فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 2331
(617) چوری کا بدلہ
شروع از بتاریخ : 09 January 2013 12:10 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگر ایک آدمی کی چوری ہوجائےتو کیا وہ چوری کابدلہ لےسکتا ہےاور اگر بدلہ نہ لے کیا چور سےوہ چیز اصلی قیمت پر خریدنا حلال ہے یا حرام ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

چوری کا بدلہ چوری سے لینا ناجائز اور حرام عمل ہے،کیونکہ چوری ایک حرام عمل ہے،خواہ وہ کسی سے بدلہ لینے کے لئے ہی کیوں نہ کی جائے۔ارشاد باری تعالی ہے:

﴿وَالسّارِ‌قُ وَالسّارِ‌قَةُ فَاقطَعوا أَيدِيَهُما.......٣٨﴾...... سورة المائدة

چور مرد اور چور عورت کے ہاتھ کاٹ دو

اگر آپ کو چور کا علم ہو جاتا اور آپ اس کے پاس اپنا مال دیکھ لیتے ہیں تو اس کو بازیاب کروانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ عدالت یا کسی بھی ذمہ دار کمیٹی کے ذریعے چور سے اپنا مال وصول کریں۔

اور اگر آپ ایسا نہیں کر سکتے تو لا علمی میں چور سے اصلی قیمت پر مال خریدنے میں کوئی حرج نہیں ہے،کیونکہ چوری اس کا ذاتی عمل ہے،جبکہ آپ نے قیمتا خریدنا ہے،لہذا اس کی چوری آپ کی خریداری پر اثر انداز نہیں ہو گی۔ لیکن اگر آپ کو علم ہو جائے کہ یہ چوری کا مال ہے تو پھر خریدنا ناجائز اور حرام ہے،کیونکہ اس میں چور کی حوصلہ افزائی اور معاونت ہے،بلکہ آپ پر واجب ہے کہ آپ چور کو توبہ کی ترغیب دیں اور صاحب مال کو اس کی خبر کریں اور اس تک مال پہنچانے کا انتظام کریں۔

هذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)