فتویٰ نمبر : 21984
(1) اعمالِ حج و عمرہ کی قسمیں
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 13 July 2017 09:50 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

نسک (اعمال حج و عمرہ) کی تین قسمیں کون سی ہیں، انہیں کیسے ادا کیا جاتا ہےاور حج کی کون سی قسم افضل ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اہل علم نے نسک یعنی اعمال حج کی تین صورتیں بتائی ہیں،اور ان میں سے ہر صورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کی سنت سے ثابت ہے۔

پہلی صورت:صرف عمرہ کا احرام باندھنا۔اس کی صورت یہ ہے کہ عمرہ کرنے والالبيك اللهم عمرۃ۔یا لبيك عمرۃ یا" اللهم إنى أوجبت عمرة " کہے۔ اس کا مشروع طریقہ یہ ہے کہ اگر عمرہ کرنے  والا مرد ہے تو اپنے سلے ہوئے کپڑے اتاردے۔ ،ناف کے نیچے کے بال صاف کرے، بغل کے بال صاف کرے، ناخن تراشے اور مونچھوں کے بال کاٹے ، اس کے بعد نہائے، اس لیے کہ نہانا شرعی طور پر مطلوب ہے، خوشبو لگائے، اور پھر احرام کے کپڑے پہنے۔ یہی افضل طریقہ ہے۔

عورت کے لیے احرام کا کوئی خاص کپڑا نہیں، کوئی بھی کپڑا پہن کر احرام کی نیت کر سکتی ہے، لیکن افضل یہی ہے کہ اس کے کپڑے جاذب نظر خوبصورت اور ایسے نہ ہوں جن سے دیکھنے والے فتنہ میں مبتلا ہوں۔

اگر محرم " اللهم لبيك عمرۃ"کے بعد یہ کہنا چاہے کہ اگر (راستہ میں)کوئی مانع پیش آگیا تو میرا احرام وہیں کھل جائے گا۔ یا یہ کہے کہ یا اللہ میری طرف سے اس عمرہ کو قبول کر۔ یا یہ کہے یا اللہ اسے اچھی طرح ادا کرنے میں میری مدد کر۔ تو کوئی حرج نہیں۔

اگر محرم یہ کہے کہ اگر مجھے کوئی مانع پیش آگیا تو میرا احرام وہیں کھل جائے گا، یا اسی طرح کی کوئی اور عبارت کہے اور اس کے بعد کسی حادثہ کی وجہ سے عمرہ کے اعمال پورے نہ کر سکا ۔تو اس کے لیے احرام کھول دینا جائز ہو گا اور اس پر کوئی جرمانہ واجب نہ ہو گا، اس لیے کہ ضباعہ بنت الزبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہا   رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس آئیں اور کہا کہ میں بیمار ہوں، تو آپ نے فرمایا:"حج نیت کرو اور یہ شرط کر لو کہ اگر بیماری نے مجھے کسی جگہ روک دیا تو میرا احرام وہیں کھل جائے گا۔"یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

بنا بریں اگر کوئی عورت عمرہ کے لیے روانہ ہوتی ہے اور یہ شرط لگاتی ہے، اس کے بعد اسے ماہواری آجاتی ہے اور ہمراہیوں کی وجہ سے طہارت کے وقت تک انتظار نہیں کر سکتی تو اس کے لیے یہ شرعی عذر ہو گا اور احرام کھول دینا جائز ہو گا۔

اسی طرح اگر محرم کوکوئی بیماری ہوجائے، یا کوئی ایسا حادثہ لا حق ہو جائے جو اسے عمرہ کے اعمال پورے نہ کرنے دے(تو یہ عذر شرعی ہو گا اور احرام کھول دینا جائز ہو گا)

یہی حکم حج کا بھی ہے جو نسک کی دوسری صورت ہے، حج کرنے والا یوں کہے۔"اللهم لبيك حجاً"یا "لبيك حجاً" یا "اللهم إني أوجبت حجاً" لیکن افضل یہ ہے کہ اس تلبیہ کی ادائیگی غسل ، خوشبو اور احرام کا کپڑا پہن لینے کے بعد ہو، جیسا کہ اوپر گذر چکا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ ان امور میں حج اور عمرہ کا ایک ہی حکم ہے۔ مسلمان مردوں اور عورتوں کے لیے سنت یہی ہے کہ احرام کی نیت غسل، خوشبو اور ان کا موں کے بعد کرے جو احرام کے وقت کرنے کے ہیں۔ اور اگر یہ کہنے کی ضرورت محسوس کرے کہ میرا احرام وہیں کھل جائے گا جہاں کوئی مانع پیش آئے گا، تو عمرہ کرنے والے کی طرح اس کے لیے بھی ایسا کہنا جائز ہے۔

