فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 230
نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے نیٹ کا استعمال
شروع از بتاریخ : 06 December 2011 01:38 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اس پرفتن دور میں کیا کسی عورت کے لئے جائز ہے کہ وہ انٹرنیٹ کا استعمال کرے، خاص طور پہ نوجوان لڑکیاں۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عورت ہو یا مرد، انٹرنیٹ دونوں کے لیے یکساں طور آزمائش یا فتنہ ہے۔اسے عورتوں کے ساتھ خاص کرنے کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آئی ہے، بلکہ شاید نوجوان لڑکوں کے لیے یہ فتنہ نوجوان لڑکیوں سے بڑھ کر ہے۔

پس اس کے فتنہ ہونے سے انکار نہیں ہے، لیکن اگر اسلامی تعلیمات کو ملحوظ رکھتے ہوئے اسے استعمال کیا جائے تو اس کا استعمال مردوں اور خواتین دونوں کے لیے جائز ہے اور اگر ان اسلامی تعلیمات کا لحاظ نہ رکھا جائے تو مرد ہوں یا عورت، دونوں کے لیے ناجائز ہے۔ اس کا اصل حکم اس کے استعمال پر ہے۔

 ھذا ما عندی واللہ أعلم بالصواب

محدث فتوی

فتوی کمیٹی


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)