فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2317
(603) جادو سے بچاؤ کا طریقہ
شروع از بتاریخ : 06 January 2013 10:34 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جادو سے بچاؤ کا کیا طریقہ ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سب سے اہم طریقے جن کے ساتھ جادو کے خطرہ سے اسکے وقوع سے پہلے بچاؤ کیا جاسکتا ہے، وہ اذکار شرعیہ اور دعائیں مسنونہ ہیں۔

ان میں سے بعض اذکار ذیل میں ذکر کئے جاتے ہیں۔

1۔ہر فرضی نماز سے سلام پھیرنے کے بعد ذکر واذکار جو کہ احادیث میں وارد ہیں کرنے کے بعد آیۃ الکرسی کا پڑھنا۔

2۔اور ایسے ہی رات کو سوتے وقت آیۃ الکرسی پڑھنا۔ اور یہ آیۃ الکرسی قرآن مجید میں سب سے عظیم آیت ہے اور وہ اللہ تعالی کا یہ ارشاد ہے۔

﴿اللَّهُ لا إِلـٰهَ إِلّا هُوَ الحَىُّ القَيّومُ ۚ لا تَأخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَومٌ ۚ لَهُ ما فِى السَّمـٰو‌ٰتِ وَما فِى الأَر‌ضِ ۗ مَن ذَا الَّذى يَشفَعُ عِندَهُ إِلّا بِإِذنِهِ ۚ يَعلَمُ ما بَينَ أَيديهِم وَما خَلفَهُم ۖ وَلا يُحيطونَ بِشَىءٍ مِن عِلمِهِ إِلّا بِما شاءَ ۚ وَسِعَ كُر‌سِيُّهُ السَّمـٰو‌ٰتِ وَالأَر‌ضَ ۖ وَلا يَـٔودُهُ حِفظُهُما ۚ وَهُوَ العَلِىُّ العَظيمُ ٢٥٥﴾..... سورة البقرة

"اللہ تعالی ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو زندہ اور سب کا تھامنے والا ہے جسے نہ تو اونگھ آئے اور نہ ہی نیند آسمان وزمین میں تمام چیزیں اسی کی ملکیت ہیں کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کر سکے وہ جو ان کے سامنے ہے اور جو انکے پیچھے ہے اس کے علم میں ہے وہ اسکے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جتنا وہ چاہے اس کی کرسی کی وسعت نے آسمان نے و زمین کو گھیر رکھا ہے اور اللہ تعالی ان کی حفاظت سے نہ تو تھکتا اور نہ ہی اکتاتا ہے اور وہ بلند اور بہت بڑا ہے۔ ‘‘

3۔ اور ایسے ہی ہر فرضی نماز کے بعد ان تین سورتیں کا پڑھنا ﴿قل هو الله احد﴾ اور ﴿قل اعوذ برب الفلق﴾ اور ﴿قل اعوذ برب الناس﴾ اور ان تینوں کو فجر کی نماز کے بعد دن کے شروع اور رات کے شروع مغرب کی نماز کے بعد تین تین مرتبہ پڑھیں۔

4۔ اور ایسے ہی سورہ البقرہ کی آخری دوآیات رات کے شروع میں پڑھیں۔

ارشاد باری تعالی ہے۔

﴿ءامَنَ الرَّ‌سولُ بِما أُنزِلَ إِلَيهِ مِن رَ‌بِّهِ وَالمُؤمِنونَ ۚ كُلٌّ ءامَنَ بِاللَّهِ وَمَلـٰئِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُ‌سُلِهِ لا نُفَرِّ‌قُ بَينَ أَحَدٍ مِن رُ‌سُلِهِ ۚ وَقالوا سَمِعنا وَأَطَعنا ۖ غُفر‌انَكَ رَ‌بَّنا وَإِلَيكَ المَصيرُ‌ ٢٨٥ لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفسًا إِلّا وُسعَها ۚ لَها ما كَسَبَت وَعَلَيها مَا اكتَسَبَت ۗ رَ‌بَّنا لا تُؤاخِذنا إِن نَسينا أَو أَخطَأنا ۚ رَ‌بَّنا وَلا تَحمِل عَلَينا إِصرً‌ا كَما حَمَلتَهُ عَلَى الَّذينَ مِن قَبلِنا ۚ رَ‌بَّنا وَلا تُحَمِّلنا ما لا طاقَةَ لَنا بِهِ ۖ وَاعفُ عَنّا وَاغفِر‌ لَنا وَار‌حَمنا ۚ أَنتَ مَولىٰنا فَانصُر‌نا عَلَى القَومِ الكـٰفِر‌ينَ ٢٨٦﴾..... سورة البقرة

