فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 22809
(220) میں اپنی اولاد کو ہر وقت قسم دیتی رہتی ہوں مگر وہ نہیں مانتے
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 30 August 2017 09:20 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرے بچے ہیں میں اکثر اوقات انہیں قسم دیتی رہتی ہوں کہ وہ یوں نہیں کریں گے مگر وہ میرا حکم تسلیم نہیں کرتے، کیا اس حالت میں مجھ پر کفارہ واجب ہو گا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جب آپ اپنی اولاد یا کسی اور کو ارادتا و قصدا کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی قسم دیں اور وہ اس پر عمل نہ کریں تو آپ پر قسم کا کفارہ واجب ہو گا، کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿لا يُؤاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغوِ فى أَيمـٰنِكُم وَلـٰكِن يُؤاخِذُكُم بِما عَقَّدتُمُ الأَيمـٰنَ فَكَفّـٰرَتُهُ إِطعامُ عَشَرَةِ مَسـٰكينَ مِن أَوسَطِ ما تُطعِمونَ أَهليكُم أَو كِسوَتُهُم أَو تَحريرُ رَقَبَةٍ فَمَن لَم يَجِد فَصِيامُ ثَلـٰثَةِ أَيّامٍ ذ‌ٰلِكَ كَفّـٰرَةُ أَيمـٰنِكُم إِذا حَلَفتُم وَاحفَظوا أَيمـٰنَكُم...﴿٨٩﴾... سورة المائدة

"اللہ تم سے تمہاری لغو قسموں پر مؤاخذہ نہیں کرے گا، لیکن جن قسموں کو تم مضبوط کر چکے ہو ان پر تم مؤاخذہ کرے گا۔ سو اس کا کفارہ دس مسکینوں کو اوسط درجے کا کھانا کھلانا ہے جو تم اپنے گھر والوں کو کھلایا کرتے ہو، یا انہیں کپڑا دینا یا غلام آزاد کرنا ہے، لیکن جو شخص اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اس پر تین دن کے روزے ہیں، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جبکہ تم قسم اٹھاؤ اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو۔"

اسی طرح اگر آپ کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں قسم اٹھائیں پھر دیکھیں کہ مصلحت اس میں نہیں بلکہ دوسرے کام میں ہے تو ایسی قسم کے توڑ دینے میں کوئی حرج نہیں، ہاں اس کا کفارہ ادا کرنا واجب ہو گا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

(إذا حلفت على يمين فرأيت غيرها خيراً منها فكفر عن يمينك وأت الذي هو خير) (متفق علیه)

"جب تو قسم اٹھائے پھر اس کام کے مقابلے میں دوسرے کام کو بہتر سمجھے تو قسم کا کفارہ ادا کر کے بہتر کام کر لے۔"شیخ ابن باز

 ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ برائے خواتین

نذریں اور قسمیں،صفحہ:240

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)