فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2344
(103) کتاب العقائد
شروع از بتاریخ : 21 January 2013 10:41 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرے علم کے مطابق لفظ خدا اللہ تعالیٰ کے لیے استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔ اور ہم اللہ کے لیے وہی اسماء و صفات بیان کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے خود بیان کیے ہیں یا نبی کریم ﷺ نے بتائے ہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں، لفظ خدافارسی لفظ ہے اور اس کا معنی معبود کے سوا اور کچھ بھی ہے؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله، أما بعد!

دیکھیں الفاظ ’’ شیٔ، شخص اور نفس ‘‘ اللہ تعالیٰ کے لیے استعمال کرنا درست ہے۔ (’’اور اللہ اپنے نفس سے تمہیں ڈراتا ہے۔‘‘ ) (آل عمران: ۲۸)

نبی کریم ٓﷺ کا فرمان ہے: « لاَ شَخْصَ أَغَیْرُ مِنَ اللّٰہِ » ’’ اللہ سے زیادہ غیرت مند اور کوئی نہیں۔‘‘ (صحيح بخارى، كتاب التوحيد)

سورۂ انعام میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’ اے پیغمبر! ان سے پوچھ کس شے کی گواہی سب سے بڑی گواہی ہے؟‘‘(الأنعام:۱۹) تو اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کو شیٔ سے تعبیر کیا۔)

مگر یہ الفاظ اسماء حسنی میں شامل نہیں۔ اسی طرح لفظ ’’ موجود ‘‘ اللہ تعالیٰ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اسماء حسنیٰ میں شامل نہیں۔ رہا لفظ ’’ خدا ‘‘ تو یہ ہماری زبان و لغت میں ’’ اللہ ‘‘ کے ترجمہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اسماء حسنیٰ میں اس کو کوئی بھی شمار نہیں کرتا، جس طرح لفظ ’’ مہربان ؍رحیم ‘‘ کے ترجمہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اسماء حسنیٰ میں شمار نہیں کیا جاتا۔ رہا آپ کا فرمان ’’ لفظ خدا فارسی لفظ ہے اور اس کا معنی معبود کے سوائے اور کچھ بھی ہے۔‘‘ تو اتنے سے لفظ خدا کے اللہ کے لیے استعمال کی ممانعت نہیں نکلتی، جیسا کہ مہربان لفظ ہے۔ ہے بھی فارسی اللہ کے علاوہ دوسروں پر بھی بولا جاتا ہے۔ خود عربی الفاظ ’’ سمیع ، بصیر رؤوف اور رحیم ‘‘ اللہ تعالیٰ پر بھی بولے جاتے ہیں اور انسانوں پر بھی بولے جاتے ہیں تو آیا ان کے متعلق بھی یہ کہاجائے گا کہ ان الفاظ کا اللہ تعالیٰ کے لیے استعمال درست نہیں؟ نہیں! ہرگز نہیں۔


فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 09 ص 


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)