فتاویٰ جات: تجوید و قراءات
فتویٰ نمبر : 2392
(275) قراءات قرآنیہ کی تعداد
شروع از بتاریخ : 03 February 2013 10:22 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیاقرآن مجید سات قرائتوں میں پڑھا جا سکتا ہے ۔؟ اور اگر پڑھا جا سکتا ہے تو پھر ہم صرف ایک قراءت میں کیوں پڑھتے ہیں۔ ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

قرآن مجید کو دس قراءات میں پڑھا جاسکتا ہے،اور یہ تمام قراءات صحیح متواتر اور عین قرآن ہیں،آپ جو بھی قراءت پڑھیں گے ،وہ قرآن ہی ہوگا اور آپ کو قرآن پڑھنے کا ہی ثواب ملے گا۔ باقی رہا ہمارا یہ مسئلہ کہ ہم صرف ایک ہی قراءت میں کیوں پڑھتے ہیں؟ تو آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ اس وقت بھی دنیا میں ایک نہیں بلکہ چار روایات (روایت قالون،روایت ورش ،روایت دوری اور روایت حفص) پڑھی پڑھائی جارہی ہیں۔اور متعلقہ ممالک میں انہی روایات کے مطابق قرآن مجید چھپتے ہیں۔ مجمع ملک فہد نے مذکورہ چاروں روایات میں ہی قرآن مجید طبع کیا ہے۔نیز اس وقت تمام مکاتب فکر کے دینی مدارس میں ان تمام قراءات کی تعلیم دی جارہی ہے،اور عامۃ الناس لا علمی کی وجہ سے قراءات کا انکار کر دیتے ہیں۔ یاد رہے کہ قراءات کا انکار درحقیقت قرآن مجید کا انکار ہے۔اور قرآن مجید کا منکر بالاتفاق دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

محدث لائبریری نے چند سال پہلے اپنے رسالے رشد کے تین قراءات نمبر نکالے ہیں،جن میں قراءات قرآنیہ کے حوالے سے اکثر مباحث کو بیان کر دیا گیا ہے۔تفصیلات کے لئے ان کا ضرور مطالعہ کریں۔

ماہنامہ رشد کا علم قراءت نمبر(حصہ اول)

ماہنامہ رشد کا علم قراءت نمبر (حصہ دوم)

ماہنامہ رشد کا علم قراءات نمبر(حصہ سوم)

هذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1 


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)