فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 2126
(622) یوم عاشورا کو کھانا کھلانا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 10 September 2012 11:31 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
«مَنْ وَسَّعَ عَلٰی عِيَالِه فِی النَّفَقَةِ يَوْمَ عَاشُوْرَآءَ وَسَّعَ اﷲُ عَلَيْهِ سَائِرَ السَّنَةِ»مشكوة شريف

   یعنی جو شخص عاشوراء کے روز یعنی دسویں تاریخ کو اپنے اہل وعیال بال بچوں پر کھلانے پلانے میں وسعت وفراخی کرے گا۔ تو اللہ تعالیٰ اس پر پورا سال فراخی کرے گا حضرت عبداللہ بن مسعود﷜ حضرت سفیان ثوری کہتے ہیں:

«اِنَّا قَدْ جَرَّبْنَاهُ فَوَجَدْنَاهُ کَذَالِکَ»مشكوة شريف

ہم نے تجربہ کیا ہے بے شک اس کو ایسا ہی پایا جیسا کہ حضور ﷤ نے ارشاد فرمایا تھا ۔

(2) دسویں محرم کے روز جو لوگ چاول وغیرہ پکاتے ہیں اور خدا واسطے دیتے ہیں ان کے بارے میں حضور کا فرمان کیاہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

 (1) روایت:

«مَنْ وَسَّعَ عَلٰی عِيَالِه فِی النَّفَقَةِ يَوْمَ عَاشُوْرآءَ»الخ

رسول اللہﷺسے ثابت نہیں محدث وقت شیخ البانی حفظہ اللہ حاشیہ مشکوۃ کتاب الزکاۃ باب فضل الصدقۃ الفصل الثالث میں لکھتے ہیں

«هُوَ حَدِيْثٌ ضَعِيْفٌ مِنْ جَمِيْعِ طُرُقِهِ وَحَکَمَ عَلَيْهِ شَيْخُ الْاِسْلاَمِ ابْنُ تَيْمِيَةَ بِالْوَضْعِ فَمَا اَبْعَدَ ، وَالشَّرِيْعَةُ لاَ تَثْبُتُ بِالتَّجْرِبَةِ»

’’یہ حدیث اپنے تمام طرق سے ضعیف ہے اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس پر گھڑی ہوئی کا  حکم لگایا ہے پس کتنی دوری ہے اور شریعت تجربہ سے ثابت نہیں ہوتی‘‘

(2) محرم کی دس تاریخ کو چاول وغیرہ پکانے پھر فی سبیل اللہ تقسیم کرنے کے بارے میں رسول اللہﷺسے کوئی چیز ثابت نہیں۔

وباللہ التوفیق

احکام و مسائل

کھانے پینے کے احکام ج1ص 447

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)