اگر آدمی نجد ، طائف یا مشرق کی طرف سے آیا ہے تو طائف کے میقات سیل یا وادی قرن سے احرام باندھے، اگر کسی نے میقات سے پہلے ہی احرام کی نیت کر لی تو بھی نیت واقع ہو جائے گا اور اس کی پابندی ضروری ہو گی ، لیکن ایسا کرنا مناسب نہیں ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے میقات سے احرام کی نیت کی تھی، چنانچہ سنت یہی ہے کہ جب میقات پر پہنچے تو احرام باندھے۔

اگر کسی نے اپنے گھر میں یا میقات پر پہنچنے سے پہلے راستہ میں کسی جگہ غسل ، خوشبو اور دیگر امور سے فراغت حاصل کر لی اور احرام کی نیت اور ان امور کے درمیان زیادہ وقفہ نہیں گذرا ہے تو کوئی حرج نہیں۔

جمہور اہل علم کی رائے ہے کہ احرام سے قبل دورکعت نماز پڑھنی مستحب ہے، ان کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی یہ حدیث ہے:"میرے پاس میرے رب کا فرشتہ آیا اور کہا کہ اس مبارک وادی میں نماز پڑھئے اور کہئے کہ میں حج کے ساتھ عمرہ کا ارادہ بھی کرتا ہوں۔"اس حدیث کو بخاری نے روایت کیا ہے ، اور یہ واقعہ وادی ذی الحلیفہ کا ہے۔

دوسری دلیل یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ظہر کی نماز کے بعد احرام کی نیت کی تھی، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ نماز کے بعد احرام کی نیت کرنا افضل ہے۔

جمہور کی یہ رائے اچھی ہے، لیکن احرام کے لیے نماز پڑھنے کے بارے میں کوئی نص صریح یا کوئی صحیح حدیث نہیں پائی جاتی، اس لیے اگر کوئی شخص پڑھتا ہے تو کوئی حرج نہیں۔ اور اگر کسی نے وضو کیا، وضو کی سنت کے طور پر دو رکعت نماز پڑھ لی ، تو یہی دو رکعتیں احرام کے لیے کافی ہو نگی۔

نسک کی تیسری صورت یہ ہے کہ حج اورعمرہ کی ایک ساتھ نیت کی جائے ، ایسی صورت میں حج کرنے والا کہے۔" اللهم لبيك عمرۃ"یا "لبيك اللهم حجًّا وعُمْرَة"یا ایسا کرے کہ میقات پر صرف عمرہ کے لیے تلبیہ کہے اور پھر راستہ میں حج کی بھی نیت کر لے اور طواف کرنے سے پہلے حج کے لیے تلبیہ کہے، اسے حج قران کہتے ہیں، یعنی حج اور عمرہ کو جمع کرنا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے حجۃ الوداع میں حج قران کی نیت کی تھی جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اور دیگرصحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  نے خبر دی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  حجۃ الوداع میں(ھدی ) یعنی قربانی کے جانور ساتھ لے گئے تھے۔ اس لیے قربانی کا جانور ساتھ لے جانے والے کے لیے یہی افضل ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص جانور ساتھ نہیں لے گیاہے تو اس کے لیے افضل حج تمتع ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا یہ آخری فیصلہ تھا، چنانچہ جب آپ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اور طواف اور سعی سے فارغ ہو گئے تو حج قران یا حج افراد کرنے والے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  کو حکم دیا  کہ صرف عمرہ کریں، تو لوگوں نے طواف وسعی  کیا اور بال کٹوا کر حلال ہو گئے، اور اس طرح یہ بات طے پا گئی  کہ حج تمتع افضل ہے اور یہ کہ اگر قارن یا منفرد پہلے عمرہ کی نیت کر لیتا  ہے تو وہ متمتع ہو جائے گا، اگر حج افراد یا قران کی نیت کرتا ہے اور اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہیں لاتا ہے تو امر شرعی یہ ہے کہ طواف وسعی اور بال کٹوانے کے بعد حلال ہو جائے گا اور اس کا حج تمتع میں بدل جائے گا، جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  کو حکم دیا اور فرمایا کہ جو کچھ مجھے اب معلوم ہوا ہے اگر پہلے معلوم ہوا ہوتا تو قربانی کا جانور نہ لاتا اور پہلے عمرہ کی نیت کرتا۔

