فتاویٰ جات: علوم قرآن
فتویٰ نمبر : 2217
(713) قرآن مجید کی موجودہ ترتیب کا موجد
شروع از بتاریخ : 23 October 2012 04:23 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

قرآنِ پاک کی موجودہ ترتیب، کس طرح عمل میں آئی؟

مثلاً کس کی تجویز پرایک منتخب حصّے کو پارہ کی، رکوع کی، ربع، نصف، ثلاثہ کی شکل دی گئی؟

مزید یہ کہ اس پر اعراب کس نے لگائے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

معنی اور تلاوت کے اعتبار سے تقسیم: معنوی اعتبار سے قرآن ،آیات اور سورتوں پر مشتمل ہے۔اور تلاوت کے اعتبار سے اسے کئی حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے مثلًااحزاب ،رکوع،سپارے،اخماس،اعشار وغیرہ۔ یہ تقسیم ایسی خصوصیت ہے جس میں دنیا کی کوئی اور کتاب اس کے ہم پلہ نہیں۔جاحظ کا کہنا ہے: اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کا ایسا نام رکھا ہے جو عربوں کے کلام سے مختلف ہے۔ اپنے سارے کلام کو اس نے قرآن کہا جیسے انہوں نے دیوان کہا۔اس کی سورتیں قصیدہ کی مانند ہیں اور آیت بیت کی طرح اور اس کا آخر قافیہ سے ملتا جلتا ہے۔

قرآن پاک کی اکائی آیت ہے۔ جس کا مطلب ہے نشانی۔ آیتوں سے مل کر سورتیں بنتی ہیں۔ سورت کے معنی فصیل(Boundry Wall) کے ہیں۔ آیتوں اور سورتوں کی ترتیب اور تقسیم کے بارے میں دو آراء پائی جاتی ہیں۔ ایک رائے کے مطابق یہ ترتیب و تقسیم توقیفی ہے اور دوسری رائے یہ ہے کہ یہ ترتیب اجتہادی ہے۔ ان میں سے پہلی رائے زیادہ درست اور قابل اعتماد ہے اور اس کے دلائل بھی زیادہ قوی ہیںجو درج ذیل ہیں۔

٭ وہ احادیث جو سورتوں کے فضائل سے متعلق ہیں وہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ سورتیں عہد نبوی ﷺ میں مرتب ہو چکی تھیں۔ مثلًا ارشاد نبویﷺ ہے کہ ’’جو سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات رات کو پڑھ لے وہ اس کے لئے کافی ہیں۔‘‘ (سنن ترمذی: ۲۸۸۱، حسن، صحیح)

٭ وہ احادیث جو کتابت قرآن سے متعلق ہیں وہ بھی آیات و سورتوں کی ترتیب توقیفی کی دلیل ہیں۔ مثلًا سیدنا عثمان ؓ فرماتے ہیں: آپﷺ وحی نازل ہونے کے بعد کاتبین وحی کو بلواتے اور فرماتے کہ ان آیتوں کو اس سورت میں اس جگہ پر رکھو جہاں اِن باتوں کا ذکر ہے۔(سنن ترمذی)

٭ احادیث میں اگر کہیں سورتوں کی تلاوت کا غیر مرتب ذکر ہے تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ سورتوں کی تلاوت میں ترتیب واجب نہیں بلکہ آگے پیچھے کی جا سکتی ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہوسکتا کہ سورتوں کی ترتیب اجتہادی ہے۔ ان دلائل کے علاوہ ایک عقلی دلیل یہ ہے کہ موجودہ ترتیب میں لفظ ’حم‘ ایسی سورتوں کے شروع میں ہے جو یکے بعد دیگرے آتی ہیں۔ لیکن ’’مسبحات‘‘ (سبح سے شروع ہونے والی سورتیں) میں ایسی ترتیب نہیں ہے بلکہ یہ سورتیں الگ الگ مقامات پر آتی ہیں۔ اگر ترتیب آیات و سور اجتہادی ہوتیں تو حمکی طرح ’’مسبحات‘‘ کو بھی ایک دوسرے کے بعدجمع کر دیا جاتا۔

