فتویٰ نمبر : 21983
(120) قرآن خوانی
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 10 July 2017 03:44 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا قرآن خوانی کروانا جائز ہے؟ (ہمشیرہ ابو سہیل۔ ٹنڈوالایا)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

کچھ چیزیں اصل حرام ہوتی ہیں اور کچھ وصفا حرام ہوتی ہیں۔ مثلا خنزیر تو اصلا حرام ہے اور غیراللہ کے نام کا بکرا بھی حرام ہے لیکن یہ بکرا غیراللہ کا نام پکارنے کی وجہ سے حرام ہوا ہے اصلا حلال تھا۔ اسی طرح قرآن مجید پڑھنا اصلا تو حلال و جائز ہے بلکہ ثواب ہے مگر قرآن خوانی کا مروجہ طریقہ حرام ہے۔ حلقہ بندی، مخصوص آیات و سورہ کا ورد و تکرار، اور پھر کسی خاص مقصد یا ایصال ثواب کے لیے پڑھنا۔ ایسے اوصاف ہیں جو قرآن پڑھنے کو ثواب کی بجائے الٹا بدعت یعنی گناہ بنا دیتے ہیں۔

کیونکہ یہ چیزیں سنت سے ثابت نہیں ہیں اور جو عمل سنت سے ثابت نہ ہو۔ بموجب فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:

" من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد " (متفق علیه)

"جس نے ہمارے دین میں کوئی نئی بات نکالی تو وہ مردود ہے۔"

نیز فرمایا:

" شر الامور محدثاتها "

"کاموں میں بدترین کام نئے ایجاد شدہ ہیں۔"

(بخاری، کتاب الاعتصام)

ویسے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ سے یہ بات ثابت ہے کہ نیک کام یا عبادت کو بھی اگر دنیاوی مقاصد کے لیے کیا جائے تو وہ دنیاوی مقاصد پورے ہوں یا نہ ہو۔ دنیا داری کی نیت اس عمل کے ثواب کو برباد یا کم ضرورکر دیتی ہے۔

" إنما الأعمال بالنيات، فمن كانت هجرته إلى الله ورسوله، فهجرته إلى الله ورسوله، ومن كانت هجرته لدنيا يصيبها أو يتزوجها فهجرته إلى ما هاجر إليه " (بخاری، کتاب بدء الوحی)

"اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ جس نے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کی تو واقعی اس کی ہجرت اللہ اور رسول کی طرف ہی ہوئی اور جس نے دنیا کمانے یا کسی عورت سے نکاح کی خاطر ہجرت کی تو اس کی ہجرت کا ثمرہ وہی ہے جس کے لیے اس نے ہجرت کی۔"

لہذا مروجہ قرآن خوانی اپنے دوسرے اوصاف کے اعتبار سے بدعت ہونے کے ساتھ دنیا داری کی نیت کی وجہ سے بھی برباد ہے۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

آپ کے مسائل اور ان کا حل

جلد3۔کتاب الجامع-صفحہ571

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)