فتاویٰ جات: عقیدہ و منہج
فتویٰ نمبر : 22308
(20) کفر اعتقادی اور عملی
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 31 July 2017 01:17 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

"وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ"کی وضاحت فرمادیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  فرماتے ہیں:

"بے شک اللہ عزوجل نے یہ آیات نازل فرمائیں:"

﴿وَمَن لَم يَحكُم بِما أَنزَلَ اللَّهُ فَأُولـٰئِكَ هُمُ الكـٰفِرونَ ﴿٤٤﴾... سورةالمائدة
﴿فَأُولـٰئِكَ هُمُ الظّـٰلِمونَ ﴿٤٥﴾... سورةالمائدة
﴿فَأُولـٰئِكَ هُمُ الفـٰسِقونَ ﴿٤٧﴾... سورةالمائدة

"یعنی جو اس کے مطابق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہی کافر ہیں۔"

آیت 45 میں فرمایا:

"وہی لوگ ظالم ہیں۔"

آیت نمبر 47 میں فرمایا:

"وہی لوگ نافرمان ہیں۔"

سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے فرمایا:یہ آیات اللہ تعالیٰ نے یہود کے دو گروہوں کے متعلق نازل کیں۔جن میں سے ایک دوسرے پر جاہلیت میں غالب آگیا۔حتیٰ کہ وہ آپس میں اس بات پر  رضا مند ہوگئے اور صلح کرلی کہ ہر مغلوب مقتول جسے غالب نے قتل کیا تواس کی دیت پچاس(50) وسق ہے اور ہر غالب مقتول جسے مغلوب نے قتل کیا تو اس کی دیت سو(100) وسق ہے۔

اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مکہ سے) مدینہ تشریف لے آئے'تو ان دونوں کی عزت ومقام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی آمد سے کمی واقع ہوئی اور ان دنوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان پرغلبہ پایاتھا'نہ ہی ان کی صلح کوپامال کیاتھا۔

اسی دوران مغلوب گروہ میں سے کسی نے غالب گروہ کے کسی فرد کو قتل کیا توانہوں نے سو(100) وسق دیت کا مطالبہ کیا'تو مغلوب گروہ نے کہا: کیا کبھی دو ایسے قبیلوں میں ایسا ہوا ہے کہ جن کا دین 'نسب'علاقہ ایک ہو اوران میں ایک کی دیت دوسرے سے نصف(آدھی) ہو۔ہم تو تمھیں صرف تمہارے ظلم وزیادتی اور ڈر کی وجہ سے پوری دیت دیتے رہے ہیں۔اب جبکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم  آگئے ہیں تو ہم تمھیں کچھ نہیں دیں گے۔تو ان کے درمیان جنگ دوبارہ بھڑکنے کے قریب تھی کہ پھر وہ اس بات پر راضی ہوئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کو آپس میں ثالث مقرر کرلیں۔پھر غالب گروپ نے(آپس میں مشورہ کرتے ہوئے)کہا:

"اللہ کی قسم!محمد صلی اللہ علیہ وسلم  تمھیں ان(مغلوب) سے وہ نہیں لے کردیں گے'جوتم بطور دیت انھیں نصف دیتے ہو۔اور مغلوب گروہ نے سچ کہاہے کہ وہ تو ہمیں یہ ہمارے ظلم وغلبہ کی وجہ سے ہی ہمیں دیتے ہیں۔لہذا مخفی طور پر کسی کومحمد صلی اللہ علیہ وسلم  کی طرف بھیجوتاکہ وہ ان کی رائے معلوم کرلے،تاکہ اگر وہ تمھیں(غالب گروہ کو) تمہاری مرضی کے مطابق دیں گے تو انھیں حاکم مقرر کرلو اور اگروہ اس پر راضی نہیں ہیں تو پھر ان سے بچتے ہوئے'ان سے فیصلہ نہ کراؤ۔

تو انہوں نے منافقین کو خفیہ طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی طرف بھیجا تاکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی رائے معلوم کریں۔

