فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 22803
(214) کیا زیر تعلیم لڑکی دوران عدت تعلیم جاری رکھ سکتی ہے؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 29 August 2017 01:52 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

زیر تعلیم لڑکی کا خاوند فوت ہو گیا، اس بنا پر اسے عدت گزارنا ہے۔ کیا اس کے لئے تعلیم جاری رکھنا جائز ہے یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جس عورت کا خاوند فوت ہو گیا اس پر اسی گھر میں عدت گزارنا واجب ہے جو کہ چار ماہ دس دن ہے۔ اسی گھر میں سوئے، اس دوران اسے خوبصورتی کا باعث بننے والی جملہ اشیاء سے اجتناب کرنا چاہیے جیسا کہ خوشبو لگانا، سرمہ لگانا، خوبصورت کپڑے زیب تن کرنا اور بدن کو خوبصورت بنانا وغیرہ، یعنی اس کے لئے ایسی تمام اشیاء سے پرہیز کرنا ضروری ہے جو اسے حسن و جمال عطا کریں۔

دوران عدت عورت کسی ضرورت کے پیش نظر گھر سے باہر جا سکتی ہے، اس بنا پر مذکورہ طالبہ کا حصول تعلیم اور فہم مسائل کی غرض سے سکول جانا جائز ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسے ان تمام اشیاء سے پرہیز کرنا چاہیے کہ جن سے سوگ منانے والی عورت پرہیز کرتی ہے۔ یعنی ایسی تمام اشیاء جو مردوں کو ورغلانے والی اور پرکشش ہوں اور انہیں منگنی کا پیغام دینے پر آمادہ کرنے والی ہوں، سے اجتناب ضروری ہے۔دارالافتاء کمیٹی

 ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ برائے خواتین

عورت اور سوگ،صفحہ:234

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)