فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 2127
(623) ناجائز کاروبار سے کھانا کھانا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 10 September 2012 11:34 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگر کسی آدمی کا کاروبار سودی ہو یا ناجائز یعنی حرام تو کیا ایسے آدمی کی دعوت کھانے پینے کی قبول کرنا چاہیے کیونکہ ان کی کمائی حرام ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

نہیں ۔ کیونکہ سود حرام ہے ﴿وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾

وباللہ التوفیق

احکام و مسائل

کھانے پینے کے احکام ج1ص 448

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)