فتاویٰ جات: عقیدہ و منہج
فتویٰ نمبر : 21420
(6) وحدت الوجود اور علمائے دیوبند
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 27 May 2017 01:48 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

(دوسرا سوال یہ ہے کہ)علماء دیوبند میں کون کون اس فلسفہ کے قائل تھے؟(محمد شیروزیر۔پی سی ایس آئی آرلیبارٹریز ،پشاور)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

علمائے دیوبند کے اکابرمیں سے درج ذیل"علماء" وحدت الوجود کے قائل تھے:رشید احمد گنگوہی ،محمد قاسم نانوتوی،حسین احمد مدنی ٹانڈوی،اشرف علی تھانوی اور ان سب کے پیرومرشد حاجی امداد اللہ تھانہ بھونوی۔

حاجی امداد اللہ لکھتے  ہیں:"نکتہ شناسامسئلہ  وحدۃالوجود حق وصحیح  ست ورایں مسئلہ شکسے وشبسے نیست معتقد وفقیر وہمہ مشائخ وفقیر ومعتقد کسانیکہ بافقیر بیعت کردہ وتعلق مید ارندہمیں ست مولوی محمد قاسم صاحب  مرحوم ومولوی رشیداحمد صاحب ومولوی محمد۔یعقوب صاحب ومولوی احمد حسن صاحب وغیرھم ازعزیز ایں فقیر اندوتعلق بافقیر میدارندہیچگاہ خلاف اعتقادات فقیر وخلاف مشرب مشائخ طریق خود مسلکی نخواند پذیر  فت۔۔۔"

"نکتہ شناسامسئلہ وحدۃ الوجود حق وصحیح ہے اس مسئلہ میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے۔فقیر ومشائخ فقیر اور جن لوگوں نے فقیر سے بیعت کی ہے سب کااعتقاد یہی ہے مولوی محمد قاسم صاحب مرحوم ومولوی رشید احمد صاحب ومولوی محمد یعقوب صاحب مولوی احمد حسن صاحب وغیرہم فقیر کے عزیز ہیں اور فقیر سے تعلق رکھتے ہیں کبھی خلاف اعتقادات فقیر وخلاف مشرب مشائخ طریق خود مسلک اختیار نہ کریں گے۔"

(کلیات امدادیہ رسالہ دربیان وحدۃ الوجود ص 218،219 شمائم امدادیہ ص 32)

سرفراز خان صفدر گکھڑوی دیوبندی کے بھائی صوفی عبدالحمید خان سواتی لکھتے ہیں:

"علماء دیوبندکے اکابر مولانامحمد قاسم نانوتوی  رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی 1297ھ) اور مولانا مدنی  رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی 1377ھ) اوردیگر اکابر مسئلہ وحدۃ الوجود کے قائل تھے۔حضرت نانوتوی  رحمۃ اللہ علیہ  کارسالہ بھی اس مسئلہ پر موجود ہے اور متعدد مکاتیب میں بھی اس مسئلہ کا ذکر ہے اور حضرت مولانا حسین احمد مدنی  رحمۃ اللہ علیہ  کے مکاتیب میں بھی اس مسئلہ کی تصویب موجود ہے۔اور مولانا شاہ اشرف علی تھانوی  رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی 1362ھ) نے بھی اس مسئلہ پر بہت کچھ لکھا ہے اور ان سب کے  پیرومرشد حضرت مولانا حاجی شاہ محمد امداد اللہ مہاجر مکی  رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی 1317ھ)تو اس مسئلہ میں بہت انہماک اور تیقن رکھتے تھے۔"(مقالات سواتی حصہ اول ،اکابر علمائے دیوبنداور نظریہ وحدۃ الوجود ص 375)

عبدالحمید سواتی صاحب مزید لکھتے ہیں:

"حضرت مولانا عبیداللہ سندھی  رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی 1363ھ) نے دیوبندی  جماعت کے اوصاف وخصوصیات کے سلسلہ میں لکھا ہے:"اس جماعت کے امتیازی اوصاف میں ہم وحدۃ الوجود،فقہ حنفی کا التزام،ترکی خلافت سے اتصال،تین اصول متعین کرسکتے ہیں،جو اس جماعت کو امیر ولایت علی   رحمۃ اللہ علیہ  کی  جماعت سے جُدا کردیتے ہیں۔"(خطبات ومقالات ص 237)

یہ بات کس قدر افسوس ناک ہے اور کس قدر لاعلمی کی بات ہے کہ یہ کہا جائے کہ علماء دیوبند وحدۃ الوجود کے قائل نہیں تھے۔علماء دیوبند اور ان کے مقتداء پیشواء حضرات بھی اس مسئلہ کے بڑی شدومد سے قائل تھے۔

حکیم الامت مولانا شاہ محمد اشرف علی تھانوی  رحمۃ اللہ علیہ  نے متعدد کتابیں اس موضوع پر لکھی ہیں اور شیخ  ابن عربی ( المتوفی 638ھ) کا دفاع کیا ہے۔"(مقالات سواتی حصہ اول ص375،376)

معلوم ہواکہ اکابر علمائے دیوبند ابن عربی والے عقیدہ وحدت الوجود کے بڑی شدومد سے قائل تھے۔

احمد رضا خان بریلوی لکھتے ہیں:"اوروحدت وجودحق ہے۔"(فتاویٰ  رضویہ نسخہ جدیدہ ج 14 ص 641)

دوسرے مقام پر وحدت کو حق قرار دے کر احمد رضا خان صاحب لکھتے ہیں:

"اور اتحاد باطل اور اس کا معنی الحاد"(فتاویٰ رضویہ ج14 ص618)

عرض ہے کہ وحدت الوجود ہے ہی اتحاد باطل اور الحاد کانام جیسا کہ پہلے سوال کے جواب میں متعدد حوالوں سے ثابت کردیا گیا ہے لہذا وحدت الوجود کو حق قرار دےکر عجیب وغریب تاویلیں کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟(16/مارچ 2008ء) (الحدیث :49)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاوی علمیہ

جلد1۔كتاب العقائد۔صفحہ67

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)