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  تشریف لائے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے سارے معاملے کی خبر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کو دے دی'تو اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی۔

﴿ يـٰأَيُّهَا الرَّسولُ لا يَحزُنكَ الَّذينَ يُسـٰرِعونَ فِى الكُفرِ مِنَ الَّذينَ قالوا ءامَنّا...﴿٤١﴾... سورةالمائدة

"اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !تجھے وہ لوگ غمگین نہ کریں جو کفر میں جلدی کرتے ہیں'ان لوگوں میں سے جنھوں نے اپنے مونہوں سے کہا:"ہم ایمان لائے۔"

آیت نمبر 47 تک نازل فرمائی کہ:

"جو اس کے مطابق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہی نافرمان ہیں۔"

پھر ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے فرمایا:"اللہ کی قسم! یہ آیت ان دونوں کے متعلق نازل ہوئی اور یہ دونوں گروہ ہی اللہ کی مراد ہیں۔"

یہ حدیث حسن ہے۔(سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ :25521)

جب یہ بات معلوم ہوگئی کہ یہ تینوں آیات:

﴿ فَأُولـٰئِكَ هُمُ الكـٰفِرونَ ﴿٤٤﴾... سورة المائدة
﴿فَأُولـٰئِكَ هُمُ الظّـٰلِمونَ ﴿٤٥﴾... سورةالمائدة
﴿فَأُولـٰئِكَ هُمُ الفـٰسِقونَ ﴿٤٧﴾... سورةالمائدة

یہود کے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے متعلق ان کے اس قول"اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم  تمہاری پسند تمھیں دے دیں تو انہیں حاکم بنالو اور اگر وہ تمھیں نہ دیں تو ان سے بچتے ہوئے انہیں حاکم نہ بناؤ۔"کے بارے میں نازل ہوئی۔

اور قرآن نے ان کے اس قول کی طرف ان آیات سے پہلے اشارہ کرتے ہوئے کہا:

﴿يَقولونَ إِن أوتيتُم هـٰذا فَخُذوهُ وَإِن لَم تُؤتَوهُ فَاحذَروا ...﴿٤١﴾... سورةالمائدة

"وہ کہتے ہیں کہ اگر تمھیں یہ چیز دے دی گئی تو لے لو،اورتمھیں نہ دی گئی تو(اس صورت میں) بچنا۔"

یہ بات معلوم ہوگئی تو ان آیات کو بعض مسلمان حکمرانوں اور ان کے جج جو ارضی قوانین سے جو اللہ تعالیٰ نے نازل نہیں کیے 'فیصلے کرتے رہیں پر چسپاں کرنا جائز نہیں ہے۔

میں کہتا ہوں کہ اس وجہ سے ان کی تکفیر کرنا'انہیں ملت اسلامیہ سے باہرنکال دیناجبکہ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  پر ایمان لاتے ہیں'جائز نہیں۔

اگرچہ وہ اللہ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہ کرنے کی وجہ سے مجرم ہیں۔(لیکن) اس وجہ سے ان کی تکفیر جائز نہیں'اس لیے کہ یہ فیصلہ کرنے کے اعتبار سے حکم میں یہود کی طرح ہیں۔(لیکن) اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ پر ایمان لانے اور اس کی تصدیق کرنے کی وجہ سے یہود کے مخالف ہے'کیونکہ یہود اور کفار منزل من اللہ پر ایمان وتصدیق نہیں کرتے'بلکہ وہ اس کا انکار کرتے ہیں۔جیسا کہ اوپر یہود کا یہ قول اس پر دلیل ہے کہ"اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم  تمھیں(تمہاری مرضی کے مطابق) نہیں دیتے تو پھر بچو۔"