٭ علامہ سیوطیؒ نے لکھا ہے کہ صحابہ کرامؓ نے قرآن کو بین دفتین ( دو گتوں کے درمیان) عہد صدیقی میں جمع کیا۔ اس میں کسی قسم کی زیادتی یا کمی نہیں کی ۔ اس کو بالکل ویسا ہی لکھا جیسا انہوں نے نبی اکرمﷺ سے سنا یعنی ترتیب میں بھی کسی قسم کی تقدیم و تاخیر نہیں کی۔ ان کے بعد تابعین نے بھی اس ترتیب کو یاد کیا، لکھا اور نسلًا بعد نسل آج بھی اسی طرح ہمارے پاس محفوظ ہے۔(الاتقان:۷۱)

٭ یہ ترتیب حفظ قرآن کے لئے آسان اور شوق دلانے والی ہے۔ ہر سورت کا ایک موضوع ہے اور مقاصد ہیں۔ لمبی سورت ہونا اس کے معجزانہ ہونے کی شرط نہیں۔ سورۃ الکوثر بھی تو معجز ہے۔

اخماس اور اعشار: ابتداء میں قرآن میں اخماس اور اعشار کی علامات بھی لگائی جاتیں۔ اخماس سے مراد یہ تھی کہ ہر پانچ آیات کے بعد حاشیہ پر لفظ ’’خماس‘‘یا ’’خ‘‘لکھ دیتے تھے جبکہ ہر دس آیتوں کے بعد ’’عشر‘‘یا ’’ع‘‘لکھ دیتے تھے۔ جو رمز (Abbreviation) تھے۔(مناہل العرفان ۱؍۳ ۴۰) ایک قول کے مطابق حجاج بن یوسف ان کا اولین موجد ہے جبکہ دوسرا قول یہ ہے کہ خلیفہ مامون ان کا موجدتھا۔(البرہان ۱؍۲۵۱) ایک اور قول یہ ہے کہ صحابہؓ کے دور میں ان علامات کا وجود ملتا ہے۔مثلاً مسروقؒکہتے ہیں ’’ عبد اللہؓ بن مسعود مصحف میں اعشار کے نشان کو مکروہ سمجھتے تھے۔‘‘(مصنف ابن ابی شیبہ۲؍۲۱۱) جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے موجد صحابہ رسول تھے۔اب یہ سب علامات عنقا ہوگئی ہیں۔

سورت: اسے عربی میں تاء مربوطہ کے ساتھ لکھا جاتا ہے۔ جس کی جمع سُوَر آتی ہے۔ اس لفظ کو دو حیثیتوں سے بولا جاتا ہے:

۱۔ السُّؤْرَۃ: ہمزہ کے ساتھ۔ جو أَسْأَرَ سے مشتق ہے۔ جس کا معنی ہے: أَبْقٰی۔ باقی رہنے والا۔ السُّؤْرُ: باقی ماندہ۔ پانی جو پی کر برتن یا گلاس میں چھوڑ دیا جائے۔ اسے یہ نام اس لئے دیا گیا ہے گویا کہ سؤرۃ بھی سارے قرآن کا بقیہ حصہ ہے اور اس کا ایک ٹکڑا ہے۔

۲۔ السُّوْرَۃ: بغیر ہمزہ کے۔اس کا معنی مقام ومرتبہ ہے یا لمبی و خوبصورت عمارت ہو جو ایک علامت ہو۔ اس اعتبار سے سورت نام پھر اس لئے ہے کہ یہ اپنے مرتبے اور مقام کے اعتبار سے اس سچائی کی علامت ہے جو اس میں بیان کی گئی ہے۔اور ایک دلیل بھی ہے کہ یہ سارا قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اس کا کلام ہے۔قلعے کی اونچی دیوار کو سُوْر کہتے ہیں۔ دو وجہ سے لفظ سورت اس لفظ کے مشابہ ہے:

۱۔ دیوار اونچی محسوس ہوتی ہے۔ سورت اپنے معنی ومفہوم کے اعتبار سے بھی بلند وبالا محسوس ہوتی ہے۔

