فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2328
(614) وضو میں اعتدال
شروع از بتاریخ : 09 January 2013 11:47 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک عام انسان کتنی دیر میں وضو کر لیتا ہے۔ ؟جب میں وضو کرتا ہوں تو تقریبا ایک سے دو منٹ میں کرلیتا ہوں لیکن میرا ایک دوست پانچ وقت کا نمازی ہے، اوراس کا کام بھی صاف ستھرا ہے لیکن وہ ہر بار وضو پر تقریبا ۱۰ منٹ سے اوپر لگا دیتا ہے اور میں نے اس سے ایک دن کہا بھی کہ اتنا ٹائم کیوں لگاتا ہے تو وہ بولا کہ تسلی ہونی چاہیے ہے۔ میں نے اسے اپنی رائے پیش کی کہ ایک صاف ستھرا انسان جس کا کام بھی گندا نہیں تو اسے وضو میں اتنا وقت نہیں لگنا چاہیے میرے خیال سے تم وہمی ہو۔ اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا اتنا وقت لگنا چاہیے ہے جس میں وقت اور پانی کا ضیاء بھی ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آپ کی بات درست ہے ، وضو کرنے پر عموما ایک سے دو منٹ ہی لگتے ہیں۔اگر کوئی آدمی آپ کے بقول دس منٹ یا اس سے زیادہ ٹائم لگاتا ہے تو اسے وہم کی بیماری ہے،جس وجہ سے اسے تسلی نہیں ہوتی،اور وہ بار بار اعضاء کو دھوتا رہتا ہے۔ایسے آدمی کو کسی مستند ڈاکٹر سے اپنا علاج کروانا چاہئے۔وضو کرتے وقت اتنا ٹائم لگانا نہ صرف وقت کا ضیاع ہے بلکہ اس سے پانی بھی زیادہ خرچ ہوتا ہے،اور وضو میں پانی کی فضول خرچی منع ہے۔

هذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)