فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 2139
(635) جہاد کے لیے اسلامی ریاست کا ہونا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 10 September 2012 03:02 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

قرآن مجید کی ایک آیت کے بارے میں چند سوال پوچھنا چاہتا ہوں امید ہے جواب عنایت فرمائیں گے۔آیت

﴿أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ قِيلَ لَهُمۡ كُفُّوٓاْ أَيۡدِيَكُمۡ﴾--النساء77

(1)  کیا اس آیت میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ جب تک اسلامی ریاست قائم نہیں ہوتی اس وقت تک قتال فی سبیل اللہ نہ کیا جائے یعنی کیا قتال خلافت وامارت سے مشروط ہے کہ ’’امام‘‘ یا خلیفہ کی قیادت میں ہی ہو گا ؟

(2) اگر روئے زمین پر خلافت قائم نہ ہو تو کیا مسلمان دعوت وتبلیغ ہی کرتے رہیں گے یا کہ بوقت ضرورت قتال بھی کیا جائے گا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

(1)آپ نے قرآن مجید کی آیت کریمہ:

﴿أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ قِيلَ لَهُمۡ كُفُّوٓاْ أَيۡدِيَكُمۡ﴾--نساء77

’’کیا نہ دیکھا تو نے طرف ان لوگوں کی کہ کہا گیا واسطے ان کے بند رکھو ہاتھوں اپنوں کو‘‘  لکھنے کے بعد سوال کیا ہے ’’کیا اس آیت میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ جب تک اسلامی ریاست قائم نہیں ہوتی اس وقت تک قتال فی سبیل اللہ نہ کیا جائے ‘‘ الخ ؟ نہیں! اس آیۃ میں یہ حکم نہیں دیا گیا اور نہ ہی اس میں قتال کو خلافت وامارت سے مشروط بنایا گیا ہے۔

(2) دعوت وتبلیغ اور جہاد وقتال والی آیات کریمہ اور احادیث شریفہ عام ہیں قیام خلافت اور عدم قیام خلافت والی دونوں صورتوں اور حالتوں کو شامل ہیں رسول اللہﷺ کا فرمان ہے:

«مَنْ رَأی مِنْکُمْ مُنْکَرًا فَلْيُغَيِّرهُ بِيَدِهِ فَإِنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِه فَإِنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِه»رواه مسلم-مشكوة-باب الامر بالمعروف الفصل الاول

’’جو شخص تم میں سے کوئی خلاف شرع امر دیکھے اس کو ہاتھ سے روکے اگر اس کی طاقت نہ ہو زبان سے روکے اگر اس کی طاقت بھی نہ رکھتا ہو دل سے برا جانے‘‘ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ قَٰتِلُواْ ٱلَّذِينَ يَلُونَكُم مِّنَ ٱلۡكُفَّارِ﴾--توبة123

’’مسلمانوں تم آس پاس کے کافروں سے لڑو‘

وباللہ التوفیق

احکام و مسائل

جہاد وامارت کے مسائل ج1ص 453

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)