فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 22032
(4) اللہ تعالی کا وجود اور ربوبیت کا ثبوت
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 17 July 2017 03:41 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

موجودہ دور میں اللہ کے وجود اور اس کی ربوبیت کو ثابت کرنے کے لیے مقالات،تالیفات اور محاضرات کا کثرت سے اہتمام کیاجاتاہے،مگر توحید الوہیت جو اس کا لازم اور تقاضا ہے اس کے اثبات کے لیے اس سے استدلال نہیں کیا جاتا،جس کے نتیجہ میں لوگوں کے درمیان توحید الوہیت سے ناواقفیت،اوراس سلسلہ میں سستی وکاہلی پائی جاتی ہے،اس لیے بہتر ہوگا کہ آپ توحید الوہیت کی اہمیت پر اس پہلو سے روشنی ڈال دیں کہ یہی مدار نجات اور سارے رسولوں کی دعوت کا نقطہ آغاز ہے ،نیز یہی وہ بنیاد ہے جس پر دین کے دوسرے امور قائم ہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں پر ا پنے حق کو واضح کرنے اور انہیں غیر اللہ کو چھوڑ کر خالص اللہ کی عبادت کی طرف بلانے ہی کے لیے دنیا میں رسولوں کو بھیجا اور آسمان سے کتابیں اتاریں،کیونکہ اس روئے زمین پر بسنے والوں میں اکثر لوگوں نے اس بات کو توجانا کہ اللہ ہی ان کا مالک وخالق اور رازق ہے،مگر جہالت ونادانی اور آباءواجداد کی تقلید میں اپنی ساری یابعض عبادتوں کو غیر اللہ کے لیے انجام دے کروہ شرک کے مرتکب ہوئے،جیسا کہ نوح  علیہ السلام  کی قوم اور ان کے بعد کی قوموں،نیز اس امت کے پہلے لوگوں کے ساتھ پیش آیا،چنانچہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے جب انہیں اللہ کی توحید کی دعوت دی تو انہوں نے آپ کی د عوت کو ناپسند کیا اور اس کا انکار کرتے ہوئے کہا:

﴿ أَجَعَلَ الءالِهَةَ إِلـٰهًا و‌ٰحِدًا إِنَّ هـٰذا لَشَىءٌ عُجابٌ ﴿٥﴾... سورةص

کیااس نے سارے معبودوں کو ایک معبود بنادیا،یہ تو بڑی انوکھی بات ہے۔

ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿إِنَّهُم كانوا إِذا قيلَ لَهُم لا إِلـٰهَ إِلَّا اللَّهُ يَستَكبِرونَ ﴿٣٥ وَيَقولونَ أَئِنّا لَتارِكوا ءالِهَتِنا لِشاعِرٍ مَجنونٍ ﴿٣٦﴾... سورةالصافات

"یہ وه (لوگ) ہیں کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو یہ سرکشی کرتے تھے (35) اور کہتے تھے کہ کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک دیوانے شاعر کی بات پر چھوڑ دیں؟"

اور فرمایا:

﴿إِنّا وَجَدنا ءاباءَنا عَلىٰ أُمَّةٍ وَإِنّا عَلىٰ ءاثـٰرِهِم مُقتَدونَ ﴿٢٣﴾... سورةالزخرف

"ہم نے اپنے باپ داداکو ایک دین پر پایا ہے اور ہم تو انہیں کے قدم بقدم چلنے والے ہیں"

اس مفہوم کی اور بھی بہت سی آیتیں موجود ہیں۔

لہذا علمائے اسلام اور داعیان حق پر واجب ہے کہ وہ لوگوں کو توحید الوہیت کی حقیقت بتائیں،نیز توحید الوہیت کے درمیان اور توحید ربوبیت اور توحید اسماء وصفات کے درمیان فرق واضح کریں،کیونکہ غیر مسلموں سے قطع نظر خود بہت سے مسلمان اس سے ناواقف ہیں۔

چنانچہ کفار قریش،دیگر عرب اور اکثر قوم کے لوگ یہ جانتے تھے کہ اللہ ہی ان کا خالق اور رازق ہے ،اسی لیے اللہ نے ان پر اسی بات سے حجت قائم کی ہے،کیونکہ اللہ عزوجل بندوں کی عبادت کا مستحق اسی لیے ہے کہ وہ ان کا خالق،رازق اور پورے طور پر ان پرقادر ہے،اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَلَئِن سَأَلتَهُم مَن خَلَقَهُم لَيَقولُنَّ اللَّهُ ...﴿٨٧﴾... سورةالزخرف

اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ ان کو کس نے پیدا کیا،تو یہ ضرور یہی کہیں گے کہ اللہ نے۔

اورفرمایا:

﴿وَلَئِن سَأَلتَهُم مَن خَلَقَ السَّمـٰو‌ٰتِ وَالأَرضَ وَسَخَّرَ الشَّمسَ وَالقَمَرَ لَيَقولُنَّ اللَّهُ ...﴿٦١﴾... سورةالعنكبوت

اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمان اورزمین کس نے پیدا کیے،اور سورج اور چاند کو کس نے کام میں لگایا توضرور یہی کہیں گے کہ اللہ نے۔

اور اللہ نے اپنے نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کو یہ حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ ان سے پوچھیں انہیں روزی کون دیتاہے:

﴿قُل مَن يَرزُقُكُم مِنَ السَّماءِ وَالأَرضِ أَمَّن يَملِكُ السَّمعَ وَالأَبصـٰرَ وَمَن يُخرِجُ الحَىَّ مِنَ المَيِّتِ وَيُخرِجُ المَيِّتَ مِنَ الحَىِّ وَمَن يُدَبِّرُ الأَمرَ فَسَيَقولونَ اللَّهُ فَقُل أَفَلا تَتَّقونَ ﴿٣١﴾... سورةيونس

"آپ کہیے کہ وه کون ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق پہنچاتا ہے یا وه کون ہے جو کانوں اور آنکھوں پر پورا اختیار رکھتا ہے اور وه کون ہے جو زنده کو مرده سے نکالتا ہے اور مرده کو زنده سے نکالتا ہے اور وه کون ہے جو تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے؟ ضرور وه یہی کہیں گے کہ اللہ تو ان سے کہیے کہ پھر کیوں نہیں ڈرتے"

اس مفہوم کی اور بھی بہت سی آیتیں موجود ہیں،جن میں اللہ تعالیٰ نے کافروں کے توحید الوہیت کے انکار،نیز بتوں اور اللہ کے سوا پوجی جانے والی ہر چیز کی عبادت کے بطلان پر خود ان کے توحید ربوبیت کے اسی اقرار کے ذریعہ ان پر حجت قائم کی ہے۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بندوں کو یہ بھی حکم دیا ہے کہ وہ اس کے اسماء اورصفات پر ایمان لائیں،اور مخلوق کی مشابہت سے اسے پاک رکھیں،چنانچہ فرمایا:

﴿وَلِلَّهِ الأَسماءُ الحُسنىٰ فَادعوهُ بِها... ﴿١٨٠﴾... سورةالاعراف

اور اللہ کے اچھے اچھے نام ہیں ،تو اسے انہی ناموں سے پکارو۔

اور فرمایا:

﴿ هُوَ اللَّهُ الَّذى لا إِلـٰهَ إِلّا هُوَ عـٰلِمُ الغَيبِ وَالشَّهـٰدَةِ هُوَ الرَّحمـٰنُ الرَّحيمُ ﴿٢٢ هُوَ اللَّهُ الَّذى لا إِلـٰهَ إِلّا هُوَ المَلِكُ القُدّوسُ السَّلـٰمُ المُؤمِنُ المُهَيمِنُ العَزيزُ الجَبّارُ المُتَكَبِّرُ سُبحـٰنَ اللَّهِ عَمّا يُشرِكونَ ﴿٢٣ هُوَ اللَّهُ الخـٰلِقُ البارِئُ المُصَوِّرُ لَهُ الأَسماءُ الحُسنىٰ يُسَبِّحُ لَهُ ما فِى السَّمـٰو‌ٰتِ وَالأَرضِ وَهُوَ العَزيزُ الحَكيمُ ﴿٢٤﴾... سورةالحشر

"وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، چھپے کھلے کا جاننے والا مہربان اور رحم کرنے والا (22) وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، بادشاه، نہایت پاک، سب عیبوں سے صاف، امن دینے والا ، نگہبان، غالب زورآور، اور بڑائی والا ، پاک ہے اللہ ان چیزوں سے جنہیں یہ اس کا شریک بناتے ہیں (23) وہی اللہ ہے پیدا کرنے والا وجود بخشنے والا ، صورت بنانے والا ، اسی کے لیے (نہایت) اچھے نام ہیں، ہر چیز خواه وه آسمانوں میں ہو خواه زمین میں ہو اس کی پاکی بیان کرتی ہے، اور وہی غالب حکمت والا ہے "

اور فرمایا:

﴿قُل هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ﴿١ اللَّهُ الصَّمَدُ ﴿٢ لَم يَلِد وَلَم يولَد ﴿٣ وَلَم يَكُن لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ ﴿٤﴾... سورةالإخلاص

"آپ کہہ دیجئے کہ وه اللہ تعالیٰ ایک (ہی) ہے (1) اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے (2) نہ اس سے کوئی پیدا ہوا نہ وه کسی سے پیدا ہوا (3) اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے"

اور فرمایا:

﴿ فَلا تَجعَلوا لِلَّهِ أَندادًا وَأَنتُم تَعلَمونَ ﴿٢٢﴾... سورةالبقرة

"تو جان بوجھ کر کسی کو اللہ کے برابر مت بناؤ"

اور فرمایا:

﴿ لَيسَ كَمِثلِهِ شَىءٌ وَهُوَ السَّميعُ البَصيرُ ﴿١١﴾... سورةالشورىٰ

"اس کی طرح کوئی چیز نہیں،اور وہ سننے والا،دیکھنے والاہے"

