فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 22024
(41) مریض اور عورت ، بچوں کی طرف سے کنکریاں مارنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 13 July 2017 11:35 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مریض ،عورت اور بچے کی طرف سے کنکریاں مارنے کا کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مریض اور عاجز عورت (مثال کے طور پر حاملہ بھاری بدن والی اور کمزور عورت جو کنکریاں نہیں مار سکتی) کی طرف سے کنکریاں مارناجائزہے طاقتور عورت اپنی کنکریاں خود مارے اور اگر دن میں زوال کے بعد نہ مارسکے تو رات میں مارے۔ جو شخص عید کے دن کنکریاں نہ مار سکے وہ گیارہ کی رات کو مارے اور جو گیارہ کے دن میں نہ مارسکے وہ بارہ کی رات کو مارے اور جو بارہ کے دن میں نہ مارسکے یا زوال کے بعد نہ مار سکے وہ تیرہ کی رات میں مارے۔ طلوع فجر کے ساتھ رمی کا وقت ختم ہو جاتا ہے لیکن گیارہ بارہ اور تیرہ کودن کے وقت صرف زوال کے بعد ہی کنکریاں ماری جائیں گی۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

حج بیت اللہ اور عمرہ کے متعلق چنداہم فتاوی

صفحہ:42

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)