فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 23290
(319) غیراللہ کی نذرونیاز اور گیارھویں کا ختم
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 21 September 2017 09:52 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

1۔جانور زندہ  بنام بڑے  پیر صاحب کے نامزد کرکے رکھنا،گیارھویں تاریخ کو نہلا کے ذبح کرنا اور کھانا پکا کے زمین لیپ پوت کے تھال بھر کے رکھنا اور بڑی تعظیم سے سامنے کھڑے ہوکے اس کھانے پر فاتحہ پڑھنا اور اس وقت پیرصاحب کو وہاں حاضر وناضر فریاد رس جان کے مرادیں مانگنا درست ہے یا نہیں؟

2۔وقت مصیبت کے بڑے پیر صاحب کو پکارنا کہ یا بڑے پیر میری مراد برلائیے اور وقت  پکارنے کے پیر صاحب کو سننے والا جاننا درست ہے یا نہیں؟

3۔قبروں پر عرس کرنا اور چراغ بہت جلانا،روشنی ہر طرح کی کرنا اور تیل بہت خرچ کرنا اور کھانا مٹھائی چڑھانا اور راگ گانا اور قوال خوانی کرنا اور اہل قبور کو سننے والا جاننا درست ہے یا نہیں؟

4۔مٹھیا کا چاول واسطے خرچ متعلق مسجد کے نکالا جاتا تھا،اس کو جو آدمی منع کرکے اُس چاول سے نیاز گیارھویں کرنے کو کہا،وہ آدمی کیسا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جانور زندہ بنام بڑے پیر صاحب کے نامزد کرکے رکھ کر گیارھویں تاریخ کو نہلا کے ذبح کرکے اور کھانا پکا کے زمین لیپ پوت کے تھال بھر کے رکھ کر بڑی تعظیم سے کھڑےہوکے اس کھانے پر فاتحہ پڑھنا اور اس وقت پیر صاحب کو وہاں حاضر وناضر وفریاد رس جان کے مرادیں مانگنا اوروقت مصیبت کے بڑے پیر صاحب کو پکارنا کہ یا بڑے پیرمیری مراد برلائیے اور وقت پکارنے کے پیر صاحب کو سننے والا جاننا اور قبروں پر عرس کرنا،چراغ بہت جلانا،روشنی ہر طرح کی کرنا اور کھانا مٹھائی چڑھانا اور اہل قبور کوسننےو الا جاننا،یہ سب امور نادرست ہیں۔کسی آیت یا مستندحدیث سے یا عمل صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین   سے ثابت نہیں۔اس لیے یہ بدعت وضلالت ہیں۔جو شخص ان امور کو جائزبتائے،محض جاہل اور قرآن وحدیث سے بے خبر ہے۔اس قسم کے امور نہ خود حضرت محمد رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے کیے ہیں نہ کسی کو ان کی تعلیم  فرمائی ہے۔

جوشخص کہے کہ یہ امور درست ہیں،اس کو جھوٹا جانناچاہیے۔وہ محض پیٹ کے واسطے بندگان خدا کوبہکاتا ہےاور یہ جان لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ:

﴿ وَلـٰكِن رَسولَ اللَّهِ وَخاتَمَ النَّبِيّـۧنَ...﴿٤٠﴾... سورة الأحزاب

سے پیغمبری حضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  پر ختم کردی۔اب آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی پیغمبر ہوا ہے نہ ہوگا۔جس قدر احکام خداوندی کہ بندوں کے حق میں مفید تھے،وہ سب اللہ پاک حضر ت محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  پر اتار کر دین کو پورا کرچکا اور جب دین  پورا ہوچکا،تب اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کو اپنے پاس بلالیا۔اب جو کوئی احکام مذکورہ کے سوائے کوئی دوسرا حکم جاری کرے،وہ حکم ہر گز پابندی کے قابل نہیں ہے۔اور کسی مسلمان کو اس حکم کا ماننا جائز نہیں ہے۔مسلمان کو اس حکم کے ماننے سے بچنا چاہیے،ورنہ قیامت میں ضرور پکڑ ہوگی اور اللہ تعالیٰ پوچھے گا(ہم تو تمہارا دین پورا کرچکے تھے اور:

﴿اليَومَ أَكمَلتُ لَكُم دينَكُم...﴿٣﴾... سورة المائدة

نازل کرکے اس کی اطلاع بھی دے دی تھی،پھر تم نے دین کو ناقض کیوں سمجھا اور ہماری بات کو باور کیوں نہ کیا،سچ کیوں نہ سمجھا؟)اس وقت اس کا کچھ جواب بن نہ آئے گا۔

گیارھویں کی نیاز کرنے کا بھی کوئی ثبوت قرآن مجید یا حدیث شریف سے نہیں ہے،اور مسجد کا بنوانا یامسجد کی مرمت کرنا،اس کا بہت ثواب ہے،پس جو شخص اس مال کو ،جو مسجد کے لیے نکالا گیا ہے،گیارھویں کی نیاز میں خرچ کرنےکو کہے،محض نادان اور بے خبر اور مناع خیر ہے۔

 ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 04


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)