فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 21329
(545) لے پالک کی حقیقت
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 18 May 2017 09:54 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں اولاد سے محروم ہوں، میں نے اپنے دل کو تسلی دینے کے لئے اپنی بہن کے بچے کی پرورش کی ہے، اس کے "ب فارم" میں بطور والد اپنا نام اور بطور والدہ اپنی بیوی کا نام لکھوایا ہے، شرعی طور پر ہمیں اس کی حقیقت سے آگاہ کریں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

دور جاہلیت میں غلط دستور رائج تھا کہ لے پالک بیٹے کو حقیقی بیٹے کا درجہ دیا جاتا تھا اور نقلی باپ کی طرف منسوب کیا جاتا تھا، اس کی اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں آیات نازل کی ہیں، ارشاد باری تعالیٰ ہے:

"اللہ تعالیٰ نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارے حقیقی بیٹے نہیں بنایا، یہ سب تمہارے منہ کی باتیں ہیں۔" (الاحزاب :4)

یہ آیت اس وقت اتری جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو اپنا لے پالک بیٹا قرار دیا اور لوگ انہیں زید بن محمد کہہ کر پکارتے تھے، اللہ تعالیٰ نے اس غلط رسم کی اصلاح کرتے ہوئے فرمایا: "تم ان منہ بولے بیٹوں کو ان کے باپوں کے نام سے پکارا کرو، اللہ کے ہاں یہی انصاف کی بات ہے۔" (الاحزاب :5)

جب یہ آیت نازل ہوئی تو لوگوں نے زید بن حارثہ کہنا شروع کر دیا تھا، ہاں اگر کوئی دوسرے برخوردار کو پیار و محبت سے بیٹا کہہ دے تو اس میں چنداں حرج کی بات نہیں۔ حرج اس وقت ہے جب کسی لے پالک کو حقیقی بیٹے کے حقوق دے دئیے جائیں جیسا کہ صورت مسئولہ میں ہے کہ سائل نے لے پالک کے والد کی جگہ اپنا نام اور اس کی والدہ کی جگہ اپنی بیوی کا نام لکھوایا ہے حالانکہ وہ اس کا حقیقی باپ اور اس کی بیوی اس کی حقیقی ماں نہیں۔ ایسا کرنا قرآن کریم کے ایک صریح حکم کی خلاف ورزی ہے، ایک مسلمان کے شایان شان نہیں کہ وہ دانستہ طور پر اللہ کے حکم کی پروا نہ کرے۔ باپ وہی ہے جس کے نطفہ سے لے پالک پیدا ہوا ہے اور ماں وہی ہے جس نے اسے جنم دیا ہے، اس کے علاوہ نہ کوئی اس کا حقیقی باپ بن سکتا ہے اور نہ کوئی دوسری عورت اس کی ماں بن سکتی ہے۔ اس آیت کریمہ میں یہی حکم دیا گیا ہے کہ ہم ہر شخص کو اس کے حقیقی باپ کی طرف منسوب کریں، کسی دوسرے شخص کی طرف اس کی نسبت نہ کریں۔ اسی طرح لے پالک کو بھی حکم ہے کہ وہ اپنے حقیقی باپ کے علاوہ کسی دوسرے شخص کی طرف اپنی نسبت نہ کرے۔ چنانچہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس نے دوسرے شخص کو دانستہ طور پر اپنا باپ بنایا وہ کافر ہو گیا۔" (صحیح بخاری،المناقب :3508)

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "سب سے بڑا جھوٹ یہ ہے کہ آدمی اپنے حقیقی باپ کو چھوڑ کر کسی دوسرے کی طرف اپنی نسبت کرے۔" (صحیح بخاری،المناقب :3509)

مذکورہ آیت اور درج بالا احادیث کی روشنی میں سائل کو اپنے اس اقدام پر غور کرنا چاہیے کہ وہ کس قدر سنگین جرم کا مرتکب ہے۔ (واللہ اعلم)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد4۔صفحہ نمبر 471

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)