فتاویٰ جات: علاج ومعالجہ
فتویٰ نمبر : 21309
(525) کیا علاج معالجہ توکل کے منافی ہے؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 17 May 2017 04:41 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میری دونوں آنکھوں میں موتیا آ چکا ہے، دیکھنے میں کافی دقت محسوس ہوتی ہے، میرا حج بیت اللہ کا بھی ارادہ ہے، لیکن تادم تحریر علاج کرانے سے انکاری ہوں، جس کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ فرمان ہے کہ جو لوگ علاج اور دم وغیرہ نہیں کراتے وہ جنت میں بغیر حساب و کتاب داخل ہوں گے، میں یہ فضیلت حاصل کرنا چاہتا ہوں، اس سلسلہ میں میری راہنمائی کریں اور اپنے رجحان کا صاف اظہار کریں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سوال میں جس حدیث کو بنیاد بنا کر علاج معالجہ کو توکل کے منافی قرار دیا گیا ہے اس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میری امت سے ستر ہزار آدمی بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے، جو دم جھاڑ نہیں کرائیں گے اور بدشگونی بھی نہیں لیں گے اور وہ اپنے رب پر توکل کریں گے۔" (صحیح بخاری،الرقاق:6472)

ایک روایت میں ہے کہ وہ علاج کی خاطر آگ سے داغ نہیں دیں گے۔ (صحیح بخاری،الرقاق:5441)

صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ وہ دم کریں گے اور نہ کروائیں گے۔ (صحیح مسلم،الایمان:374)

اس حدیث کو بنیاد بنا کر علاج معالجہ کو توکل کے منافی خیال کیا جاتا ہے جیسا کہ سائل نے وضاحت کی ہے کہ وہ مذکورہ فضیلت حاصل کرنے کے لئے اپنی آنکھوں کے موتیا کا علاج نہیں کروا رہے، حالانکہ اس حدیث میں مطلق علاج کی نفی نہیں بلکہ علاج کی ایک صورت کو بیان کیا گیا ہے کہ آگ کے ذریعے علاج کرنا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وضاحت ایک دوسری حدیث میں فرمائی ہے، آپ نے فرمایا: "تین قسم کی دواؤں میں خیر و برکت ہے: (1) شہد پینے میں، (2) سینگی کے نشتر میں اور (3) آگ کے داغنے میں۔ لیکن میں اپنی امت کو آگ کے داغنے سے منع کرتا ہوں۔" (صحیح بخاری،الطب:5702)

اس حدیث کی روشنی میں ہمارا رجحان یہ ہے کہ مطلق طور پر علاج معالجہ توکل کے منافی نہیں بلکہ وہ علاج توکل کے منافی ہے جو آگ سے داغ دینے کے ذریعے ہو۔ اس لئے سائل کو اپنے علاج معالجے کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ (واللہ اعلم)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد4۔صفحہ نمبر 456

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)