فتویٰ نمبر : 21458
(44) تخلیق آدم اور احادیث کا مفہوم
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 29 May 2017 01:34 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی مندرجہ ذیل حدیث کا صحیح  مفہوم کیا ہے؟

خلق الله آدم على صورته.....الخ (بخاری کتاب الاستئیذان باب1)

خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ.....الخ

(مسلم کتاب الجئہ وصفۃ نعیمھا ولہلہا طبع قدیمی کتب خانہ ج2ص 380) ناصر رشید،راولپنڈی)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نےفرمایا:

"إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيَجْتَنِبْ الْوَجْهَ فَإِنَّ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ "

"اگر تم میں کوئی اپنے بھائی سے لڑے تو(اس کے)چہرے پر نہ مارے،اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام   کو اس (شخص) کی صورت پر پیدا کیا ہے۔(صحیح مسلم ج 2 ص 327 ح 2612)

امام ابن خذیمہ  رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث ودیگر احادیث سے یہ ثابت کیا ہے کہ عَلَى صُورَتِهِ سے مراد مضروب ہے،یعنی وہ شخص جسے مارا پیٹا گیا ہے۔(دیکھئے کتاب التوحید ص 37)

اگر کوئی کہے کہ ایک  روایت میں آیا ہے کہ:

"أنَّ الله خلق آدم على صورة الرحمن "

اللہ تعالیٰ نے بے شک آدم کو الرحمٰن کی صورت پر پیدا کیا۔

(کتاب التوحید لابن خذیمہ ص 38،المعجم الکبیر للطبرانی ج12ص 430 ح13580 ،وغیرہما)

تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ روایت اصول حدیث کی رو سے ضعیف ہے۔اس کے دو راوی:الاعمش اور حبیب بن ابی ثابت مدلس تھے اور انھوں نے عن سے روایت کی ہے۔

اصول حدیث میں یہ مقرر ہے کہ مدلس کی عن والی روایت ضعیف ہوتی ہے ۔بعض حنابلہ نے اس حدیث کی تصیح پر ایک بڑی کتاب بھی لکھی ہے مگرنہ تو وہ راویوں کی تصریح سماع ثابت کر سکے ہیں اور نہ کوئی معتبر متعابعت ،لہذا بڑی کتاب لکھنے کاآخر کیا فائدہ ہے؟ (شہادت ،مئی 2000ء)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاوی علمیہ

جلد1۔كتاب العقائد۔صفحہ176

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)