اس معنی کی اور بھی بہت سی آیتیں وارد ہیں۔

علمائے کرام نے یہ بات وضاحت کے ساتھ بیان کی ہے کہ توحید ربوبیت،توحید الوہیت یعنی صرف اللہ کی عبادت کرنے کو مستلزم ہے،نیز یہ اس کا لازمہ اور تقاضا ہے،یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں پر اسی بات سے حجت قائم کی ہے،اسی طرح توحید اسماء وصفات کا بھی یہی تقاضا ہے کہ ساری عبادتیں اللہ کے ساتھ خاص کردی جائیں،کیونکہ وہی اپنی ذات اور اسماء وصفات میں باکمال،اور بندوں کا منعم ہے،لہذا وہی اس بات کا سزاوار ہے کہ لوگ اس کی عبادت کریں،اس کے اوامر بجالائیں،اور نواہی سے اجتناب کریں۔

رہی بات توحید عبادت(توحید الوہیت) کی تو اگر کوئی شخص اسے علم وعمل دونوں لحاظ سے اپنا کراس پر کاربند ہوجائے تو یہ توحید کی باقی دونوں قسموں کو بھی شامل ہے،جیسا کہ علماء کرام نے اس بات کو عقیدہ اور تفسیر کی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے،مثلاً تفسیر طبری،تفسیر ابن کثیر،تفسیر بغوی،عبداللہ بن امام احمد کی کتاب السنہ،امام ابن خزیمہ کی کتاب التوحید،اورعلامہ عثمان بن سعید دارمی کی وہ کتاب جسے انہوں نے بشر مریسی کے رد میں لکھی ہے،نیز دیگر علماء سلف کی کتابیں۔

اس موضوع پر جن لوگوں نے بہترین کام کیا ہے ان میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ  رحمۃ اللہ علیہ  اور ان کے شاگرد علامہ ابن قیم  رحمۃ اللہ علیہ  ہیں،اور اسی طرح بارہویں صدی ہجری اور اس کے بعد کے دور میں ائمہ دعوت وتوحید مثلاً امام محمد بن عبدالوہاب  رحمۃ اللہ علیہ ،ان کے آل واحفاد اور تلامذہ نیز ان کے منہج پر چلنے والے دیگر علماء سنت ہیں۔

اس موضوع پر لکھی گئی بہترین کتابوں میں "فتح المجید" اور اس کی اصل"تیسر العزیز الحمید" ہے،پہلی کتاب شیخ عبدالرحمان بن حسن  رحمۃ اللہ علیہ  کی،اور دوسری شیخ سلیمان بن عبداللہ آل شیخ  رحمۃ اللہ علیہ  کی تالیف ہے۔

نیزاس موضوع پر بہترین مجموعہ کتاب "الدررالسنیہ"کے پہلے اجزاء  ہیں،ان میں علامہ شیخ عبدالرحمان بن قاسم  رحمۃ اللہ علیہ  نے آل شیخ کے ائمہ دعوت اور بارہویں صدی ہجری اور اس کے بعد کے دیگر علماء کے عقیدہ اور احکام سے متعلق فتاوی جمع کیے ہیں،میری نصیحت ہے کہ ان کتابوں کے اور ان کے علاوہ علماء سنت کی دیگر کتابوں کے مطالعہ کااہتمام کیا جائے،کیونکہ ان میں بڑے فوائد ہیں۔

انہی مفید کتابوں میں سے"مجموعۃ الرسائل الاولیٰ"ہے جو آل شیخ کے ائمہ دعوت اور دیگر علماء کے رسالوں کا مجموعہ ہے،اور شیخ عبدالرحمان بن حسن،شیخ عبدالطیف بن عبدالرحمان شیخ عبداللہ ابا بطین، شیخ سلیمان بن سمحان،اور دیگرائمہ توحید کی وہ مولفات ہیں جو اہل باطل کی تردید میں لکھی گئی ہیں،یہ کتابیں بڑی مفید ہیں کیونکہ یہ علمی فوائد کے ساتھ اہل باطل کے بہت سارے شکوک وشبہات کے تردید وازالہ پر مشتمل ہیں،اللہ ان علماء وائمہ کواپنی وسیع رحمت سے نوازے،انہیں جنت میں جگہ دے ،اور ہمیں ان کی سچی اتباع کرنے کی توفیق دے۔

اسی طرح"مجلہ البحوث الاسلامیہ" جو ریاست عامہ برائے علمی تحقیقات وافتاء ودعوت وارشاد سے صادر ہوتا ہے ،اس کے شمارے بھی قابل مطالعہ ہیں،جو عقیدہ واحکام سے متعلق گرانقدر علمی تحقیقات اور بے شمار فوائد پر مشتمل ہوتے ہیں۔

ایسے ہی میرے فتاویٰ اور مقالات کے ابتدائی اجزاء جو عقیدہ سے متعلق ہیں یہ بھی بہت مفید ہیں،الحمدللہ یہ سب کتابیں مطبوع اور طلبہ علم کے درمیان متداول ہیں،اللہ ان کی افادیت کو عام کرے۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

ارکانِ اسلام سے متعلق اہم فتاویٰ

صفحہ:35

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)