اس پر مستزاد یہ کہ وہ مسلمان بھی نہیں ہیں۔

اس تفصیل سے واضح ہوا کہ کفر کی دو قسمیں ہیں۔

(1)۔اعتقادی

(2)۔عملی

اعتقاد کا مقام دل اور عمل کامقام دیگر اعضاء ہیں۔

لہذا جس کا عمل شریعت کی مخالفت کی وجہ سے کفر ہے اور وہ دل میں موجود جاگزیں کفر کے مطابق بھی ہے تو یہ اعتقادی کفر ہے'جسے اللہ تعالیٰ معاف نہیں فرمائے گا اور اس کے مرتکب کو ہمیشہ کے لیے داخلِ جہنم کرے گا اور اگر عمل شریعت ہونے کے باعث کفریہ ہے،لیکن دل کا معاملہ اس کے برعکس ہے وہ اپنے رب کے فیصلے پر ایمان رکھتے ہوئے اپنے عمل سے اس کی مخالفت کرتا ہے، تو اس کا یہ کفر عمل ہے،کفر اعتقادی نہیں۔

ایسا شخص رب تعالیٰ کی مشئیت کے تحت ہے،چاہے تو عذاب دے،اگر چاہے تو بخش دے اور کفر کی اس قسم پران احادیث کو محمول کیا جائے گا'جن میں معصیت کے ارتکاب پر لفظ کفر لاگو ہواہے۔چند ایک حسب ذیل ہیں:

1۔لوگوں میں دو کفر کی خصلتیں ہیں۔(1) نسب میں عیب جوئی۔(2) میت پر نوحہ کرنا۔(صحیح مسلم)

2۔قرآن میں جھگڑنا کفر ہے۔(صحیح الجامع الصغیر3/83/3101)

3۔مسلمان کو گالی دینا فسق اور لڑائی کرنا کفر ہے۔(مسلم)

4۔نسب سے بیزاری اللہ کے ساتھ کفر ہے'اگرچہ یہ بیزاری کم ہی ہو۔(الروض النضیر:587)

5۔اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بیان کرنا شکر'اور اسے بیان نہ کرنا کفر ہے ۔(سلسلۃ الصحیحہ :667)

6۔میرے بعد کافر نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔(متفق علیہ)

اس طرز کی بے شمار احادیث ہیں۔جنھیں بیان کرنے کا یہ مقصد نہیں کہ پس جس مسلمان نے ان گناہوں کا ارتکاب کیا تو اس کا یہ کفر عملی ہے۔یعنی وہ کفار کا سا عمل کررہا ہے۔سوائے اس کے وہ اس گناہ،معصیت کو جائز سمجھے اور اسے گناہ ہی نہ جانے تو اس صورت میں وہ کافر ہے اور اس کا خون جائز ہے۔اس لیے کہ وہ کفار کے عقیدے میں ان کا شریک ہوگیاہے۔

اور منزل من اللہ کے علاوہ سے فیصلہ کرنا'کبھی بھی اس قاعدے سے خارج نہیں ہوسکتا۔

اس موقف کو سلف کے قول سے بھی تقویت ملتی ہے  کہ وہ آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ یہ"کفر دون کفر" ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  ترجمان القرآن سے اس بارے میں صحیح ثابت ہے۔پھر ان سے بعض تابعین  رحمۃ اللہ علیہ  نے اسے حاصل کیا ہے۔اور مجھے اس بارے میں جو میسر ہوا اسے بیان کروں گا'شاید کہ یہ مینارہ راہ بن جائے 'ان لوگوں کے سامنے جو اس اہم مسئلہ میں موجود دہ دور میں گمراہ ہوگئے ہیں اور وہ خوارج سے دور رہیں' جو گناہوں کے ارتکاب پر مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہیں۔اگر وہ مسلمان نمازیں پڑھتے ہوں'روزہ رکھتے ہوں۔

1۔امام ابن جریر طبری(10/355/12053)نے صحیح سند کے ساتھ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت نقل کی ہےکہ:

﴿وَمَن لَم يَحكُم بِما أَنزَلَ اللَّهُ فَأُولـٰئِكَ هُمُ الكـٰفِرونَ ﴿٤٤﴾... سورةالمائدة

یہ کفر لیکن اللہ اور اس کے فرشتوں'اس کی کتابوں'اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر جیسا نہیں ہے۔