اگر عمرہ کی نیت سے آنے والا حج کا ارادہ نہیں رکھتا تو اسے معتمر (عمرہ کرنیوالا )کہتے ہیں۔ کبھی اسے تمتع (عمرہ اور پھر حج کرنے والا)بھی کہا جاتا ہے جیسا کہ بعض صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  نے کہا، لیکن فقہاء کی اصطلاح میں اس کو معتمر ہی کہا جائے گا، اگر اس نے حج کی نیت نہیں کی ہے، بلکہ ماہ شوال یا ذی العقدۃ میں صرف عمرہ کی نیت سےآیا ہے، پھر اپنے ملک کو واپس چلا جائے گا۔

لیکن اگر اس کے بعد مکہ مکرمہ میں حج کی نیت سے ٹھہر جاتا ہے تو متمتع ہو جائے گا، اسی طرح اگر کوئی شخص رمضان یا غیر رمضان میں عمرہ کی نیت سے آیا ہے تو اس کو معتمر کہا جائے گا، اور عمرہ بیت اللہ کی زیارت کو کہتے ہیں ۔ متمتع اس کو کہتے ہیں۔ جو رمضان کے بعد(حج کے مہینوں میں)عمرہ کی نیت سے مکہ مکرمہ میں داخل ہوا اور حج کا ارادہ بھی رکھتا ہو، جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے۔

اسی طرح اگر کوئی شخص حج قران کی نیت سے مکہ مکرمہ میں داخل ہوا اور حج کا انتظار کرتا رہا اور احرام نہیں کھولا تو اسے بھی متمتع کہا جائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے:

﴿فَمَن تَمَتَّعَ بِالعُمرَةِ إِلَى الحَجِّ فَمَا استَيسَرَ مِنَ الهَدىِ...﴿١٩٦﴾... سورةالبقرة

یعنی جو شخص عمرہ اور حج کی ایک ساتھ نیت کر ےگا۔ وہ قربانی کرے گا۔

اس سے معلوم ہوا کہ قارن کو متمتع بھی کہا جاتا ہے، صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  سے یہی ثابت ہے۔ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے فرمایا ہے۔

"تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِالْعُمْرَةِ إلَى الْحَجِّ"

 یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے عمرہ اور حج کی نیت کی کی اور تمتع کیا ، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے حج قران کی نیت کی تھی۔

لیکن بہت سے فقہاء کے نزدیک متمتع وہ ہے جو عمرہ کے بعد احرام کھول دے اور آٹھویں ذی الحجہ کو حج کا احرام باندھے ۔ اور اگر عمرہ و حج کو جمع کر دیتا ہے اور احرام نہیں کھولتا تو وہ قارن ہے۔ بہر کیف اگر مسئلہ واضح رہے تو پھر اصطلاحات کی کوئی زیادہ اہمیت باقی نہیں رہتی۔

تو یہ بات واضح ہو گئی کہ متمتع اور قارن کے مسائل ایک جیسےہیں۔دونوں کے اوپر قربانی واجب ہے اور اگر کوئی شخص قربانی کی طاقت نہیں رکھتا تو اسے ایام حج میں تین روزے رکھنے ہوں گے اور سات روزے اپنے ملک واپس جانے کے بعد۔ اور دونوں ہی کو متمتع کہا جاتا ہے۔

