فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 23895
(2) 'اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں' کا مطلب؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 26 October 2017 11:19 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک عالم سے میں نے سنا ہے، کہتے تھے: لا اله الا الله سے مراد ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود اس کائنات میں موجود نہیں ہے۔ بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ لا اله الا الله کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی خالق اور رازق نہیں۔ کیا کلمہ لا اله الا الله کا یہی مفہوم ہے؟ صحیح مفہوم سے آگاہ کریں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

لا اله الا الله کا صحیح مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا معبود برحق نہیں۔ یہ کہنا کہ اللہ کے سوا کسی اور معبود کا وجود ہی نہیں، غلط ہے۔ کیونکہ بہت سی چیزیں ایسی ہیں جنہیں لوگوں نے اللہ کے سوا معبود قرار دے رکھا ہے۔ بہت سے لوگ سورج چاند کی پوجا کرتے ہیں، ہندو گائے کو معبود قرار دیتےہیں، مشرکین مکہ بہت سے معبودوں کی عبادت کرتے تھے۔ بعض مسلمان انبیاء علیہم السلام اور اولیاء کو پکارتے ہیں اور ان سے فریادیں کرتے ہیں۔ قرآن مجید کے مطالعہ سے کئی معبودان کا ذکر ملتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَما ظَلَمنـٰهُم وَلـٰكِن ظَلَموا أَنفُسَهُم فَما أَغنَت عَنهُم ءالِهَتُهُمُ الَّتى يَدعونَ مِن دونِ اللَّهِ ...﴿١٠١﴾... سورة هود

یہ آیت بہت سے معبودوں کے وجود پر دلالت کرتی ہے  کہ وہ معبودان باطلہ ہیں، معبود برحق صرف اور صرف ایک اللہ ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿ذ‌ٰلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الحَقُّ وَأَنَّ ما يَدعونَ مِن دونِهِ البـٰطِلُ...﴿٣٠﴾... سورة لقمان

"یہ سب (انتظامات) اس وجہ سے ہیں کہ اللہ حق ہے اور اس کے سوا جنہیں لوگ پکارتے ہیں سب باطل ہیں۔"

لا اله الا الله کا محض یہ مطلب بھی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی خالق اور رازق نہیں۔ اللہ تعالیٰ کو خالق اور رازق تو مشرکین بھی مانتے تھے جیسے کہ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں فرماتے ہیں:

﴿قُل مَن يَرزُقُكُم مِنَ السَّماءِ وَالأَرضِ أَمَّن يَملِكُ السَّمعَ وَالأَبصـٰرَ وَمَن يُخرِجُ الحَىَّ مِنَ المَيِّتِ وَيُخرِجُ المَيِّتَ مِنَ الحَىِّ وَمَن يُدَبِّرُ الأَمرَ فَسَيَقولونَ اللَّهُ فَقُل أَفَلا تَتَّقونَ ﴿٣١﴾... سورة يونس

(دیکھیے 29/العنکبوت: 61، 63، 31، لقمٰن: 25، 23/المومنون: 84 تا 90)

اللہ تعالیٰ کو خالق و رازق ماننے کے باوجود مشرکین لا الہ الا اللہ کا انکار کرتے تھے، قرآن مجید میں ہے:

﴿إِنَّهُم كانوا إِذا قيلَ لَهُم لا إِلـٰهَ إِلَّا اللَّهُ يَستَكبِرونَ ﴿٣٥ وَيَقولونَ أَئِنّا لَتارِكوا ءالِهَتِنا لِشاعِرٍ مَجنونٍ ﴿٣٦﴾... سورة الصافات

جن لوگوں نے لا الہ الا اللہ کی تفسیر "اللہ کے سوا کوئی اور رزاق نہیں ہے" بیان کی ہے دراصل انہوں نے اپنے شرکیہ عقائد کو رائج کرنے کے لیے چور دروازہ کھولنے کی کوشش کی ہے۔ تاکہ اللہ کو خالق و رازق لا الہ الا اللہ کہہ کر مان لیں مگر عبادت جس کی چاہیں کریں، اللہ کے بندوں اور ان کی قبروں کو پوجنا، ان کا طواف کرنا، ان کے لیے نذریں اور چڑھاوے چڑھانا وغیرہ سب کاموں کا جواز نکال لیا جاتا ہے۔ اعاذنا الله منها

  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ افکارِ اسلامی

توحید باری تعالیٰ،صفحہ:36

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)