۲۔دیوار کی اٹھان ایک دوسرے پر رکھی گئی اینٹوں پر ہوتی ہے۔ آیات جویکے بعد دیگرے آتی ہیں سورت کی اٹھان بھی ان پر ہوتی ہے۔

علماء قرآن کے نزدیک سورت قرآن کریم کی آیات کے اس مجموعے کو کہتے ہیں جس کا ایک مطلع یعنی آغاز ہوتا ہے اور اس کا ایک مقطع یعنی اختتام ہوتا ہے۔یہ سب ایک سو چودہ سورتیں ہیں جس کا آغاز الفاتحہ سے اور اختتام الناس سے ہوتا ہے۔اکثر سورتیں ایسی ہیں جن کا ایک ہی نام ہے جیسے النساء، الاعراف، الأنعام، مریم وغیرہ۔ مگر کچھ ایسی بھی ہیں جن کے متعدد نام ہیں۔ان میں کسی کے دو نام ہیں: جیسے: محمد، اس کا ایک نام القتال بھی ہے۔ اور الجاثیۃ اس کا دوسرا نام الشریعہ بھی ہے۔ سورۃ النحل کا دوسرا نام النِّعَم ہے اس لئے کہ اس میں متعدد نعمتوں کا ذکر ہے۔

اسی طرح سورہ المائدۃ کے دو اور نام ہیں: العُقُود، اورالمُنْقِذَة، سورۃ غافر کے بھی اسی طرح دو اور نام ہیں: الطَّوْل اور المُؤمِن۔

بعض سورتیں ایسی ہیں جن کے تین سے زیادہ نام ہیں: مثلاً: سورۃ التوبۃ کے یہ نام بھی ہیں: بَرَاءَة، الفاضِحَة اور الحَافِرَۃ، سیدنا حذیفہ فرماتے ہیں یہ سورۃ العذاب ہے۔ ابن عمرؓ فرمایا کرتے: ہم اسے المُشَقْشِقَة کہا کرتے۔ اور الحارث بن یزید کہتے ہیں: اسے المُبَعْثَرَة ، المُسَوَّرة اور البَحُوث بھی کہا جاتا۔(البرہان ۱؍۵۲۱) اسی طرح سورۃ فاتحہ کے امام سیوطی ؒنے پچیس نام لکھے ہیں۔

کچھ سورتوں کا ایک ہی نام ہے: جیسے البقرۃ اور آل عمران کو الزہراوَین کہا جاتا ہے۔ اور الفلق اور الناس کو المُعَوَّذَتَیْن اور وہ پانچ سورتیں جن کا آغاز حٰم سے ہوتا ہے انہیں آل حامیم یا حوامیم کہتے ہیں۔

آیت: عربی زبان میں لفظ آیت کے متعدد معانی ہیں۔معجزہ، علامت اور عبرت کے معنی میں بھی آیت کا لفظ قرآن کریم میں مستعمل ہوا ہے۔برہان اور دلیل کے معنی بھی یہ لفظ دیتا ہے۔ اسی طرح لفظ آیت حیران کن معاملے کے لئے بھی ہے جیسے: فُلانٌ آیَة فِی الْعِلْمِ وَفِی الْجَمَالِ۔ فلان شخص علم میں یا جمال میں ایک آیت ہے مراد یہ کہ اس کا علم یا جمال حیران کن ہے۔ اسی طرح لفظ آیت: جماعت کے معنی میں بھی بولا جاتا ہے۔ جیسے عرب کہا کرتے ہیں: خَرَجَ الْقَوْمُ بِآیَتِہِمْ۔ لوگ اپنی آیت یعنی جماعت سمیت نکل آئے۔

