فتاویٰ جات: علاج ومعالجہ
فتویٰ نمبر : 2239
(31) افیون کا استعمال
شروع از بتاریخ : 24 October 2012 01:40 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جناب میری مردانہ قوت کمزورہے، رات کو بیوی کے پاس جاتے وقت افیون استعمال کرتا ہوں۔ یہ جائز ہے یا نا جائز ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

افیون بھی نشے کی جملہ اشیاء میں سے ایک نشہ ہے،اور شریعت اسلامیہ نے نشے کی ہر چیزسے منع فرمایا ہے،جس طرح شراب پینا حرام ہے ،اسی طرح افیون استعمال کرنا بھی حرام ہے۔اور حرام ونجس اشیاء کو بطور دواء بھی استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ اللہ نے ان چیزوں کو اسی لئےحرام کیا ہے ،کیونکہ یہ انسانی صحت کے لئے مضر ہیں،اگرچہ وقتی طور پر تو طاقت حاصل ہو جاتی ہے ،لیکن یہ حقیقت میں اعضاء رئیسہ کو برباد کر دیتی ہیں۔سیدنا طارق بن سوید نے نبی کریم سے شراب سے دواء بنانے کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا:

’’إنه ليس بدواء، ولكنه داء ‘‘مسلم، (5256)

یہ دواء نہیں،بیماری ہے۔

اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ افیون کا استعمال ہر حالت میں ناجائز ہے۔آپ اس کے علاوہ کوئی حلال دوائی تلاش کریں ،ان شاء اللہ بازار سے ضرور کوئی نہ کوئی دوائی مل جاءے گی۔اللہ آپ کو صحت کاملہ عطاء فرمائے۔آمین

هذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)