فتاویٰ جات: علاج ومعالجہ
فتویٰ نمبر : 22877
(288) مبنی بر حقیقت خوش طبعی میں کوئی حرج نہیں
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 17 September 2017 08:41 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

خوش طبعی کا کیا حکم ہے؟ کیا یہ لہو الحدیث کے ضمن میں آتی ہے؟ یہ صراحت ضروری ہے کہ ہمارا سوال ایسی خوش طبعی کے بارے میں جس میں دین کا استہزاء نہیں ہوتا۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر خوش طبعی مبنی بر حقیقت ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ خاص طور پر اگر اس میں بہتات بھی نہ ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خوش طبعی فرمایا کرتے تھے اور خلاف واقعہ کوئی بات نہ کرتے، رہی ایسی خوش طبعی جو جھوٹ سے عبارت ہو تو وہ جائز نہیں ہے۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:

(ويل للذي يحدث فيكذب ليضحك به القوم ويل له ثم ويل له) (سنن ابی داؤد، سنن ترمذی و سنن نسائی)

"اس آدمی کے لئے بربادی ہے! جو لوگوں کو ہنسانے کے لئے جھوٹ بولتا ہے۔ اس کے لئے بربادی ہے۔ پھر اس کے لئے بربادی ہے۔"شیخ ابن باز

 ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ برائے خواتین

مختلف فتاویٰ جات،صفحہ:307

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)