فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 23811
(47) دین اور مذاہب میں فرق
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 17 October 2017 04:19 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

دین اورمذاہب میں کیا فرق ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

دین مخصوص عقائد رکھنے اورمخصوص اخلاقی، روحانی اورسماجی تعلیمات کےمجموعہ کانام ہے۔ دین کےساتھ جزا اورسزا کاتصور وابستہ ہے۔ لفظ دین،دان یَدِینُ سےنکل ہےجس کامطلب ہے بدلہ دینا۔ فرمایا:

﴿مٰلِك ِ يَوِمِ الدِّين﴾ ’’ وہ جزا اورسزا کےدن کا مالک ہے۔،،(الفاتحہ : 1؍3 )

ایک عربی شاعر نےکہا: دَنّاَهُم كَماَ دَانُوا.  ہم نے انہیں ویسا ہی بدلہ دیا جیسا انہوں نے دیاتھا،،جزا وسزا کاتصور اسی وقت پورا ہوسکتاہے جبکہ انسان کسی امتحان سےگزراور اور امتحان کےلیے قواعد اورقوانین کاہوناضروری ہے۔اگر قانون نہ ہوتو پھر قانون کی خلاف ورزی کیا اور کیسے؟ اورپھر کیسا بدلہ اورکیسی سزا یاجزا؟ اوریوں دین کےساتھ قاعدہ قانون کاہونا ضروری پایا۔ لوگون نےبہت سےدین آزمائے، اللہ تعالیٰ نےصرف دین اسلام کوپسندیدہ قراردیا۔فرمایا:

﴿اِنَّ الدِّينَ عِندَاللهِ الاِسلٰمُ﴾ ’’  اللہ کےنزدیک دین صرف اسلام ہے۔،،( آل عمران 3؍ 19 )

﴿  وَمَن يَبتَغِ غَيرَ الإِسلـٰمِ دينًا فَلَن يُقبَلَ مِنهُ وَهُوَ فِى الءاخِرَةِ مِنَ الخـٰسِرينَ ﴿٨٥﴾... سورة آل عمران

’’ اور جوشخص اسلام کےعلاوہ کسی اوردین کےچاہے گاتو وہ اس سےقبول نہ کیا جائےگا اورایسا شخص آخرت میں گھاٹا پانےوالوں میں سےہوگا۔،،

یعنی دین کئی طرح کےہوسکتےہیں لیکن ’’الدین،، صر ف اسلام ہے، جسےدین اللہ (اللہ کادین)  ﴿ افغيردين الله يبغون ﴾ اوردين الحق ﴿ هوالذى ارسل رسوله بالهدىٰ ودين الحق﴾ بھی کہاگیا ۔

کفار کےدین کوبھی ان کی طرف منسوب کیاگیا: ( لکم دینکم ولی دین )           

’’تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین ۔،،                               

دین اسلام اتنا ہی قدیم ہےجتنی کہ انسانی زندگی اوراس کےبنیادی عقائدتین ہیں:

اللہ پرایمان ،رسولوں پرایمان اورآخرت کی زندگی پرایمان۔ زندگی بسر کرنے کےلیے جوقوانین اللہ کی طرف سےدیے گئے انہیں شریعت کہاجاتاہے۔شریعت میں اختلاف ہوا ہے، بنیادی عقائد  میں نہیں، چنانچہ موسیٰ﷤  کی شریعت اورمحمدی شریعت میں کئی باتوں میں اختلاف ہے۔ دین اسلام سےجوں جوں لوگ دور ہوتےگئے، وہ نئے نئے دین بناتے گئے، یعنی اصل توصرف دین صرف ہے، باقی ادیان اصل کون کی تحریف شدہ شکلیں ہیں۔

اب آئیے مذہب کی طرف۔ یہ لفظ ’’ ذَھبَ ،، سےنکلا ہے، یعنی جانا ، گزرنا۔

مذہب کامطلب ہوا وہ راستہ جس سے گزرا جائے اورپھر اس کا اطلاق اس طریقے پرہونے لگا جسے شخص اپنی زندگی گزارنے کےلیے اپنائے۔اس لحاظ سےبعض اوقات مذہب کالفظ دین کےمترادف بھی استعال ہواہے اوراسی بنیاد پرکہا جاتاہے:

مذہب اسلام یامذہب ہنودویہود۔

میرکےدین ومذہب کواب پوچھتے کیا کیا ہوان نےتو

قشقہ کھینچا ، دیر میں بیٹھا، کب کاترک اسلام کیا                            

پرندے کی زبان سےایک عرب شاعر کہلوانا ہے:

الحبس ليس مذهبى وليس فيه طربى                          

’’  قید میں رہنا میرامذہب نہیں اورنہ قید میری خوشی ہے۔،،

لیکن اسے اگردین اسلام کےتناظر میں دیکھا جائے تومذہب کاتصور ایک ذیلی یا ثانوی طریقے کانام ہے۔اردو میں اسے مسلک بھی کہا جاتاہے۔

