فتاویٰ جات: عقیدہ و منہج
فتویٰ نمبر : 23904
(11) کبوتر 'باہو! باہو!' کرتے ہیں!
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 28 October 2017 12:45 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

پنجاب میں بعض لوگوں نے یہ مشہور کر رکھا ہے کہ سلطان باہو کے مزار پر کبوتر "باہو باہو" کہتے ہیں! کیا یہ حقیقت ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ ان لوگوں کو کس نے بتایا ہے کہ کبوتر "باہو، باہو" کہتے ہیں۔ کیا سلیمان علیہ السلام نے انہیں اطلاع دی ہے؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو یہ پھر ان لوگوں کی منہ کی باتیں ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ تمام دنیا کے کبوتروں کی آوازیں ایک جیسی ہے۔ وہ کبوتر جو سلطان باہو کو جانتے بھی نہیں ان کی آواز بھی ایسی ہی ہوتی ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ سلطان باہو کی دنیا میں آمد سے پہلے بھی کبوتروں کی ایسی ہی آواز تھی جو اپنی بولی میں اللہ کی حمد و ثناء اور تسبیح بیان کرتے ہیں۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے پچھلے سوال کے جواب پر ایک دفعہ پھر نظر ڈال لیں۔

اصل بات جو میں سمجھتا ہوں وہ یہ ہے کہ لوگوں نے پہلے سے ایک تصور قائم کر لیا ہے کہ مزار پر کبوتر "باہو، باہو" کہتے ہیں۔ اس پیشگی تصور کی بنا پر انہیں کبوتروں کی تسبیح و تحمید میں بھی 'باہو' کی آواز سنائی دیتی ہے۔

غیراللہ کو پکارنے کا مرض انسانوں میں تو ہے حیوانوں میں نہیں۔ وہ تو صرف خالق کائنات کی ہی تسبیح بیان کرتے ہیں۔ وہ بیچارے جو جہالت کی وجہ سے خود شرک میں مبتلا ہیں انہیں سارے اپنے جیسے ہی نظر آتے ہیں، لہذا ایسا عقیدہ رکھنا بھی شرک کے خطرے سے خالی نہیں۔

  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ افکارِ اسلامی

توحید باری تعالیٰ،صفحہ:60

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)