فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 23289
(318) غیر اللہ کی تعظیم اور حاجت روائی کا نظریہ
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 21 September 2017 09:48 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کسی مسلمان کو بلا حکم شرع مسجد میں نماز پڑھنے سےروکنا کیسا ہے اور مسجد کے کنویں سے باوجود غیر قوم کے پانی بھرنے کے کسی مسلمان کو پانی نہ لینے دیناکیسا ہے؟بعد نماز صبح کے مسجد کے منبر کےدائیں طرف منہ کرکے کھڑے ہونا اور کچھ دیر کے بعد رکوع کی مانند جھک کر تعظیم کرنا اور یہ سمجھنا کہ یہ تعظیم سید عبدالقادر  رحمۃ اللہ علیہ   کی کرتے ہیں اور یہ عقیدہ رکھنا اور کہنا کہ پیران پیر جس کو چاہیں دےسکے ہیں،کیسا ہے؟ایسے شخص کے پیچھے جس میں یہ سب باتیں بھری ہوں ،نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں؟ان کے ساتھ میل میلاپ رکھنا اور ان کی دعوت قبول کرنا چاہیے یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

کسی شخص کو یہ حق نہیں ہے کہ دوسرے نمازی کومسجد میں نماز پڑھنے سے روکے۔

اللہ تعالیٰ فرماتاہے:

﴿  وَمَن أَظلَمُ مِمَّن مَنَعَ مَسـٰجِدَ اللَّهِ أَن يُذكَرَ فيهَا اسمُهُ ...﴿١١٤﴾... سورة البقرة

"اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ کی مسجدوں سے منع کرے کہ ان میں اس کا نام لیاجائے"

مسجد سے روکنابڑاظلم ہےاور ظلم کو باوجود قدرت کے نہ روکے،وہ مثل ظالم کے ہے اور ظلم کی درپردہ اعانت کرنا بھی ظلم ہے اور فسق۔حضرت شیخ عبدالقادر  رحمۃ اللہ علیہ   کو حاضر وناظر جان کر ان کی تعظیم کے لیے رکوع کی طرح جھکنا سخت بدعت ہے اور یہ سمجھنا کہ بڑے پیر  رحمۃ اللہ علیہ   جس کو چاہیں دے سکتے ہیں،محض غلط اور بڑے گناہ کی بات ہے،چونکہ ایسا شخص کلمہ  توحید اوررسالت کا بلا اکراہ دل سے مقر ہے،اس لیے ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے۔حدیث میں ہے:

"قال رسول اللہ صلى الله عليه وسلم : صلوا خلف كل بر وفاجر"[1]

"برے بھلے سب کے پیچھے نماز پڑھو"

فاسقوں سے نہ ملنا،اگر اپنے بچانے کو ہے یا اس نظر سے کہ نہ ملنے سے گمان ترک فسق کا ہے تو واجب ہے۔فاسق کی دعوت میں اگر کوئی فسق کی چیز شامل ہے تو دعوت نہ قبول کرنی چاہیے۔


[1] ۔سنن دارقطنی(2/57) واللفظ لہ سنن ابی داود رقم الحدیث(1125) امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ   اس کی سند کے متعلق فرماتے ہیں:"مكحول لم يسمع من ابي هريرة رضي الله عنه ومن دونه ثقات"حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ   فرماتے ہیں:رواه دارقطني.....من طرق كلها واهبة جدا"نیز امام عقیلی رحمۃ اللہ علیہ   فرماتے ہیں:"ليس في هذ المتن اسناد يثبت"نیز امام احمد رحمۃ اللہ علیہ   اور امام دار قطنی رحمۃ اللہ علیہ   کی بھی یہی ر ائے ہے۔

علامہ ناصر الدین البانی رحمۃ اللہ علیہ   اس حدیث کے تمام طرق واسانید کا جائزہ لینے کے بعد فرماتے ہیں:"فقد نبين من هذا التجريح والتتبع لطرق الحديث انها كلها واهية جدا كما قال الحافظ ابن حجررحمة الله عليه  في التخليص(ص:١٢٥) ولذلك فالحديث يبقي علي ضعفه مع كثرة طرقه لان هذه الكثرة الشيديدة الضعف في مفرد اتها لا تعطي الحديث قوة في مجموعها كماهو مقرر في علم الحديث فالحديث مثل صالح لهذه القاعدة التي فلما يراعها من المشتغلين بهذا العلم الشريف"(ارواء الغليل:٢/٣-١)

خلاصہ کلام یہ کہ یہ حدیث سخت ضعیف ہے،جو قطعاً قابل احتجاج نہیں ہے۔علاوہ ازیں مذکورہ بالا سوال میں جس شخص کے پیچھے نماز پڑھنے کی بابت سوال کیا گیا  ہے،سائل کے حسب تصریح اس کے عقیدے میں غیر اللہ کی عبادت اور اس کے لیے قدرت وتصرف جیسے شرکیہ عقائد پائے جاتے ہیں،جن کی موجودگی میں اس کے پیچھے نماز درست نہیں،کیوں کہ بلاشبہ یہ عقائد شرک اکبر میں داخل ہیں۔
 ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 04


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)