فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 22026
(43) حاجی کنکریاں مارنا کب شروع کرے گا؟ اور کیسے مارے گا؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 13 July 2017 11:38 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

حاجی کنکریاں مارنا کب شروع کرے گا؟ اور کیسے مارے گا؟ کنکریوں کی تعداد کیا ہو گی ؟ کس جمرہ سے کنکری مارنے کی ابتداء کرے گا؟ اور کہاں انتہاء ہو گی؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بقر عید کے دن پہلے جمرہ کو کنکریاں مارے یعنی اس جمرہ کو جو مکہ مکرمہ سے قریب ہے اور جسے جمرۃ العقبہ کہا جاتا ہے اور اگر کوئی شخص یوم قربانی کی رات کو ہی کنکریاں مارلے تو صحیح ہے لیکن افضل یہی ہے کہ صبح آفتاب نکلنے کے بعد مارے۔غروب آفتاب تک کنکریاں ماری جائیں گی۔ اگر کوئی شخص کسی مجبوری کی وجہ سے غروب آفتاب سے قبل نہ مار سکے تو رات کو مارے۔ کنکریاں یکے بعد دیگر مارے اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہے۔ ایام تشریق میں زوال آفتاب کے بعد کنکریاں مارے پہلےمسجد خیف کے قریب والے جمرہ کو سات کنکریاں مارے ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہے پھر بیچ والے جمرہ کو سات کنکریاں مارے۔ پھر آخری جمرہ کو۔ گیارہ اور بارہ دونوں دن ایسا کرے۔اور اگر کوئی شخص بارہ کو منیٰ سے واپس نہیں جانا چاہتا تو تیرہ کو بھی اسی طرح کنکریاں مارے۔ سنت یہ ہےکہ پہلے اور دوسرے جمرہ کے نزدیک ٹھہرے پہلے جمرہ کی رمی کے بعد قبلہ رخ ہو کر کھڑا ہو۔ اس طرح کہ جمرہ اس کے بائیں جانب ہو۔ اور دیر تک اللہ سے دعا کرے ۔ گیارہ اور بارہ دونوں دن ایسا کرے۔ اور تیرہ کو اگر کنکری مارنے کے لیے منیٰ میں رک گیا ہے تو آخری جمرہ(جو مکہ مکرمہ کےقریب ہے) کنکریاں مارے لیکن اس کے نزدیک نہ ٹھہرے اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  آخری جمرہ کی رمی کے بعد نہیں ٹھہرے تھے۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

حج بیت اللہ اور عمرہ کے متعلق چنداہم فتاوی

صفحہ:44

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)