فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 22801
(212) بوڑھی عورت اور نابالغ منکوحہ لڑکی پر عدت
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 29 August 2017 01:14 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا مردوں سے بے نیاز بوڑھی عورت یا نابالغ منکوحہ لڑکی کے لئے خاوند کے فوت ہونے پر عدت گزارنا لازم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ایسی بوڑھی عورت جسے مردوں کی ضرورت نہیں اور ایسی منکوحہ لڑکی جو ابھی نابالغ ہے، دونوں پر خاوند کی وفات پر عدت گزارنا لازم ہے۔ اگر بیوی ہو جانے والی عورت حاملہ ہے تو اس کی عدت وضع حمل ہے، اور اگر وہ غیر حاملہ ہے تو اس کی عدت چار ماہ دس دن ہے۔ اس کی دلیل اس ارشاد باری تعالیٰ کا عموم ہے:

﴿وَالَّذينَ يُتَوَفَّونَ مِنكُم وَيَذَرونَ أَزو‌ٰجًا يَتَرَبَّصنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَربَعَةَ أَشهُرٍ وَعَشرًا...﴿٢٣٤﴾... سورة البقرة

"اور تم میں سے جو لوگ وفات پا جاتے ہیں اور بیویاں چھوڑ جاتے ہیں ان کی بیویاں اپنے آپ کو چار ماہ اور دس دن روکے رکھیں۔"

اسی طرح اس ارشاد باری تعالیٰ کا عموم ہے:

﴿وَأُولـٰتُ الأَحمالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعنَ حَملَهُنَّ...﴿٤﴾... سورة الطلاق

"اور حاملہ عورتوں کی عدت وضع حمل ہے۔"دارالافتاء کمیٹی

 ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ برائے خواتین

عورت اور سوگ،صفحہ:233

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)