فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 22802
(213) عدت گزارنے والی کا اپنے گھر سے والدین کے ہاں منتقل ہونا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 29 August 2017 01:49 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک خاتون نے ایک شخص سے شادی کی، شادی کے بعد خاوند فوت ہو گیا۔ اس سے نہ تو عورت کی کوئی اولاد ہے اور نہ خاوند کے شہر میں عورت کے رشتے دار ہیں۔ کیا ان حالات میں عورت عدت گزارنے کے لئے اپنے خاوند کے شہر سے اپنے ولی کے شہر منتقل ہو سکتی ہے یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ایسی عورت کے لئے اپنے ولی کے شہر منتقل ہونا جائز ہے نیز اس کے علاوہ وہ کسی بھی ایسی پرامن جگہ پر منتقل ہو سکتی ہے جہاں وہ خاوند کی وفات کے بعد عدت کے دن گزار سکے۔ اگر عورت فوت شدہ خاوند کے گھر اپنی جان یا عزت و آبرو کے لئے خطرہ سمجھتی ہے اور اس کے پاس ایسا کوئی شخص بھی نہیں جو اسے تحفظ فراہم کر سکے تو اسے کہیں بھی منتقل ہونے کا حق حاصل ہے اور اگر وہ صرف اپنی فیملی کے قریب رہنے کی غرض سے خاوند کا گھر چھوڑتی ہے تو اس مقصد کے لئے اسے ایسا کرنے کا حق حاصل نہیں ہے، اسے اپنے مکان میں رہ کر ہی عدت گزارنا ہو گی اس کے بعد وہ جہاں چاہے جا سکتی ہے۔دارالافتاء کمیٹی

 ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ برائے خواتین

عورت اور سوگ،صفحہ:233

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)