فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 22025
(42) کیا بغیر عذر ایام تشریق کی کنکریاں رات میں مارنی جائز ہیں؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 13 July 2017 11:37 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا بغیر عذر ایام تشریق کی کنکریاں رات میں مارنی جائز ہیں؟

اور اگر کوئی مرد عورتوں اور کمزوروں کے ساتھ دسویں تاریخ کی رات کو مزدلفہ سے آدھی رات کے بعد روانہ ہو جائے تو کیا وہ جمرہ العقبہ کو ان عورتوں اور کمزور لوگوں کے ساتھ کنکریاں مار سکتا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صحیح قول یہی ہے کہ غروب آفتاب کے بعد کنکریاں مارنا جائز ہے لیکن سنت یہ ہے کہ زوال کے بعد اور غروب سے پہلے کنکریاں مارے۔

بصورت آسانی یہی افضل ہے وگرنہ غروب آفتاب کے بعد مارے۔

جو کوئی کمزور لوگوں اور عورتوں کے ساتھ مزدلفہ سے روانہ ہو جائے اس کا حکم انہی لوگوں کا حکم ہے اس لیے جو طاقتور افراد (محرم مرد،ڈرائیور اور دوسرے طاقتور لوگ) عورتوں کے ساتھ ہوں گےوہ بھی رات کے آخری پہر کنکریاں مار سکتے ہیں۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

حج بیت اللہ اور عمرہ کے متعلق چنداہم فتاوی

صفحہ:43

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)