فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 21326
(542) مسجد و مدرسہ سے جامعہ اور مرکز تک
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 18 May 2017 09:50 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہمارے ہاں جب کسی کو خدمتِ اسلام کا شوق پیدا ہوتا ہے تو ابتدائی طور پر وہ ایک مدرسہ یا مسجد قائم کرتا ہے، جب عمارت بن جاتی ہے تو اسے جامعہ کا نام دے دیا جاتا ہے پھر جب بیرونی سرمائے سے پرشکوہ جدید عمارت کھڑی ہو جاتی ہے تو اسے مرکز کے نام سے موسوم کر دیا جاتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آج کل "مراکز اسلام" کی بھرمار ہے، براہ کرم اس کی شرعی حیثیت واضح کریں، کیا ایسا کرنا جائز ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ہر ملک کی دو سرحدیں ہوتی ہیں، ایک جغرافیائی اور دوسری نظریاتی۔ جغرافیائی حدود کی حفاظت و نگرانی اس ملک کی فوج کرتی ہے جبکہ نظریاتی سرحدوں کے پاسباں اور نگران دینی مدارس اور مساجد ہیں۔ جو اسباب و ذرائع نایاب یا کمیاب ہونے کے باوجود بھی اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہیں۔ اس حوالہ سے دینی مدارس اور مساجد کی خدمات ناقابل فراموش ہیں، اسلام کی سر بلندی اور باطل نظریات کی سرکوبی کے لئے یہ مدارس و مساجد دن رات مصروف عمل ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی جہود و مساعی کو شرف قبولیت سے نوازے۔

لیکن سوال میں دینی مدارس و مساجد کے حوالہ سے جو بات بیان کی گئی ہے وہ انتہائی باعث افسوس بلکہ جگ ہنسائی کا موجب ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ماہ رمضان کے آتے ہی سفیر حضرات کا ریلا شہروں اور دیہاتوں کا رخ کر لیتا ہے جو مختلف مدارس کے لئے چندہ اکٹھا کرنے میں بھاگ دوڑ کرتے ہیں۔ بعض اوقات تو یہ حضرات اس سلسلہ میں اپنی عزت نفس اور خود داری کو بھی مجروح کر دیتے ہیں، اگرچہ مرکز اہل حدیث 106 راوی روڈ نے اس ریلے کے سامنے بند باندھنے کی بھرپور اور کامیاب کوشش کی ہے لیکن پھر بھی کچھ لوگ اس مضبوط بند کو عبور کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ ابتدائی طور پر ایک مسجد یا مدرسہ ہوتا ہے اور عمارت بننے کے بعد اسے جامعہ کا درجہ دے دیا جاتا ہے پھر بلند و بالا عمارت کے قیام کے بعد اسے "مرکز" سے موسوم کر دیا جاتا ہے۔ حالانکہ عربی زبان میں جامعہ یونیورسٹی کو کہتے ہیں جس کے زیر نگرانی متعدد شعبہ جات ہوتے ہیں، پھر مرکز تو اس سے بھی بڑا ہوتا ہے۔

ہمارے نزدیک ایسا کرنا بدترین خیانت ہے کہ جس مدرسہ میں چند بچے اور بچیاں تعلیم حاصل کرتے ہیں اسے جامعہ یا مرکز سے تعبیر کیا جائے۔ کسی منچلے نے اس کی وضاحت یوں کی تھی کہ ایسے مدارس کو جامعات اس لئے کہتے ہیں کہ وہ چھوٹے بچے اور بچیوں کو اپنے اندر جمع رکھتے ہیں: لانها تجمع البنين و البنات، اس سلسلہ میں مرکز اہل حدیث 106 راوی روڈ کو آگے بڑھ کر اہل حدیث کے مدارس و مساجد کی جماعتی درجہ بندی کر دینی چاہیے۔ اگرچہ وفاق المدارس السلفیہ نے اس سلسلہ میں کامیاب کوشش کی ہے لیکن ابھی کام باقی ہے۔ ایسے مدارس کی سطح پر حوصلہ شکنی ہونی چاہیے جو مدرسہ ہونے کے باوجود خود کو جامعہ یا مرکز کا نام دئیے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے ذمہ داران کو ہدایت دے اور وہ خود ہی اس کی اصلاح کر لیں تو بہتر ہے۔

بالخصوص لفظ مسجد جامع ہے، روز بروز توسیع کے باوجود مسجد حرام، مسجد نبوی، مسجد اقصی، مساجد ہی کہلاتی ہیں اور قرآن پاک نے انہیں مساجد سے ہی تعبیر کیا ہے۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد4۔صفحہ نمبر 469

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)