فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 23935
(42) قرآن کو صرف "قرآن" کہنا؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 30 October 2017 10:46 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

قرآن کو اگر ہم صرف "قرآن" ہی کہیں تو ہمیں گناہ تو نہیں ملے گا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

قرآن کریم کا عزت و احترام سے نام لینا افضل ہے۔ یہ احترام دلوں کے تقویٰ کی دلیل ہے۔ اگرچہ صرف  "قرآن" کہنا بھی جائز اور درست ہے۔ خود قرآن مجید میں لفظ " قراٰن" ستر مرتبہ استعمال ہوا ہے کبھی اللہ تعالیٰ نے اسے " قراٰن" ہی کہا ہے۔ (4:82، 5:101، 6:19، 7:204 و دیگر کئی آیات)، اور کبھی اسے صفاتی نام سے ذکر کیا ہے مثلا ﴿قُرْآنٍ مُّبِينٍ﴾(15: 1، 36:69) ﴿الْقُرْآنَ الْعَظِيمَ﴾ (15:87) ﴿الْقُرْآنِ الْحَكِيمِ﴾(36:2) ﴿الْقُرْآنِ الْمَجِيدِ﴾(50:1)

  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ افکارِ اسلامی

قرآن اور تفسیر القرآن،صفحہ:136

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)