔ ‘‘

ابلیس لعین نے کہا تھا:

﴿ أَنَا خَيْرٌ‌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ‌ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ (١٢) ﴾ (الاعراف)

’’میں آدم سے بہتر ہوں ، کیونکہ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے مٹی سے۔ ‘‘

ان میں سے بعض نیک اور مسلم اور بعض بد اور ظالم:

﴿وَأَنَّا مِنَّا الصَّالِحُونَ وَمِنَّا دُونَ ذَٰلِكَ ۖ  (١١)﴾ (الجن)

’’ ہم میں سے کچھ نیک لوگ ہیں اور کچھ اس سے کم درجہ کے ہیں۔‘‘

﴿وَأَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُونَ وَمِنَّا الْقَاسِطُونَ ۖ ﴾ (الجن)

’’ہم میں سے کچھ مسلمان اور کچھ بے انصاف ہیں۔‘‘

﴿وَإِذْ صَرَ‌فْنَا إِلَيْكَ نَفَرً‌ا مِّنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْ‌آنَ فَلَمَّا حَضَرُ‌وهُ قَالُوا أَنصِتُوا ۖ فَلَمَّا قُضِيَ وَلَّوْا إِلَىٰ قَوْمِهِم مُّنذِرِ‌ينَ (٢٩) قَالُوا يَا قَوْمَنَا إِنَّا سَمِعْنَا كِتَابًا أُنزِلَ مِن بَعْدِ مُوسَىٰ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ وَإِلَىٰ طَرِ‌يقٍ مُّسْتَقِيمٍ (٣٠) يَا قَوْمَنَا أَجِيبُوا دَاعِيَ اللَّـهِ وَآمِنُوا بِهِ يَغْفِرْ‌ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُجِرْ‌كُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ (٣١) وَمَن لَّا يُجِبْ دَاعِيَ اللَّـهِ﴾  (الاحقاف)

’’ اور جب ہم جنوں کے ایک گروہ کو آپ کی طرف لائے، جو قرآن سن رہے تھے، جب وہ اس مقام پر پہنچے تو کہنے لگے۔ خاموش ہوجاؤ ، پھر جب قرآن پڑھا جاچکا تو وہ ڈرانے والے بن کر اپنی قوم کے پاس لوٹے۔ کہنے لگے: اے ہماری قوم! ہم نے ایسی کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد نازل ہوئی ہے وہ اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے۔ حق اور صراطِ مستقیم کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ اے ہماری قوم! اللہ کی طرف بلانے والے کی بات مان لو اور اس پر ایمان لے آؤ وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں المناک عذاب سے بچالے گا۔ اور جو اللہ کی طرف بلانے والے کی بات نہ مانے تو وہ زمین میں اسے عاجز نہیں کرسکتا۔‘‘

﴿قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ‌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْ‌آنًا عَجَبًا (١)﴾ (الجن)

’’ کہیے مجھے وحی ہوئی کہ جنوں کے گروہ نے (قرآن) غور سے سنا ، پھر کہا کہ ہم نے عجیب قرآن سنا ہے۔‘‘

جن جنوں اور انسانوں کو بسا اوقات نفع و نقصان بھی پہنچاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَأَنَّهُ كَانَ رِ‌جَالٌ مِّنَ الْإِنسِ يَعُوذُونَ بِرِ‌جَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوهُمْ رَ‌هَقًا (٦)﴾ (الجن)

’’ اور یہ کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ جنوں کے کچھ لوگوں کی پناہ مانگا کرتے تھے، چنانچہ انہوں نے جنوں کے غرور کو بڑھادیا تھا۔‘‘

﴿وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ زُخْرُ‌فَ الْقَوْلِ غُرُ‌ورً‌ا ۚ (١١٢)﴾ (الانعام)

’’ اسی طرح ہم نے شیطان سیرت انسانوں اور جنوں کو ہر نبی کا دشمن بنایا جو دھوکہ دینے کی غرض سے کچھ خوش آئند باتیں ایک دوسرے کو پھونکتے رہتے ہیں۔‘‘

﴿ يَا مَعْشَرَ‌ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْ‌تُم مِّنَ الْإِنسِ ۖ وَقَالَ أَوْلِيَاؤُهُم مِّنَ الْإِنسِ رَ‌بَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ (١٢٨)﴾(الانعام)

’’ اے گروہ جن! تم نے بہت سے آدمیوں کو ( اپنا تابع) بنا رکھا تھا اور انسانوں میں سے جنوں کے دوست کہیں گے ، ہمارے رب ہم نے ایک دوسرے سے خوب فائدہ اٹھایا، حتی کہ وہ وقت آگیا جو تو نے ہمارے لیے مقرر کیا تھا۔ اللہ فرمائے گا: تم سب کا ٹھکانا جہنم ہے۔‘‘

جن سلیمان علیہ الصلاۃ والسلام کے تابع تھے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصٍ (٣٧) وَآخَرِ‌ينَ مُقَرَّ‌نِينَ فِي الْأَصْفَادِ (٣٨)﴾ (ص)

’’ اور شیطان بھی مسخر کردیے جو سب معمار و غوطہ زن تھے اور کچھ دوسرے زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔‘‘

نیز فرمایا:

﴿وَمِنَ الْجِنِّ مَن يَعْمَلُ بَيْنَ يَدَيْهِ بِإِذْنِ رَ‌بِّهِ ۖ وَمَن يَزِغْ مِنْهُمْ عَنْ أَمْرِ‌نَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِيرِ‌ (١٢) يَعْمَلُونَ لَهُ مَا يَشَاءُ﴾ (سبا)

’’ اور بعض جن اپنے رب کے حکم سے ان کے سامنے کام کرتے تھے اور ان میں سے کوئی ہمارے حکم سے سرتابی کرتا تو ہم اسے بھڑکتی آگ کے عذاب کا ذائقہ چکھاتے جو سلیمان چاہتے وہی جن ان کے لیے بناتے۔‘‘

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جن کو پکڑنے کا ارادہ فرمایا، بلکہ اسے پکڑنے پر قادر ہوگئے تو آپ نے فرمایا: ’’مجھے اپنے بھائی سلیمانgکی دعاء یاد آگئی تو آپ نے اسے ردودفع کردیا۔ ‘‘ (! بخاری ؍ کتاب التفسیر ، سورۃ:ص)

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ایک جن کو دو راتیں پکڑ کر چھوڑ دیتے رہے وہ ان کو آیۃ الکرسی بتاگیا۔ ( صحیح البخاری ، کتاب الوکالة ، باب إذا وکل رجلا فترك الوکیل شیئا)

باقی جنوں کو قابو کرنے کا دعویٰ کرنے والوں کے دعویٰ کا مجھے علم نہیں کہاں تک حقیقت پر مبنی ہے ، کوئی جنوں سے تعارف و واقفیت رکھنے والا ہی بتاسکتا ہے ، اس فقیر إلی اللہ الغنی کا تو جنوں کے ساتھ کوئی تعارف نہیں۔ واللہ اعلم۔

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1 

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)