تاریخ اسلام میں دوسری صدی ہجری سےکئی فقہی اورکلامی راہیں نمودار ہوئیں جنہیں مذہب کانام دیا گیا، جیسے فقہ کی بنیاد پرحنفی، مالکی،شافعی، حنبلی،جعفری مذاہب اورعلم کلام(اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات سےمتعلق علم) کی بنیاد پر بھی بہت سےمذاہب ہوئے جن میں مذہب سلف، معتزلہ، اشاعرہ، ماتریدیہ مذہب زیادہ مشہور ہوئے۔ تصوف میں اسے طریقت کانام دیا گیا ہے اوریوں جیلانی، نقشبندی ، شاذلی، چشتی طریقے نمودارہوئے۔ محمد مغنیہ کی مشہور کتاب ہے:’’ الفقه على المذاهب الخمسة،،

 جس میں مذکورہ بالا پانچ فقہوں کےمسائل ذکر کئےگئےہیں ۔

اس تفصیل کی بنا پرکہا جاسکتاہےکہ تمام مسلمان بحیثیت دین، دائرہ اسلام میں داخل ہیں لیکن پھرمذاہب کےاعتبار سےان کی تقسیم در تقسیم ہوتی چلی جاتی ہے۔

مذاہب پرچلتے وقت ایک مسلمان کاوتیرہ یہ ہونا چاہیے کہ تعصب صرف دین اسلام سےہو، مذہب یامسلک سےنہیں۔

اصل قرآن وسنت ہے۔ جس مذہب کی جوبات قرآن وسنت سےقریب ہوگی وہ قابل قبول ہےورنہ نہیں۔

ہرمذہب کےچند جید علماء نےاسی اصول کواپنایا ہے۔ حنبلی فقہ کےپیروکارعموم امام احمد کی ترجیحات پرعمل کرتےہیں لیکن حنابلہ میں سے امام ابن تیمیہ ،امام ابن قیم اورموجودہ دور میں شیخ عبدالعزیز بن باز بہت سےمسائل میں حنبلی فقہ سےاختلاف رکھتےتھے اورعقائد میں سارےحنبلی ،مذہب سلف کےقائل ہیں ،معتزلہ یااشاعرہ کےنہیں ۔

خود امام ابوحنیفہ  کےدومعروف شاگردوں ابویوسف اورمحمدبن حسن شیبانی نےامام صاحب سےدوتہائی مسائل میں اختلاف کیا۔ یہی حال مالکی اورشافعی فقہ کےجید علماء کاہے۔ جعفری (شیعہ فقہ ) سےانتساب رکھنے والوں میں محمدموسوی نےکتاب

’’ تصحيح عقائد الشيعة،، لکھی  جس میں انہوں نے ان مسائل میں اصلاح کی دعوت دی جواہل سنت سے نزاع کاباعث ہیں اور جن میں قرآن وسنت کی روشنی میں اصلاح کی گنجائش ہے۔

ان پانچوں مذاہب نےایک علمی ذخیرہ چھوڑا ہےاوران سےاستفادہ کرنا وقت کی ضرورت ہےاوریہ استفادہ قرآن وسنت کی روشنی میں ہی مطلوب ہےتاکہ مسلمان اس عہد سےزیادہ سےزیادہ قریب ہوسکیں جب صرف ایک ہی مذہب تھا اور وہ تھا:

ما أَناَ عَليهِ وأَصحَابِى ،  یعنی ارشاد رسول کہ جب آپ سے فرقہ ناجیہ کےبارےمیں پوچھا گیا توفرمایا: ’’ راستہ جس پرمیں ہوں اورمرےصحابہ ہیں۔،،

اور یہ بات واضح ہےکہ صحابہ کےدور میں صرف قرآن وسنت ہی کوبطور حجت پیش کیاجاتاتھا، زیادہ سے زیادہ کبار صحابہ کےاجتہادات کولیکن اس وقت فقہی اورکلامی مذاہب کاظہور نہیں ہوا تھا اوریہ بات بھی سب کےعلم میں ہےکہ جن جن ائمہ کی طرف فقہی مذاہب کاانتساب ہواہے،انہوں نےصاف صاف کہا ہےکہ یہ ہماری رائےہے، اسے قرآن وحدیث پرپرکھو، اگران کےمطابق ہوتو قبول کرلو، وگرنہ دیوار پردے مارو۔

اورہم بھی علماء سےیہی توقع رکھتےہیں کہ وہ عصر حاضر کےمسائل کوحل کرنےکےلیے اسی کواپنائیں گےکہ اسی میں دنیا وآخرت کی بھلائی ہے۔

  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 11 

 

تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)