2۔اس آیت سے متعلق ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مروی دوسری روایت میں ہے:

"یہ وہ کفر ہے جس کی طرف(خوارج) گئے ہیں۔یہ وہ کفر نہیں جو ملت اسلامیہ سے نکال دے'یہ کفر دون کفر ہے ۔"

امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ  (2/313) نے اسے"صحیح الاسناد"قراردیا ہے اورذہبی رحمۃ اللہ علیہ  نے موافقت کی ہے۔بہتر یہ تھا کہ وہ فرماتے:اس کی سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔اس لیے کہ اس کی سند اسی طرح ہے۔

پھر میں نے تفسیر ابن کثیر(6/163) میں دیکھا کہ انہوں نے امام حاکم  رحمۃ اللہ علیہ  سے نقل کیا ہے۔

"صحیح علی شرط الشیخین" اور مستدرک کے مطبوعہ نسخہ میں یہ رہ گیا ہے اور اسی بات کو امام ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ  نے امام ابن ابی حاتم کی طرف اختصار کے ساتھ منسوب کیا ہے۔

3۔سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے علی بن ابی طلحہ رحمۃ اللہ علیہ  کی روایت میں یہ الفاظ ہیں:

"جس نے اللہ کے نازل کردہ کا انکار کیا تو اس نے کفر کیا اور جس نے اللہ کے نازل کردہ کا اقرارکیا اور اس کے مطابق فیصلہ نہ کیا تو وہ فاسق ہے۔(ابن جریر طبری:12063)

قلت:ابن ابی طلحہ  رحمۃ اللہ علیہ  کا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے سماع نہیں ہے لیکن شاہد میں جید ہے۔

4۔ابن جریر(12047) سعید المکی عن طاؤس کے طریق سے آیت ذکرکرکے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت کیا:

"یہ وہ کفر نہیں جو ملت سے نکال دے"اور اس کی سند صحیح ہے۔

سیعدالمکی ،ابن زیاد الشیبانی ہے،جسے ابن معین  رحمۃ اللہ علیہ  ،عجلی ابن حبان وغیرہم نے ثقہ قراردیا ہے اور اس سے ایک جماعت نے روایت کیا ہے۔

5۔ابن جریر(25،12،26،12) نے دو سندوں سے عمران بن حدید سے روایت کیا کہ انہوں نے کہا:ابومجلز تابعی  رحمۃ اللہ علیہ  کے پاس بنوعمروبنوسدو سیا اباضیۃ(خوارج کا ایک گروہ) کے کچھ لوگ آئے اور کہا:آپ کا اللہ تعالیٰ کے فرمان:

﴿وَمَن لَم يَحكُم بِما أَنزَلَ اللَّهُ﴾

کے متعلق کیا خیال ہے کہ یہ حق ہے؟

ابومجلز  رحمۃ اللہ علیہ  نے فرمایا:جی ہاں:

انہوں نے کہا:

﴿وَمَن لَم يَحكُم بِما أَنزَلَ اللَّهُ فَأُولـٰئِكَ هُمُ الظّـٰلِمونَ ﴿٤٥﴾... سورةالمائدة

بھی حق ہے۔

ابومجلز نے کہا:جی ہاں!انہوں نے پھر:

﴿فَأُولـٰئِكَ هُمُ الفـٰسِقونَ ﴿٤٧﴾... سورةالمائدة

سےمتعلق پوچھا: کہ یہ بھی حق ہے؟

ابومجلز نے فرمایا:یہ بھی حق ہے ۔ان لوگوں نے کہا:اے ابومجلز کیا یہ(حکمران) اللہ کے نازل کردہ کے مطابق  فیصلہ کرتے ہیں؟

ابومجلز نے فرمایا:ان کا دین وہی ہے'جسے انہوں نے اختیار کیا ہے(یعنی اسلام) اسی کو وہ بیان کرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں۔وہ اس بات کو بھی جانتے ہیں کہ جو کام وہ نہیں کرتے تو وہ گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں۔تو ان لوگوں نے کہا:اللہ کی قسم! ایسا نہیں ہے۔آپ خوف زدہ ہو'ڈرتے ہو۔

