فتاویٰ جات: عقیدہ و منہج
فتویٰ نمبر : 2369
(128) کفریہ اور شرکیہ لٹریچر شائع والے کے بارے میں حکم
شروع از بتاریخ : 27 January 2013 01:48 PM
 السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جو جماعت کفریہ اور شرکیہ واقعات والی کتابیں شائع کرتی ہے، ان کا فعل کیساہے کیا یہ خود شرک کے مترادف تو نہیں ، جبکہ شرکیہ نظریات والے ان کتابوں سے تقویت حاصل کرتے ہیں۔ مثلاً کراماتِ اہلحدیث ، ص:۹۰ ، ۹۱ اور بھی بہت سی کتابیں ہیں۔

_______________________________________________________________

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

کفریہ اور شرکیہ واقعات والی عبارت نقل فرمائیں تاکہ جواب علی وجہ البصیرۃ دیا جاسکے۔ کیونکہ بسااوقات کتاب کو پڑھنے والا سمجھ بیٹھتا ہے کہ یہ عبارت کفریہ یا شرکیہ ہے۔ مگر واقع میں ایسا نہیں ہوتا۔ رہی بات شرکیہ نظریات والوں کی تقویت حاصل کرنے والی تو وہ تو قرآنِ مجید کی کئی آیات اور رسول اللہ ﷺ کی کئی احادیث ثابتہ سے بھی تقویت حاصل کرتے ہیں۔ مثلاً:

﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَسْبُكَ اللَّـهُ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ (٦٤)﴾ (الأنفال)

’’ اے نبیﷺ! آپ کے لیے اور ان مومنوں کے لیے جو آپ کے حکم پر چلتے ہیں، اللہ ہی کافی ہے۔‘‘

﴿ وَمَا نَقَمُوا إِلَّا أَنْ أَغْنَاهُمُ اللَّـهُ وَرَ‌سُولُهُ مِن فَضْلِهِ ۚ (٧٤)﴾ (التوبة)

’’ یہ صرف اسی بات کا انتقام لے رہے ہیں کہ انہیں اللہ نے اپنے فضل سے اور اس کے رسول نے دولت مند کردیا۔‘‘

﴿فَسَيَرَ‌ى اللَّـهُ عَمَلَكُمْ وَرَ‌سُولُهُ﴾  (التوبة)

’’ اللہ، اس کا رسول اور سب مومن تمہارے عمل کو دیکھ لیں گے۔‘‘

﴿النَّبِيُّ أَوْلَىٰ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ ۖ﴾ (الأحزاب)

’’ پیغمبر مومنوں پر خود ان سے بھی زیادہ حق رکھنے والے ہیں۔‘‘

﴿وَفِيكُمْ رَ‌سُولُهُ ۗ﴾ (آل عمران)

’’ اور تم میں اس کا رسول ہے۔‘‘

﴿ وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُوا أَنفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُ‌وا اللَّـهَ وَاسْتَغْفَرَ‌ لَهُمُ الرَّ‌سُولُ﴾  (النسآء)

’’ اور اگر یہ لوگ جب انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا۔ تیرے پاس آجاتے اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے اور رسول بھی ان کے لیے استغفار کرتے۔‘‘

﴿ لِأَهَبَ لَكِ غُلَامًا زَكِيًّا (١٩) ﴾ (مریم)

