فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 22986
(30) لفظ عشق کا استعمال
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 17 September 2017 03:05 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرا سوال یہ ہے کہ عشق کا لفظ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں، قرآن و حدیث سے واضح کریں اور ساتھ ہی عشق لفظ کی لفظی تشریح مستند کتب سے درج کریں۔ (محمد شار رخ، میانوالی)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

قرآن حکیم اور حدیث رسول میں اللہ کے لئے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جو لفظ کثرت سے آیا ہے وہ محبت ہے جیسے اللہ کا ارشاد ہے:

"اے ایمان والو! جو کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے گا (یاد رکھے) عنقریب اللہ ایسی قوم لے آئے گا جن سے وہ محبت کرتا ہو گا اور وہ اس سے محبت کرتے ہوں گے۔"

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا:

"اے معاذ یقینا میں تیرے ساتھ محبت کرتا ہوں"۔ تو معاذ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگے "اے اللہ کے رسول میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میں بھی آپ کے ساتھ محبت کرتا ہوں"۔ (مسند احمد 5/230، 244 رقم 22119، ابوداؤد 1022، صحیح ابن خزیمہ 751، صحیح ابن حبان 2020)

قرآن حکیم میں محبت کے الفاظ والی کئی ایک آیات ہیں اور اسی طرح احادیث صحیحہ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب رضی اللہ عنھم ایک دوسرے کے لئے محبت کا لفظ استعمال کرنا چاہیے اور یہ بھی یاد رہے کہ قرآن حکیم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بھی صحیح حدیث میں عشق کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا۔ البتہ ایک مصنوعی، بناوٹی اور جعلی روایت میں لفظ عشق استعمال ہوا ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کر کے یوں بیان کی گئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"جس نے عشق کیا اور چھپایا اور پاکباز رہا اور مر گیا وہ شہید ہے۔"

یہ روایت تاریخ بغداد 5/166، 262، 6/50، 51، 11/298، 13/184 تاریخ دمشق، العلل المتناہیہ وغیرھا کتب میں وارد ہوئی ہے۔

علامہ البانی نے سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ والموضوعہ میں اسے موضوع (من گھڑت) قرار دیا ہے۔ (رقم 309) معلوم ہوتا ہے کہ جہاد سے باغی اور کسی عشق کے مریض نے یہ روایت بنائی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان کارزار میں قتل ہونے والوں کے علاوہ، جل کر، غرق ہو کر، پیٹ کے مرض سے، ذات الجنب والے اور ایسی عورت کو شہید قرار دیا ہے جو نفاس میں بچے کی ولادت پر فوت ہو جائے۔

قتیل عشق کو کہیں بھی شہید قرار نہیں دیا۔ کسی قتیل لیلیٰ کی یہ کاروائی معلوم ہوتی ہے۔ امام ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ نے زاد المعاد 3/306، 307 میں اس پر بڑی نفیس بحث کی ہے اور فرمایا ہے کہ اس موضوع روایت سے دھوکا مت کھائیں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح ثابت نہیں ہے اور اس کا آپ کے کلام میں سے ہونا جائز نہیں اس لئے کہ اللہ کے ہاں شہادت ایک بلند درجہ ہے جو صدیقیت کے رتبہ کے ساتھ ملایا گیا ہے اس کے لئے اعمال اور احوال ہیں جو اس کے حصول کی شروط ہیں۔ اس کی دو قسمیں ہیں ایک عام اور دوسری خاص اور خاص تو شہادت فی سبیل اللہ ہے اور عام شہادتیں پانچ ہیں جو صحیح حدیث میں بیان ہوئی ہیں اور عشق ان میں سے ایک بھی نہیں ہے اور عشق ان میں سے کیسے ہو سکتا ہے یہ تو محبت میں اللہ کے ساتھ شرک ہے یہ دل اور روح پر کنٹرول کرتا ہے اور غیر کے لئے محبت پیدا کرتا ہے اس کے ذریعے شہادت کیسے پائی جا سکتی ہے۔ یہ محال ہے، عشق کا فساد ہر فساد سے بڑھ کر ہے بلکہ یہ روح کی خمر (شراب) ہے جو اس کو مست کر دیتی ہے اور اللہ کے ذکر اور اس کی محبت اور اس کی مناجات سے لذت اور انس حاصل کرنے میں رکاوٹ بنتی ہے اور دل کی عبودیت کو غیراللہ کے لئے واجب کر دیتی ہے۔ عاشق کا دل معشوق کی عبادت کرتا ہے۔ بتاؤ جو کسی دوسرے آدمی کی عورت کے ساتھ عشق کرتا ہے یا امرد لڑکوں اور زانیہ و بدکار عورت سے عشق کرتا ہے وہ اس عشق کی وجہ سے شہادت کا درجہ پا لے گا۔ یہ تو صریح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے خلاف ہے اور پھر عشق تو ان بیماریوں میں سے ایک بیماری ہے جن کے لئے اللہ نے شرعی اور قدرتی علاج مقرر کیا ہے جبکہ جو شہادت حدیث میں بیان کی گئی ہے اس کا کوئی علاج نہیں ہے۔ الغرض لفظ عشق قرآن و حدیث میں کہیں وارد نہیں ہوا اور عشق ایک بیماری ہے جس کا علاج کیا جانا چاہیے اور پھر یہ ہمارے عرف میں اچھے اور برے دونوں معنوں میں مستعمل ہے اس لئے ایسے لفظ کا استعمال اللہ اور اس کے رسول کے لئے نہیں کرنا چاہیے کوئی شخص بھی یہ لفظ اپنی ماں، بہن اور بیٹی کے لئے استعمال کرنا پسند نہیں کرتا تو پھر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کیسے پسند کر لیتا ہے۔ عشق کے معنی کے لئے مجلہ الدعوۃ کے دعوت و اصلاح والے کالم میں تفصیل طبع ہو چکی ہے۔

 ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

تفہیمِ دین

کتاب العقائد والتاریخ،صفحہ:62

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)