ابومجلز نے فرمایا:تم مجھ سے زیادہ اس کے حقدار ہواور تم اسے سمجھنے کے باجود اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے اور یہ آیات یہود'نصاریٰ اہل شرک جیسوں کے متعلق نازل ہوئی ہیں۔اس کی سند صحیح ہے۔

کفر کی تفسیر

علماء کا اس آیت میں"کفر" کی تفسیر میں اختلاف ہے۔امام ابن جریر طبری رحمۃ اللہ علیہ  نے اپنی اسناد کے ساتھ"پانچ مختلف اقوال نقل کرکے آخر میں یہ کہہ کر بات ختم کی کہ:

"میرے نزدیک یہ قول صواب درست ہے کہ یہ آیات کفار اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔اس لیے کہ ان کے ماقبل ومابعد آیات انہی کے متعلق نازل ہوئی ہیں اور یہی ان آیات میں مراد ہیں اور یہ آیات ان کی خبر ہی بیان کررہی ہیں۔

اور یہ اول 'بہتر ہے۔

اگر کوئی یہ کہے:اللہ تعالیٰ نے ہر وہ شخص جو اللہ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہ کرے'عام ذکر کیا ہے۔آپ اسے(اہل کتاب کے متعلق) کیسے خاص کررہے ہو؟

جواب دیا گیا:بے شک اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے متعلق جو منزل من اللہ کاانکار کرتے ہوئے فیصلہ نہیں کرتے' عمومی خبر دی ہے۔لہذا اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ بتلایا کہ اللہ کے حکم کوترک کرنے کی بنیاد پر کافر ہیں۔

اور اسی طرح ہر اس شخص کے متعلق جو منزل من اللہ کا انکار کرتے ہوئے اس کے ساتھ فیصلہ نہ کرے'وہ اللہ کا کفر کررہا ہے۔جیسا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے ارشاد فرمایا:

"اللہ کے حکم کو یہ جان لینے کے بعد کہ اللہ نے اپنی کتاب میں اسے نازل کیا ہے ،اس کے ساتھ فیصلہ کرنے سے انکار کرنے کی وجہ سے کافر ہے'بالکل اسی طرح کہ کوئی شخص نبی کی نبوت کو جاننے کے بعد نبی ہونے کا انکار کردے۔"(10/357)

خلاصہ کلام یہ کہ اللہ کے نازل کردہ کا انکار کرنے والے یہود کے متعلق نازل ہوئی ہیں۔

جو اس انکار میں ان کا شریک ہوا وہ کافر اعتقادی ہے اور جو انکار کرنے میں یہود کا شریک نہیں تو' اس کاکفر عملی ہے'اس لیے کہ وہ ان جیسا عمل کررہا ہے(تاکہ عقیدہ اپنا رہا ہے) اس وجہ سے وہ گناہگار'مجرم ہے لیکن دائرہ اسلام سے خارج نہ ہوگا جیسا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے حوالہ سے بیان ہوچکا۔

اور اس کی شرح وتفصیل امام حافظ ابوعبید القاسم بن سلام نے اپنی کتاب:

"کتاب الایمان" کے باب"الخروج من الایمان بالمعاصی"(ص'98۔94) میں ذکر کی ہے۔شائقین وہاں ملاحظہ کرلیں۔

یہ سب لکھنے کے بعد"مجموعہ الفتاویٰ 3/268"میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  کی اس تفسیر میں فرمایا:

"یعنی(کافر وہ ہے) جو منزل من اللہ کے علاوہ سے فیصلہ کرنے کو جائز وحلال جانتا ہے۔"پھر شیخ الاسلام نے ذکر کیا:(7/254)