لیکن سعی کے بارے میں دونوں کا حکم بدل جاتا ہے، جمہور علماء کے نزدیک متمتع دوسعی کرے گا۔ پہلی سعی عمرہ کے طواف کے ساتھ اور دوسری حج کے طواف کے ساتھ اس لیے کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی حدیث سے یہ بات ثابت ہے کہ(حجۃ الوداع  میں)جن لوگوں نے عمرہ کے بعد احرام کھول دیا تھا اور حج تمتع کی نیت کر لی تھی انھوں نے دو سعی کی۔ پہلی عمرہ کے طواف  کے ساتھ اور دوسری حج کے طواف کے ساتھ۔ لیکن قارن صرف ایک سعی کرے گا۔ اگر طواف قدوم کے ساتھ سعی کر لیتا ہے۔ تو وہی سعی کافی ہو گی ورنہ پھر حج کے طواف کے ساتھ سعی کرے گا۔ جمہور اہل علم کی یہی رائے ہے کہ متمتع دو سعی کرے گا اور قارن ایک اور یہ کہ قارن کو اختیار ہے چاہے طواف قدوم کے ساتھ سعی کر لے بلکہ یہی افضل ہے جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے کیا تھا کہ آپ نے طواف قد وم کے ساتھ سعی بھی کر لی تھی ، اور چاہے تو سعی کو مؤخر کر دے اور حج کے طواف کے ساتھ سعی کرے۔ یہ اللہ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے سہولت پر مبنی امر ہے۔فالحمدللہ علی ذلک۔

ایک اور مسئلہ قابل توجہ ہے وہ یہ کہ اگر متمتع عمرہ کے بعد سفر کے لیے روانہ ہو جائے تو کیا قربانی ساقط ہو جائے گی؟اس بارے میں اہل علم کے درمیان اختلاف ہے، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے یہی مشہور اور ثابت ہے کہ قربانی ساقط نہ ہو گی ، چاہے سفر کر کے اپنے گھر والوں کے پاس پہنچ جائے یا کہیں اور جائے، عام دلائل سے اسی رائے کی تائید ہوتی ہے۔ دوسرے گروہ کا خیال ہے کہ اگر سفر کر کے ایسی جگہ پہنچ جائے جہاں نماز قصر کرنی جائز ہو جاتی ہے اور پھر حج کا احرام باندھ کر مکہ مکرمہ واپس آئے تو مفرد ہو جائے گا اور قربانی ساقط ہو جائے گی۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ قربانی صرف اس وقت ساقط ہو گی جب سفر کر کے اپنے گھر والوں کے پاس پہنچ جائے حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اور ان کے بیٹے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے یہی مروی ہے کہ اگر عمرہ کے بعد وطن لوٹ جائے اور پھر حج کے لیے واپس آئے تو مفرد ہو گا اور قربانی واجب نہ ہو گی ، لیکن اگر وطن کے علاوہ کسی دوسری جگہ کا سفر کیا ہے مثال کے طور پر حج اور عمرہ کے دوران مدینہ منورہ ، جدہ یا طائف چلا جائے تو اس کا حکم متمتع کا ہو گا۔دلائل کے اعتبار سے یہی رائے زیادہ بہتر اور واضح ہے، اس لیے کہ حج اور عمرہ کے دوران سفر کرنے سے متمتع کا حکم ختم نہیں ہوتا ، اور اسے قربانی دینی ہو گی، اس لیے اگر عمرہ کے بعد مدینہ منورہ طائف یاجدہ کا سفر کرتا ہے ،تو وہ متمتع ہی رہے گا، مفرد اسی صورت میں ہو گا کہ وطن واپس چلا جائے( جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اور ان کے بیٹے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے فرمایا ہے)اور پھر میقات سے حج کی نیت کر کے لوٹے ، اس لیے کہ وطن واپسی کے بعد عمرہ اور حج کے درمیان کا تعلق ختم ہو جا تا ہے۔لیکن ایک مسلمان کے لیے احتیاط اسی میں ہے کہ وہ قربانی کرے چاہے وطن ہی کیوں نہ واپس چلا گیا ہو، تاکہ اس اختلاف سے بچا جا سکے جو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی رائے ہے، یا ان لوگوں کی رائے جو یہ کہتے ہیں کہ مسافت قصر تک سفر کرنے سے قربانی ساقط ہو جاتی ہے۔بہتر یہی ہے کہ سنت نبوی کا پورا التزام کیا جائے اور اگر قربانی کی طاقت نہیں رکھتا تو ایام حج میں تین روزے رکھے اور وطن واپسی کے بعد سات روزے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ(جو عمرہ کے ساتھ حج کی نیت کرے وہ حسب استطاعت قربانی کرے)یہ حکم حج تمتع اور حج قران دونوں کے لیے ہے، اس لیے کہ قارن کو متمتع بھی کہا جاتا ہے، جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

حج بیت اللہ اور عمرہ کے متعلق چنداہم فتاوی

صفحہ:3

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)