فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 22804
(215) نکاح کے بعد اور دخول سے قبل خاوند فوت ہو جائے تو عورت کے لئے عدت کا حکم
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 29 August 2017 02:16 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص نے ایک خاتون سے شادی کی مگر وہ دخول سے قبل ہی فوت ہو گیا۔ کیا اس کی بیوہ پر عدت لازم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جس عورت کا خاوند عقد نکاح کے بعد دخول سے قبل فوت ہو جائے اس پر سوگ منانا واجب ہے، اس لئے کہ عورت صرف عقد نکاح سے بیوی بن جاتی ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَالَّذينَ يُتَوَفَّونَ مِنكُم وَيَذَرونَ أَزو‌ٰجًا يَتَرَبَّصنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَربَعَةَ أَشهُرٍ وَعَشرًا...﴿٢٣٤﴾... سورة البقرة

"اور تم میں سے جو لوگ وفات پا جاتے ہیں اور بیویاں چھوڑ جاتے ہیں، وہ بیویاں اپنے آپ کو چار ماہ اور دس دن روکے رکھیں۔"

نیز اس لئے بھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(لا تحد امراة على ميت فوق ثلاث إلا على زوج اربعة اشهر وعشر) (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

"کوئی عورت کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے سوائے خاوند کے کہ اس کی عدت چار ماہ دس دن ہے۔"

اور اس لئے بھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بروع بنت واشق نامی عورت، جس کے خاوند نے اس سے نکاح کیا اور وہ دخول سے پہلے ہی فوت ہو گیا تھا کے متعلق فیصلہ فرمایا کہ اس پر عدت گزارنا لازم ہے اور وہ وراثت کی حقدار بھی ہو گی۔دارالافتاء کمیٹی

 ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ برائے خواتین

عورت اور سوگ،صفحہ:234

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)