"امام احمد رحمۃ اللہ علیہ  سے اس آیت میں مذکور کفر کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا:یہ کفر ایمان سے خارج نہیں کرتا'ایمان کی طرح کفر کے بھی درجات ہیں،حتیٰ کہ وہ شخص(کو کفر کا مرتکب ہے) اس مقام پر آجائے کہ جس میں کوئی اختلاف نہ ہو(تو وہ کافر ہے)۔

اور شیخ الاسلام نے ایک اورجگہ(7/312) پر فرمایا:

"اسلام کے قول کے مطابق جیسے انسان میں"ایمان اور نفاق"ہوتاہے'اسی طرح اس میں "ایمان اور کفر" بھی ہوتاہے۔حالانکہ یہ کفر دائرہ اسلام سے نہیں نکالتا'جیسا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اور ان کے اصحاب نے اللہ کے فرمان"

﴿وَمَن لَم يَحكُم بِما أَنزَلَ اللَّهُ فَأُولـٰئِكَ هُمُ الكـٰفِرونَ ﴿٤٤﴾... سورةالمائدة

کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا:یہ کفر ملت اسلامیہ سے نہیں نکالتا۔

اور اسی کی امام احمد رحمۃ اللہ علیہ  اور دیگر آئمہ  رحمۃ اللہ علیہ  نے پیروی کی ہے۔

سیدنا براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ  فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

﴿وَمَن لَم يَحكُم بِما أَنزَلَ اللَّهُ فَأُولـٰئِكَ هُمُ الكـٰفِرونَ ﴿٤٤﴾... سورةالمائدة
﴿فَأُولـٰئِكَ هُمُ الظّـٰلِمونَ ﴿٤٥﴾... سورةالمائدة
﴿فَأُولـٰئِكَ هُمُ الفـٰسِقونَ ﴿٤٧﴾... سورةالمائدة

کے متعلق ارشاد  فرمایا:

" هِيَ فِي الْكُفَّارِ كُلُّهَا "

"یہ آیات سب کافروں کے متعلق ہیں۔"

یہ حدیث صحیح ہے۔(سلسلہ الصحیحہ :2704)

یہ حدیث اس بات کی صریح دلیل ہے کہ ان تینوں آیات میں یہودونصاریٰ کے کفار اور انہی کی مثل جو لوگ شریعت اسلامیہ اور اس کے احکامات کا انکار کرتے ہیں،مقصود ہیں اور جو کوئی بھی اگرچہ وہ بظاہر اسلام کا دعویدار ہو،اس انکار میں حتیٰ کہ ایک حکم کا بھی انکار کردے،وہ بھی ان میں شمار ہوں گے۔

لیکن یہ بات یادرہے کہ جو شخص اللہ کےنازل کردہ کے مطابق فیصلہ کرتا ہے نہ ہی اس کا انکار،تو وہ اوپر بیان کردہ کافر کی طرح نہیں اور اس پر کفر کا حکم لگا کر ملت اسلامیہ سے خارج نہیں کیا جائے گا،کیونکہ وہ مومن ہے۔زیادہ سے زیادہ اس کے کفر کو عمل کفر قراردیا جائےگا۔اس مسئلہ میں یہ بنیادی نقطہ ہے۔جس سے اسلام کے مطابق فیصلہ کرانے کے خواہش مند بہت سے جذباتی نوجوان غافل ہیں۔اسی بناء پر وہ بہت سے علاقوں میں ان حکمرانوں کے خلاف خروج کرتے ہیں جو اسلام کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے یہی وجہ ہے کہ بہت سے فتنے واقع ہوگئے ہیں اور ایسی جنگ جس کی کوئی تیاری نہیں ہے میں ناحق خون بہہ رہاہے۔

میرے نزدیک یہ فرض ہے کہ اسلام کو عقائد باطلہ،بے کار فیصلوں'مخالف سنت آراء فاسدہ سے پاک وصاف کیا جائے اور اس مصفی اسلام پر لوگوں کی تربیت کی جائے۔واللہ المستعان۔(نظم الفرائد؛1/57۔64)

 ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ البانیہ

ایمان کے مسائل کا بیان وعده "وعید" تارک الصلاۃ کاحکم صفحہ:97

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)