"رسول ایمان لایا اس چیز پر جو اسکی طرف اللہ تعالی کی جانب سے نازل کی گئی اور مومن بھی ایمان لائے یہ سب اللہ تعالی اور اسکے فرشتوں اور اسکی کتابوں اور اسکے رسولوں پر ایمان لائے اس کے رسولوں میں سے کسی ایک کے درمیان ہم فرق نہیں کرتے اور انہوں نے کہہ دیا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی اے رب ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔

اللہ تعالی کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا جو نیکی کرے وہ اسکے لئے اور جو برائی کرے وہ اس پر ہے اے ہمارے رب اگر ہم بھول گئے ہوں یا خطا کی ہو تو ہمیں نہ پکڑنا اے ہمارے رب ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا اے ہمارے رب ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں طاقت نہ ہو اور ہم سے درگزر فرما اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر تو ہی ہمارا مالک ہے ہمیں کافروں کی قوم پر غلبہ عطا فرما "

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح حدیث میں یہ ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا:

’’جس نے رات میں آیۃ الکرسی پڑھی تو اللہ تعالی کی طرف سے اس پر ایک محافظ مقرر ہوجاتا ہے اور صبح تک شیطان اس کے قریب نہیں آتا‘‘

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی صحیح حدیث میں یہ ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا :

’’جس نے رات میں سورہ بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھیں تو وہ اسے کافی ہیں‘‘

اور اس کا معنی یہ ہے کہ اسے ہر بری چیز سے کافی رہیں گی۔ واللہ تعالی اعلم۔

اور اللہ تعالی ہی زیادہ علم رکھنے والا ہے۔

5۔اور ایسے ہی کثرت کے ساتھ دن اور رات کو اور کسی بھی مکان میں داخل ہوتے ہوئے اور صحراء میں جاتے ہوئے اور فضاء اور سمندر میں ہر شر سے ان پورے کلمات کے ساتھ اللہ تعالی کی پناہ مانگنی چاہیے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول پر عمل کرتے ہوئے۔

""جو کسی منزل پر اترا اور اس نے یہ کہا-«اعوذ بکلمات اللہ التامات من شرما خلق»

"میں اللہ تعالی کے مکمل کلمات کے ساتھ پناہ چاہتا ہوں اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی"

اسے کوئی نقصان نہیں دے گی حتی کہ وہ وہاں سے کوچ کرجائے۔

6۔ اور ایسے ہی مسلمان کو چاہئے کہ وہ دن کے شروع اور رات کے شروع میں (تین بار) یہ پڑھے :

«بسم اللہ الذی لا یضر مع اسمه شئ فی الارض ولا فی السماء وهو السميع العليم »

اس کی ترغیب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت اور صحیح ہے اور یہ ہر پریشانی سے سلامتی کا سبب ہے۔

تو تعوذات اور اذکار جادو کے شر اور دوسرے شروں سے بچاؤ کے لئے سب سے بڑے اسباب میں سے ہیں جو کہ ان پر ایمان اور صدق دل کے ساتھ ہمیشگی اور اللہ تعالی بھروسہ اور اعتماد کرے گا۔

اور جادو ہوجانے کے بعد اسکی تباہی کے لئے سب سے بڑا اسلحہ ہے لیکن اسکے ساتھ ساتھ اللہ تعالی کے سامنے گریہ زاری اور اس سے اس کے زوال اور تکلیف کے خاتمے کا سوال بھی کثرت سے ہونا چاہئے۔

اور ان دعاؤں میں سے جو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جادو کے مریضوں سے علاج کے سلسلہ میں ثابت ہیں ایک یہ بھی ہے اسکے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کو دم کیا کرتے تھے۔

«اللهم رب الناس اذھب الباس واشف انت الشافی لا شفاء الا شفاؤک شفاء لایغاد رسقما »

"اے اللہ لوگوں کے رب تکلیف دور کردے اور شفایابی سے نواز تو ہی شفا دینے والا ہے تیری شفا کے علاوہ کوئی شفا نہیں ایسی شفا نصیب فرما کہ جو کسی قسم کی بیماری نہ چھوڑے"

اور ایسے ہی وہ دم جو کہ جبریل علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا تھا اور وہ انکا یہ قول ہے۔

« بسم اللہ ارقیک من کل شئ یؤذیک ومن شر کل نفس او عین حاسد اللہ یشفیک بسم الله ارقیک»

"میں اللہ کے نام سے تجھے ہر اس چیز سے دم کرتا ہوں جو کہ تکلیف دینے والی ہے اور ہر نفس کے شر سے یا ہر حاسد آنکھ سے اللہ آپ کو شفا دے میں اللہ کے نام سے آپ کو دم کرتا ہوں"

تو اسے تکرار سے پڑھے (تین بار)

مجموع فتاوی ومقالات۔الشیخ عبدالعزیزبن باز ج8

هذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)