اصطلاح میں الفاظ وحروف کا وہ مجموعہ جس کا مطلع یعنی آغاز اور مقطع یعنی اختتام قرآن کریم کی کسی سورت میں درج ہو۔ یعنی قرآن کریم کی سورت کا ایک ایسا ٹکڑا ہے جس کا اپنا آغاز ہے اور اپنی انتہاء بھی۔ اور ہر آیت، اگلی وپچھلی آیت سے گہرا تعلق بھی رکھتی ہے۔قرآن مجید میں کل چھ ہزار دو سو آیات ہیں ۔ علماء کا ان کی تعداد میں اختلاف وقف کا ہے یعنی محض دو آیتوں کو ایک سمجھنے یا ہر آیت کو الگ الگ سمجھنے کی وجہ سے ہے۔آیات قرآنیہ کی ترتیب توقیفی ہے۔جبریل امین نے جس طرح آپ ﷺ کے قلب اطہر پر اتاریں اسی ترتیب سے آپ ﷺ نے انہیں اپنی نمازوں اور خطبوں میں پڑھا۔ یہی ترتیب ملحوظ رکھنا فرض ہے۔ آیت کی ابتداء اور انتہاء کے بارے میں آگاہی بھی آپ ﷺ ہی نے دی ہے۔مثلًا سورہ فاتحہ کو آپ نے سبع مثانی فرمایا۔ سورہ بقرہ کی آخری دو آیتوں کی تحدید بھی آپ نے فرمائی چنانچہ آپ نے فرمایا: مَنْ قَرَأَ بِالْآیَتَیْنِ مِنْ آخِرِسُوْرَة الْبَقَرَۃِ فِیْ لَیْلَة کَفَتَاہُ۔ جس نے رات کو سورہ بقرہ کی آخری دو آیتوں کی تلاوت کی وہ اسے کافی ہوں گی۔ (متفق علیہ)اوریہ بھی فرمایا: تَکْفِیْکَ آیَة الصَّیْفِ الَّتِیْ فِیْ آخِرِ سُوْرَۃِ النِّسَاءِ۔ تمہیں آیت صیف ہی کافی ہوگی جو سورہ نساء کے آخر میں ہے۔(مسند احمد۱؍۲۶) اسی طرح بعض علماء نے ہرسورہ کے شروع میں حروف مقطعات کو بھی آیت شمار کیا ہے۔ سوائے حم عسق کے اسے کوفی علماء نے دو آیتیں قرار دیا ہے اور طس، یس، الر اور المر کو بھی آیت شمار کیا ہے مگر صرف ایک حرف یعنی ق، ن، ص کو آیت شمار نہیں کیا۔ علماء کی ایک رائے یہ بھی ہے کہ ہر آیت پر وقف سنت ہے جس کی اتباع ضروری ہے۔ آیات کے اعتبار سے قرآن کریم کی عین درمیانی آیت سورۃ الشعراء کی آیت نمبر ۴۵ ہے جو ﴿یأفکون﴾پر ختم ہوتی ہے۔ کلمات کے اعتبار سے نصف سورہ الحج کی آیت نمبر ۲۰ میں ﴿والجلود﴾ اور اس کے بعد باقی نصف آخر تک۔ حروف کے اعتبار سے سورہ الکہف میں لفظ ﴿نکراً﴾ میں نون اور اس کا کاف اگلے نصف ثانی کے لئے شروع ہوتا ہے۔یہ بھی ایک رائے ہے کہ ﴿تستطیع﴾کی عین نصف ہے اور دوسری یہ بھی ﴿ولیتلطف﴾ میں دوسری لام بھی عین نصف ہے۔اسی طرح آیت دلیل، برہان اور معجزہ کو بھی کہتے ہیں اس لئے اس میں حیران کن احکام، عقائد اور تنبیہ ودروس ہوتے ہیں۔ اور اپنی بلاغت وفصاحت میں بھی منفرد ہوتی ہے۔

