فتاویٰ جات: علاج ومعالجہ
فتویٰ نمبر : 2385
جادو سے جادو کا علاج اور اس کی کمائے کی بارے میں کیا حکم ہے؟
شروع از بتاریخ : 30 January 2013 10:46 AM
 السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

1۔جادو سے جادو کا علاج کرنا درست ہے کہ نہیں؟ اس سے حاصل ہونے والی آمدنی حلال ہے یا حرام؟ جو آدمی جادو کے ذریعہ سے جادو کا علاج کرتا ہے تو دوسرا آدمی جو اس کو جانتا ہے کہ یہ جادو وغیرہ کرتا ہے تو کیا وہ آدمی اس سے کوئی چیز کھاسکتا ہے کہ نہیں؟ یا اس کے ساتھ کھانا جو اس کی جادو کی کمائی نہیں رزق حلال ہے اس کے متعلق کیا حکم ہے؟ یعنی مکمل طور پر اس کے ساتھ لین دین ، کھانا پینا، جائز ہے کہ نہیں؟ کیونکہ ہم نے سنا ہے کہ جادو کرنے والا یا جادو کے ساتھ علاج کرنے والا مشرک ہے؟ ایسا آدمی اگر کسی کو تحفہ دے ، نقدی کی صورت میں یا کسی اور چیز کی صورت میں وہ تحفہ لینا جائز ہے کہ نہیں؟

2۔   کسی مسحورہ (جادو کی ہوئی) عورت کو تعویذ دینا، جس میں سورۂ فاتحہ ، سورۂ یونس کی آیت نمبر: ۸۱ ﴿مَاجِئْتُمْ بِه السِّحْرُ ﴾ سے آیت :۸۲ ﴿مُجْرِمُوْنَ﴾ تک اور یہ الفاظ: «یَا حَیُّ حِیْنَ لاَ حَیَّ فِیْ دیمومة ملکه وبقائه یاحيُّ » یہ تینوں چیزیں لکھ کر دینا اور کہنا کہ اس تعویذ کو پانی میں ڈال کر پانی پینا بھی ہے اور اس پانی کے ساتھ غسل بھی کرنا ہے کیا یہ جائز ہے؟

3۔     کیا ایسے آدمی (جادو سے علاج کرنے والے) کے پیچھے نماز ہوتی ہے کہ نہیں؟

_________________________________________________

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

درست نہیں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: 

«اِجْتَنِبُوا السَّبْعَ المُوبِقَاتِ۔ قَالُوْا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَمَا هنَّ؟ قَالَ: الشِّرْك بِاللّٰہِ وَالسِّحْرُ »  [« وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلاَّ بِالْحَقِّ وَاَکْلُ الرِّبَا وَاَکْلُ مَالِ الْیَتِیْمِ وَالتَّوَلِّی یَوْمَ الزَّحْفِ وَقَذْفُ المُحْصَنَاتِ الغَافِلاَتِ المُوْمِنَاتِ»

  ’’ سات مہلک کاموں سے بچ کر رہو۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ وہ سات کام کون کون سے ہیں؟ آپ نے فرمایا: (۱) اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا۔ (۲) جادو کرنا۔ (۳) اللہ تعالیٰ کی حرام کی ہوئی کسی جان کو ناحق قتل کرنا۔ (۴) سود خوری۔ (۵) یتیموں کا مال کھانا۔ (۶) کفار سے مقابلہ کے دن پیٹھ پھیر کر بھاگ جانا۔ (۷) پاک دامن اور عفت مآب اہل ایمان عورتوں پر تہمت طرازی1 جادو کے ذریعہ حاصل شدہ مال و کمائی حرام ہے۔ بدلیل الحدیث المتقدم۔

2۔    تعویذ قرآنی ہو، خواہ غیر قرآنی حدیثی ہو ، خواہ غیر احادیث رسول اللہ ﷺ سے ثابت نہیں۔

3۔         اگر اس کا جادو کفر یا شرک کے درجہ تک پہنچ چکا ہے تو اس کی امامت میں نماز درست نہیں، ورنہ اسے مستقل امام نہیں بنایا جاسکتا۔

فتاوی احکام ومسائل

کتاب العقائد ج 2 ص 126۔127

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)