فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 21327
(543) والدہ کا ناراض فوت ہونا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 18 May 2017 09:52 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں بچپن میں اپنی والدہ سے لڑتی جھگڑتی رہتی تھی، جب وہ فوت ہوئی تو مجھ سے ناراض تھی، مجھے اس بات کا بہت افسوس رہتا ہے، اب مجھے اس گناہ کی تلافی کے لئے کیا کرنا چاہیے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بچپن میں اکثر ایسا ہو جاتا ہے کہ بچے اپنے والدین سے لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں، کیونکہ اس عمر میں بچوں کو شعور نہیں ہوتا، وہ کم عمری کی وجہ سے کم عقلی اور جہالت کا شکار رہتے ہیں۔ امید ہے کہ اس عمر میں ایسی کوتاہی قابل مؤاخذہ نہیں ہو گی۔ ہاں صاحب شعور ہونے کے بعد والدین کو ناراض کرنا بہت بڑا جرم اور گناہ ہے۔ ماؤں کے متعلق خصوصی طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ماں کی نافرمانی سے اجتناب کیا جائے۔ اگر والدہ ناراض فوت ہوئی تو اس کے لئے دو کام کرنے سے اس گناہ کی تلافی ہو سکتی ہے:

(1) اللہ تعالیٰ سے اس گناہ کی معافی طلب کی جائے اور اس کے حضور توبہ و استغفار کا نذرانہ پیش کیا جائے، توبہ کرنے سے اللہ تعالیٰ بڑے بڑے گناہ معاف کر دیتا ہے۔ امید ہے توبہ کرنے سے اللہ تعالیٰ یہ گناہ بھی معاف کرے گا۔

(2) والدہ کی طرف سے صدقہ و خیرات کیا جائے اور اس کے حق میں دعائے مغفرت کی جائے، یہ ایسے کام ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی وجہ سے گناہوں کی تلافی کر دیتا ہے۔ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ مذکورہ گناہ بھی معاف کر دے گا۔

انسان کو والدین کے سلسلہ میں بہت حساس رہنا چاہیے، ان کی اطاعت و فرمانبرداری کو حرز جاں بنانا چاہیے اور ان کی نافرمانی سے حتی الوسع اجتناب کیا جائے، والدین اگر کافر بھی ہوں تو بھی ان کا حق الخدمت ساقط نہیں ہوتا، قرآن میں اس کی صراحت ہے۔ (واللہ اعلم)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد4۔صفحہ نمبر 470

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)