رکوع: رکوع کی علامت ’’ع‘‘ ہے جو حاشیہ پر لکھی جاتی ہے۔ رکوع کی علامت کا آغاز دور صحابہؓ کے بعد ہوا۔ایک رائے کے مطابق یہ تقسیم حجاج بن یوسف نے کی۔ یہ علامت اس جگہ لگائی گئی جہاں سلسلہ کلام ختم ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ معنی کو بھی مدنظر رکھاگیا۔ لہٰذایہ تقسیم بہت حد تک صحیح ہے۔ اس علامت کا مقصد آیات کی ایسی مقدار کا تعین تھا جو نماز کی ایک رکعت میں پڑھی جاسکے۔ اسی لئے اس کو رکوع کانام دیا گیا کہ وہ مقام جہاں نماز میں قراءت ختم کر کے رکوع کیا جائے۔اس کا تعلق نماز تراویح سے نہ تھا بلکہ بعد میں یہ بات مشائخ کے اپنے اجتہاد و فعل کی طرف منسوب کی گئی۔ فتاوٰی عالمگیریہ میں یہ تحریر ملتی ہے : مشائخ احناف نے قرآن کو پانچ سو چالیس رکوع میں تقسیم کیا ہے اور مصاحف میں اس کی علامات بنادی ہیں تاکہ تراویح میں ستائیسویں شب کو قرآن ختم ہو سکے۔ (فتاویٰ عالم گیری : فصل التراویح: ۹۴) بعد میں بعض خوش نویسوں نے طویل رکوعوں کی مزید تقسیم کر دی اور ۵۴۰ کی بجائے ۵۵۸ رکوع کے نشان بنا دیے اور طلبہ کی آسانی کے لئے پاک وہند میں شائع ہونے والے قرآن کریم میں ہر رکوع پر مخصوص نمبر لگادئے۔ ع، رکوع کا مخفف ہے اس کے اوپر لکھے ہوئے عدد کا مطلب ہے کہ یہ اس سورہ کا رکوع نمبرہے اور درمیان میں لکھے گئے عدد سے مراد اس رکوع کی کل آیات ہیں اور سب سے نیچے لکھے ہوئے عدد سے مراد اس پارے کے رکوع کا نمبر ہے۔

سپارے: قرآن کی ایک اور تقسیم پاروں کے اعتبار سے بھی کی گئی۔ یہ تقسیم کس نے کی، نام متعین نہیں ہوسکا۔ لیکن یہ تقسیم ایسی عجیب سی ہے جس میں معنی او رسلسلہ کلام کا خیال نہیں رکھا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات پارہ بالکل ادھوری بات پر ختم ہو جاتا ہے۔اس لئے یہ تقسیم پسند نہیں کی گئی۔ ایک رائے کے مطابق یہ تقسیم بچوں کو قرآن پڑھانے میں آسانی کے لئے کی گئی۔ علامہ بدرالدین زرکشیؒ کا کہنا ہے: قرآن پاک کے تیس پارے جو مشہور چلے آرہے ہیں مدارس کے نسخوں میں انہی کارواج ہے۔(البرہان ۱؍۲۵۰) جبکہ ایک اور رائے کے مطابق یہ تقسیم اس لئے کی گئی کہ قرآن، مہینہ میں ختم کیا جا سکے۔ اس رائے کی بنیاد ایک حدیث پر ہے کہ نبی ﷺ نے سیدناعبداللہ بن عمرؓ وسے فرمایا:

"قرآن ایک مہینے میں ختم کیا کر و اور جب انہوں نے عرض کیا کہ میں تو اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں تو فرمایا کہ اچھا تو پھر ایک ہفتہ میں قرآن ختم کیا کرو"۔

بہر حال یہ تقسیم بھی تعداد میں آیتوں کی گنتی کر کے بنائی گئی ہے جو غیر منطقی ہے اس میں پھرمناسب تبدیلی کی گئی۔ ہر پارہ کو تقریباً دو برابر حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ اور پھر چار حصوں میں -جو ربع اور نصف سے معروف ہیں۔ مجمع الملک فہد سے شائع ہونے والے قرآن مجید میں یہی ترتیب سپارہ بہتر کردی گئی ہے ۔ ہر آدھے پارے کو حزب قرار دیا گیا ہے۔ ابتداء سے انتہاء قرآن کریم تک ان احزاب کو مسلسل اور ترتیب وار شمار کیا گیا ہے اور پھر ہر حزب کو چار حصوں میں تقسیم کرکے آسانی کردی گئی ہے۔

هذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فتویٰ کمیٹی

محدث فتویٰ



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)