فتاویٰ جات: لغات القرآن
فتویٰ نمبر : 22316
(28) سات قراءتوں کا معنی
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 12 August 2017 09:47 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد  فرمایا:"قرآن سات حروف پر پڑھو،جوکہ کافی وشافی ہیں۔"اس کامطلب واضح کیجیے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ حدیث صحیح ہے دیکھیں(سلسلہ الصحیحہ :2581)

اس حدیث میں سات  حروف سے مراد ایک حرف اور ایک کلمہ میں سات لغات ہیں جن کے الفاظ مختلف اور معنی متفق ہو۔جیسا کہ اس کی مفید شرح وتفصیل امام طبری رحمۃ اللہ علیہ  نے اپنی تفسیر کے مقدمہ میں بیان کی ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ امت باقی چھ حروف کے علاوہ ایک حرف پر ثابت ہے جس میں کوئی نسخ یا ضیاع نہیں ہے اور آج تک سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے عمدہ مضبوط کلام پر مبنی مصحف جس پر انہوں نے لوگوں کو جمع کیا،سے قراءت ہورہی ہے۔

آپ مزید تفصیل کے لیے"تفسیر طبری"کا مطالعہ کیجئے۔وہ اس مسئلہ میں بہت مفید ہے۔۔(نظم الفرائد:1/120)

 ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ البانیہ

علم استدلال نقلیہ اور اصول فقہ کے مسائل صفحہ:118

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)