’’تاکہ تجھے ایک پاکیزہ لڑکا دوں۔‘‘

«إِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَاللّٰہُ مُعْطِیْ» ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی چاہتا ہے اسے دین کی سمجھ دے دیتا ہے اور دینے والا تو اللہ ہی ہے۔ میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں اور یہ امت ہمیشہ اللہ کے امر پر قائم رہے گی۔ جو ان کی مخالفت کرے گا وہ ان کو نقصان نہ دے سکے گا۔ تاآنکہ اللہ کا حکم (قیامت) آجائے۔ ‘‘ [صحیح بخاری/ کتاب العلم / باب من یرد اللہ به خیرا یفقهه/ کتاب فرض الخمس/باب قول اللّٰہ تعالیٰ ﴿فَأَنَّ لِلّٰہِ خُمُسه وَلِلرَّسُوْلِ ﴾  [الانفال:۴۱] یعنی للرسول قسم ذلك  یَدَه الَّتِیْ یَبْطِشُ بِھَا  [’’ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جس شخص نے میرے کسی دوست سے دشمنی کی، میرا اس سے اعلانِ جنگ ہے۔ میں نے بندے پر جو چیزیں فرض کی ہیں ان سے زیادہ مجھے کوئی چیز محبوب نہیں جس سے وہ میرا قرب حاصل کرے۔ (یعنی فرائض کے ذریعے سے میرا قرب حاصل کرنا، مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے۔) اور میرا بندہ نوافل کے ذریعے سے (بھی) میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے۔ حتی کہ میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں اور جب میں اس سے ( اس کے ذوق عبادت ، فرائض کی ادائیگی اور نوافل کے اہتمام کی وجہ سے) محبت کرتا ہوں تو ( اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ) میں اس کے وہ کان بن جاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے ، اس کی وہ آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے ، اس کا وہ ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کاوہ پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ اور اگر وہ مجھ سے کسی چیز کاسوال کرے تو میں اسے وہ ضرور عطا کرتا ہوں اور اگر کسی چیز سے پناہ طلب کرے تو میں اسے ضرور اس سے پناہ دیتا ہوں۔ ‘‘  (  صحیح بخاري/ کتاب الرقاق/ باب التواضع) تو اب قرآنِ مجید اور کتب حدیث کے شائع کرنے کے متعلق کیا خیال ہے؟

 وضاحت:

اس حدیث سے اہل بدعت و اہل شرک اپنے باطل عقیدہ پر استدلال کرتے ہیں، حالانکہ حدیث کا وہ مفہوم ہی نہیں ہے جووہ بیان اور پھر اس سے بنائے فاسد علی الفاسد کا ارتکاب کرتے ہیں حدیث کا سیدھا اور واضح مفہوم یہ ہے کہ جب انسان فرائض کی ادائیگی کے ساتھ نوافل کا بھی اہتمام کرے تو وہ اللہ کا خاص محبوب بن جاتا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اسے اللہ کی خاص مدد حاصل ہوتی ہے۔ اللہ اسے اپنی حفاظت میں لے لیتا ہے، اس کے اعضاء کی نگرانی فرماتا ہے۔ چنانچہ وہ ان سے اللہ کی نافرمانی کرنے سے بچ جاتا ہے اور کانوں سے وہی کچھ سنتا، آنکھوں سے وہی کچھ دیکھتا، ہاتھوں سے وہی کچھ پکڑتا ہے جو اللہ کو پسند ہے ، اس کے قدم اسی چیز کی طرف اٹھتے ہیں جس میں اس کی رضا مضمر ہوتی ہے اور جب وہ محبوبیت اور اطاعت کے اس مقام پر فائز ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی دعاؤں کو بھی قبول فرماتا ہے۔ 

ولی کسی مخصوص وضع و ہیئت کے حامل کو یا کسی گدی نشین کو مجذوب یا نیم پاگل کو یاذ کرو عبادت کے مخصوص خود ساختہ اطوار اختیار کرنے والے کو نہیں کہا جاتا، بلکہ اللہ کاولی وہ ہے جو فرائض اسلام کا پابند نوافل کا شوقین اور زندگی کے ہر شعبے میں اطاعت الٰہی کا خوگر ہے۔

ایسے اولیاء اللہ کی صحبت اللہ کی رضاء کا اور ان سے دشمنی اللہ کی شدید ناراضگی اور غضب کا باعث ہے۔

نوافل کا اہتمام یقینا اللہ کے قرب کا باعث ہے، لیکن فرائض و سنن کی پابندی کے ساتھ۔ اگر پہلے فرائض و سنن کی پابندی نہیں ہے تو اس کی پابندی کے بغیر نوافل کی کوئی حیثیت نہیں۔ فرائض و سنن کی ادائیگی کے بغیر اللہ کے قرب کی خواہش ایک خام خیالی اور باطل محض ہے۔

 


فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 09 ص 


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)